مصنف کی تحاریر : مریم مجید ڈار

The Free Eve

اس نے کہا یہ جام دیکھ مئے ارغوان سے بھرا ہوا یہ جام دیکھ یہ شام دیکھ! چمپئی کھلی کھلی موتیے کے ہار میں چاندنی گندھی ہوئی اور چاندنی بھی اس طرح گندھی ہوئی کہ بام پر ندی کوئی چڑھی ہوئی!۔ ندی بھی گویا حلب کی مٹھاس میں رچی ہوئی ...

مزید پڑھیں »

ن سیپیوں کو نہیں چْنناہاں

میں نے نہیں چاہا کے یہ ہاتھ مٹی کو چھونے سے ڈریں باہر جانے سے رکیں ہاتھ ملا نے سے رکیں گلے لگانے سے ڈریں میں نے نہیں چاہا کہ یہ ڈر کے جئیں یہ جان کے جئیں کہ باہر جانے سے ڈرنا ہے کہ باہر تو جان لیوا وائرس ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

کلات سٹیٹ نیشنل پارٹی

ہماری ہسٹری کا ایک دلچسپ باب یہ رہا ہے کہ انجمن اِتحاد بلوچاں بظاہرتو ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ مگر اصل میں یہ ختم کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ دوسری تنظیموں کو سب کچھ تج کر گم ہوجاتی رہی اور جب بھی وہ دوسری تنظیم فوت ہونے لگتی ہے تو اچانک ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

نظم

تاریکی میں اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے بیٹھی تھی وہ “تم کیوں آج اتنی اداس ہو؟” — میں نے اپنے عاشق کو کھو دیا وہ میرے گہرے غم کے نشے میں ڈوب رہا تھا میں کیسے بھولوں؟ وہ جھولتا ہوا نکلا چہرے پر کرب اور ویرانی کا سایا میں بھاگی ، ...

مزید پڑھیں »

کھڑکی

شہر میں بلکہ دنیا میں پھیلی وبا کی وجہ سے آج کل میں کمرے میں بند ہوں۔ میرے باہر کی دنیا بس ایک بڑی سی کھڑکی سے نظر آتی ہے جو گھر کے لان کی طرف کھلتی ہے۔ اس کھڑکی کو پتا نہیں کیوں فرینچ ونڈو کہا جاتا ہے۔ شاید ...

مزید پڑھیں »

شام ڈھلے

اب تو عادت سی بن گئی ہے۔ میں شام ڈھلتے ہی لارنس باغ کی سیر کو نکل جاتا ہوں۔ لارنس مجھے سحر زدہ کر دیتا ہے۔ تازہ ہوا، خوشگوار فضا، قدیم، سرسبز، خوبصورت، شاہانہ انداز میں ایستادہ وہ درخت مجھے ہر شام متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور پھر ...

مزید پڑھیں »