مصنف کی تحاریر : قندیل بدر

غزل

  لہو سے میں نے سینچی ہے جو سوچی بھی نہیں تو نے جو دنیا میں نے دیکھی ہے وہ دیکھی ہی نہیں تو نے دکھائی دینے لگتے ہیں وہ منظر جو نہیں منظر فلک کی نیلی چادر کیا کبھی کھینچی نہیں تو نے بہت اوپر سے مجھ کو دیکھتا ...

مزید پڑھیں »

خودی

میری ذات ذرہ ذرہ میری ذات کرچی کرچی مجھے یوں ہے جو بکھیرا کہ سمٹ گیا جسم میرا زباں جو لب کشا ہوئی تو دن میں رات بین کرتی جو میں موندھ لوں یہ آنکھیں رات اندھیرے میں مچلتی اری سیاہ کار او بے خبر بنے تو جو میری چارہ ...

مزید پڑھیں »

میر عبداللہ جان جمالدینی کی یاد میں

میرے ساتھی، میرے اُستاد ، میرے مُحسن ۔۔۔ مجھے اپنی نوجوانی بلکہ لڑکپن سے ہی اپنی زبان سے گہرا لگاؤ تھا۔ یہ تقریباً1954 یا1955 کا زمانہ تھا جب میں15 یا 16 برس کا تھا۔ ماہنامہ ’’ اومان‘‘ باقاعدگی سے پڑھنے بلکہ کبھی کبھار اس میں لکھنے کی ’’ مشق‘‘ بھی ...

مزید پڑھیں »

ایک سندیسے کی آس میں

ایک سندیسے کی آس میں ۔۔۔  علی بابا تاج منڈیروں پہ پنچھی جب سے چلنا بھول گئے اڑنا بھول گئے اجلے دن میں دیر تلک کیا رہنا تھا اک منظر جو آنکھ میں اترا بے شکلی میں اک آواز تھی بوسیدہ وقت کے پہلو میں سو وہ بھی سورج پار ...

مزید پڑھیں »

تیزاب اور عورت کا چہرہ

  کوئٹہ شہرہے صوبائی حکومت کادارالحکومت ۔ بروری روڈ کے بھرے بازار میں دن دہاڑے ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کرنے والی ایک یتیم بچی کو ماں کے ساتھ آگ جیسے جھلسا دینے والے تیزاب کی بارش سہنی پڑی۔ ہمارے سماج کے بارے میں دانشوروں کے بڑے بڑے بول ایک بار ...

مزید پڑھیں »

حملہ

شب کے شب خون میں اک تیرہ شبی کا خنجر دہر کے سینہِ بیدار میں حسبِ معمول وار بھرپور تھا ؛ پیوست ہوا قبضے تک رو کے خاموش ہوئی گنبدِ مسجد میں اذان میوزیم میں کہیں اوندھی گری گوتم کی شبیہہ نے شکستہ ہوئی ؛ نوحے تھے نہ نغمے باقی ...

مزید پڑھیں »

غزل

  جو بَن کے چھاؤں کِھلے سفر میں فریبِ گْل کے وہ شاخچے تھے جو خاک زاروں سے رِس رہے تھے وہ جستجووں کے آبلے تھے زمیں پہ جادو بھری فِضا کا یہ المیہ تھا بنامِ حیرت نظر شبستاں میں کھو گئی تو وہی توَہْم کے دائرے تھے جو “کچھ” ...

مزید پڑھیں »

گھنٹی

رات کے اندھیرے میں بلب کی ملگجی زرد روشنی میں ہر چھت میری سوچ کی طرح کفن جیسی سفید چادر میں لپٹی اُداسیوں میں ڈوبی ہوئی ہے اندھیرا سب کچھ چُھپا لیتا ہے تو اُداسی بھری سفیدی کیوں نہیں چُھپتی؟ ہُو کے عالم میں سنسان راستے پہ قدموں کی چاپ ...

مزید پڑھیں »

تاج محل

تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی تجھ کو اس وادیِ رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں ...

مزید پڑھیں »