مصنف کی تحاریر : شاہانہ جاوید

میری کوئی مرضی نہیں

میری کیا مرضی ہوگی میری تو گواہی بھی آدھی مانی جاتی ہے، چاہے میں جرم اپنے سامنے اپنے سامنے ہوتا دیکھ بھی لوں تو مجھے اپنی آدھی لولی لنگڑی گواہی کے ساتھ دیوار سے لگا دیا جاتا ہے اور اس کی گواہی پوری مان لی جاتی ہے جو شریکِ جرم ...

مزید پڑھیں »

ہیپی اولڈہومز

” سالا چریا مغز! بک بک کیے جانا تو اس کی پرانی خو ہے۔ اب حرامزادے کو کان بھی لگ گئے ہیں“۔ بائو جی ساری زندگی نستعلیق ہونے کی پریکٹس کرتے رہے۔ مرتے ہی جانے کیوں گالیاں بکنے شروع ہو گئے تھے۔ اوپری لب پر پھیلی ہوئی راکھ رنگ مونچھیں ...

مزید پڑھیں »

کتاب : موہن جودڑو کا جوگی سوبھوگیان چندانی

کتاب : موہن جودڑو کا جوگی سوبھوگیان چندانی مصنف : شاہ محمد مری آخری بار یہ تہیہ کر لیا تھا کہ سنگت اکیڈمی کے عشاق کے قافلے کا جوبھی کتاب پڑھوں اس کا رویو بلوچی میں لکھوں گا۔ لیکن پھر ایک ایسے کتاب یعنی سوبھو صاحب جو کہ سندھ سے ...

مزید پڑھیں »

موچی

  اس کا چہرہ زرد ہے ۔ وہ سڑک کے کنارے دھوپ میں ناامید اور مایوس بیٹھا ہے اور اس کی نگاہیں سب سے پہلے پاس سے گزرنے والے لوگوں کے پیروں پر پڑتی ہیں، یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا اُس کے جوتے پھٹے ہوئے ہیں کہ نہیں؟ تاکہ ...

مزید پڑھیں »

وطن اور محبت کا شاعر — مست توکلی

  شاہ محمد مری کہتا ہے کہ روزِ قیامت اس کے داہنے ہاتھ پہ اس کی مست توکلی پہ لکھی کتاب ہو گی۔ وہ سچ کہتا ہے کہ یہ کتاب خود شاہ محمد مری کے جنون کی داستان ہے۔ یہ اس کے نامہ اعمال کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

رُومی کی پیشنگوئی

  کچھ ایسا ہو جائے گا کہ ہم ۔۔ ایک دوسرے کی تنہائی کو چھو سکیں گے دانائی چکھ سکیں گے اور محبت ۔۔ ہاں محبت میں شریک ہو پائیں گے دُکھ ہمیں دِکھائی دینے لگیں گے ایک دوسرے کے دکھ ۔۔ خواب ہمیں سنائی دینے لگیں گے ایک دوسرے ...

مزید پڑھیں »

کسان کی بیٹی

  نازو اپنے خیالات میں مگن پشتو کا ایک گیت گنگنا رہی تھی۔ ” اے رنگ ریز کل عید ہے ۔ میرے کپڑوں کو جامنی رنگ دو کہ میں نازنین ہوں۔ میرے کپڑوں کو کئی باررنگ میں ڈبو دو۔ ”ہاں کل عید ہے خوشیوں اور مسرتوں کا دن۔ چھوٹے بڑے ...

مزید پڑھیں »

انگریز کے غلام

انگریز افسران، جنہوں نے ھندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وھاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ھے جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں فرق آیا ھوگا۔ یہاں اگر اس طرح کی ...

مزید پڑھیں »

شہ رگ

  نہر کا پاٹ چوڑا تھا‘ اور پانی کا بہاﺅتیز تھا۔ کبھی مورنی سی پیلیں ڈالتابھنور سا گھومتا‘ کبھی پنہاری سی گاگریں لڑھکاتا ‘چھلیں اُڑاتا‘ نہر کے ان عنابی رنگ پانیوں میں عورتیں نہاتیں تو اموکو اپنی گابھن بکریوں کی طرح رس بھری معلوم ہوتیں۔ اُن بکریوں کی طرح جن ...

مزید پڑھیں »

مشید خان

ویسے کچھ لوگ مر کر بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور تاریخ کے سُنہرے اوراق میں ہمیشہ یاد رہتےہیں ایسا ہی ایک نام بائیں بازو کی جماعت عوامی ورکرزپارٹی کے سینئر کارکن مشیدخان کابھی آتا ہے جو 2020 میں دل کادورہ پڑنے کی وجہ سے ہم سے بچھڑگئے تھے مشید ...

مزید پڑھیں »