مصنف کی تحاریر : مصباح نوید

تائو کاکا

”میں بڑا کھوجی ہوں“ تاؤ کاکا اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر نئی نویلی دلہن کے پاس بگلا بھگت بنا بیٹھا تھا۔ کسی بازیگر کی طرح آستیں میں چھپائے ہوئے، کرتے کی جیب میں میں رکھے ہوئے، سر پر رکھی سافٹ ڈرنگ کی بوتل کے ڈھکن جیسی ٹوپی کے اندر ...

مزید پڑھیں »

تعریف کا خراج فہمیدہ ریاض کو

تاریخ کی خونی گلی تھی، اور فہمیدہ ریاض ٹارچر سیلوں میں تھے کڑیل جوان گمشدہ جن کی جوانی گمشدہ تاریخ کی خونی گلی تھی اور فہمہدہ ریاض عورتیں سنگسار تھیں اورُگناہگارُمحبت آدمی اورانکاری جبیں انسان کی وقت کے سارے خدائوں کے قہر کے سامنے سینہ سپر ایک فہمیدہ ریا ض۔ ...

مزید پڑھیں »

محبت کی ثلاثی. ..

محبت کی اس ثلا ثی کو جب جب لکھا جائے گا,وقت کی آنکھوں میں آنسو لہو بنکر رلائیں گے. ..ساحر کیلیے امرتا نے کہا کہ خواب بننے والا جولاہا ہی رہا کسی کا خواب نہ. بن سکا. . انکے جانے کے بعد انکے بچے سگریٹ کے ٹکڑوں سے قرب کشید ...

مزید پڑھیں »

سندھ دا جوگی

کل راھ تے ویندے ھوئیں میکوں ہک جوگی ٹکرے آکھن لگا ،میڈا بچڑا میں سندھ دریا دی من جمیاں میڈی ساری عمراں سندھ دے کٹھے ھنڈ گئی ھن میں بڈھا تھی گئیاں کہیں ڈیہاڑے واہندے وگدے اگلے پندھ تے ٹر پوساں میڈے مرن پچھوں میڈی ہک اکشا پوری کریں میڈیاں ...

مزید پڑھیں »

جھوک درگاہ پہ سلامی

شاھ عنائیت شہید جھوک شریف ۔۔۔۔ایک ایسا عظیم زمین زادہ جس نے آج سے چار سو سال پہلے مساوات پر مبنی سماج بنانے کا خواب دیکھا اور پھر ایسا سماج بنانے میں لگ گیا، جھوک میں عام انسانوں کا ایک مثالی گاوں بس گیا جہان سب مل جل کر کھیتی ...

مزید پڑھیں »

تماشا گاہ دنیا میں

اڑیں مہکی ہوئی زلفیں جھکیں بے باک سی نظریں بہکنے کو چلیں سانسیں الجھنے کو کہیں باہیں مگر دل میں دبے یہ کاغذی جزبے ضرورت سے بندھے بے نام دھوکے ہیں نہ صبحیں سورجوں کے رنگ پہنے ہیں نہ راتوں کے لئے چندا کے گہنے ہیں نگاہوں نے گھڑی کی ...

مزید پڑھیں »

دعا

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی زہرِ امروز میں شیرینیِ فردا بھردے وہ جنہیں تاب گراں باریِ ایام نہیں اُن کی پلکوں پہ شب وروز کو ہلکا کردے جن کی آنکھوں کو رُخِ صبح کا یارا بھی نہیں اُن کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے جن کی قدموں کو ...

مزید پڑھیں »

کاکیشین حکایات اور رسول حمزہ توف

الاوٗ کے پاس بیٹھے ابو طالب نے قصہ شروع کیا ؛ کاکیشیا کی ایک ریاست میں شاعروں کی بہتات تھی ۔ یہ بستی بستی گھومتے اور اپنے گیت سناتے ، کسی کے ہاتھ میں ‘ پاندور ‘ ہوتا ، کسی کے ہاتھ میں ‘ طنبورہ ‘ ، کسی کے پاس ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ

سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا تی ...

مزید پڑھیں »

ہڑپہ

ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ بہت مشہور ہیں۔ آثار قدیمہ (آرکیالوجیکل سائیٹ)کو بلوچی میں ”دَمب“ کہتے ہیں۔میں حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ ہڑپہ کا دمب کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ سارے رقبے کی کھدائی توبہت پیسہ اور بہت مہارت مانگتی ہے۔ اس لیے اِن آثار کی صرف ...

مزید پڑھیں »