مصنف کی تحاریر : اکبر بارکزئی

عالم ئے اِسرار

    کوہ باریں بچکندنت؟   گوات باریں گْڑنک بنت؟   نود باریں سرپد بنت؟   مور باریں سر شودنت؟       باریں پْل ہم گندنت؟   رَنگ ہم نپس کشّنت؟   روچ باریں تْنّگ بیت؟   ماہ باریں جاں کشّیت؟       آس باریں آپْس بیت؟   ...

مزید پڑھیں »

لاچاری

  اے  دولاچاری ئے کسّہ انت۔  یکّے آ وتی عادت پیلو کنگی ات و دومی آ  وتی شْدئے  آس توسگی ات۔ چپ و چوٹیں کوہانی ندارگے تاں دْوراں روان ات۔ ریل ئے  دگ دریاو سیاہ وسنگوئیں کوہانی میانا  سہریں ریکانی سرا چیر گیتکگ ات۔ ریل انّی کمو دیراں پیسر جنوآ  ...

مزید پڑھیں »

فحاشی

تین منزلہ شاپنگ مال کی وسیع و عریض دیوار پر ایک نہایت ہی دلفریب بکنی میں ملبوس حسینہ کی  ابھری ہوئی تصویرلگی  تھی جس کا اوپری دھڑ ایک مجسمہ کی شکل میں تھا- تصویر سے باہر نکلتا ہوا  دودھیا سینہ وہاں سے گزرنے  والوں کو ٹھٹک کر دوبارہ دیکھنے پر ...

مزید پڑھیں »

دنیا گول نہیں ہے

  فراق ہالیپوٹو کی نثری نظموں کا مجموعہ میرے لیے ایک خوش گوار حیرت کا سبب بن گیا۔ حیرت کے ساتھ مجھے مسرت بھی حاصل ہوئی کیوں کہ جس نثری نظم کی لڑائی میں نے اور میرے ساتھی شعرا نے ستّر کی دہائی کے آغاز میں بڑے زور وشور سے ...

مزید پڑھیں »

سوال

  گرد نے اسکے گالوں کو ڈھک دیا اسکی آنکھیں روتی دکھائی دیں تھکن اور بدقستمی نے اسے نڈھال کر دیا میں اسکے قریب گئی اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا اور اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ کیا میں تمھاری مدد کر سکتی ہوں؟ وہ زور سے اچھلا ...

مزید پڑھیں »

ایک دسترخوان تین قسم کے کھانے

  وہ بے چارہ صبح سویرے اٹھتا او راٹھ کر کھاد لے جانے کا کام شروع کرتا۔ وہ یہ کھاد اپنے کندھے پر لاد کر اپنی زمین پر لے جاتا۔ آٹھ افراد پر مشتمل اس خاندان کا گزر بسر بہت مشکل سے ہورہا تھا کیونکہ زمین بہت کم بلکہ نہ ...

مزید پڑھیں »

پھر بھی آوارہ مزاجوں کا سفر جاری ہے !۔  

  کتاب : افلاس کا کارواں مصنف : ڈاکٹر شاہ محمد مری صفحا ت : 86 قیمت : 120 روپے   بھوک ایک ایسا سفاک اور کرخت سچ کہ جب یہ لگتی ہے تو پھر کوئی فلسفہ ، کوئی تہذیب باقی نہیں رہتی۔پھر نہ کوئی غیرت اور نہ ہی کوئی ...

مزید پڑھیں »

فساد فی الارض

  میرے پاس کُچھ مزدور دن پڑے ہیں صُبح تکرارِ اجرت سے شروع ہوئی دوپہر ڈھلتے ہوئے ان کا پسینہ جمنے لگا زمین کی بالٹی میں کُچھ خواب انڈیلے سورج کی اُداس چادر اوڑھے شام کے کالے جنگل میں خوف اور ذلت کے سیاہ ڈامبر سے افلاس و گمنامی کی ...

مزید پڑھیں »

بکری اور بھیڑیا

  زگرینؔ کے ریوڑمیں ایک بکری تھی۔ ایک روز بکری نے اپنے دل میں کہا ”ہر سال جب زمستان آتا ہے تو واجہ زگرینؔ ہمیں ہانک کر کچھی اور سندھ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سال میں نہیں جاؤں گی۔۔۔ یہیں ہر بوؔٹی کی خوشبو بھری وادیوں میں رہوں ...

مزید پڑھیں »

رائٹسٹ اور فاشسٹ سماج کے لیڈرز 

اداریہ پاکستان ایک ترقی پذیر کپٹلسٹ ملک ہے۔ اور ہر کپٹلسٹ ملک دولتمندوں کی وجہ سے ہمہ وقت بحرانوں میں لپٹا ہوتا ہے ۔ دولتمندوں کی پارلیمانی سیاست کو ”جمہوری سیاست “ کہا جاتا ہے ۔ اس سیاست کے نتیجے میں پاکستان میں اقتدار اب شہباز، زرداری، فضل الرحمن اور ...

مزید پڑھیں »