مصنف کی تحاریر : محمد علی پٹھانڑ/ ننگر چنا

دانہ جلا کر وقت دیکھتا ہوں

  چہرہ کھڑکی سے باہر۔ سبز جھنڈی ہوا میں پھڑپھڑاتی نظر آرہی ہے۔’’کُو…. چھک چھک ….کُو…کُو…‘‘ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی ہے۔میں چہرہ اندر کرکے کھڑکی بند کردیتا ہوں۔سردی کا احساس۔ مفلرکھینچ کرکانوں پرباندھ دیتاہوں۔سگریٹ جلاکر دانہ کی روشنی میں کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوں۔ڈیڑھ بجے ...

مزید پڑھیں »

نوجوان اپنے سماج سے بدظن کیوں……؟

پل پل بدلتی دنیا میں ہر جگہ قوم کی تعمیروترقی میں نوجوانوں کے کردار پر گرما گرم بحث و مباحثیں ہورہی ہیں. مسلم ممالک کو تو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے مقابلہ کرنے کی آخری اُمید نوجوان نسل ہی رہ گئی ہے. بلاشبہ یہی نوجوان قوم کی شاندار کامیابی ...

مزید پڑھیں »

ماہیکان!

  آسمان پر غروبِ آفتاب کی زردی نے ایک عجیب اداسی پھیلا دی تھی۔ سمند ر میں چلتے چلتے وہ کافی دور نکل گئی تھی۔لہریں جب اس کے پاؤں سے ٹکرا کے مڑتیں تو ایک لہر سی اس کے دل سے بھی آ ٹکراتی اور سمندر کی لہروں میں گم ...

مزید پڑھیں »

پوہیں ناپوہ

پہوالانی شنزار, مالانی ٹلو آنی وشیں آواز۔۔۔ شہے شہے۔۔ٹنگ ٹنگ۔۔۔ منی چم گیست سالا رند مرشی صحو ا بانگو بانگا کھلنت۔ گوش اکھر سالا رندا ہمے وشیں آوازاں اشکونغئے ثنت۔ دل نہ گوشغیں کہ ہمے آواز کھٹاں نہ کہ بانگو آنی بانگ آہنجاماں۔۔۔ اکہر سالا رندا وثی وطن او وثی ...

مزید پڑھیں »

کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان

بھور سمے کا گیان ہے تو یا شام کی گھپ خاموشی کا بھید بھرا وجدان انتم سر ہے سات سروں کا یا پھر عشق کے آٹھویں سرُکی تورانجھے پہچان کون ہے؟ کیا ہے؟ کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان؟ صحراؤں سی خاک اڑاتی تنہائی میں دھوپ بھری دکھ ...

مزید پڑھیں »

ہڑتال

  نیپلزا  ٹرام ئے کارندہاں ہڑتال کتگ ات ۔ ریویرادی کیایا آ چے سرا تا چا سرا ہشکیں کنڈیکٹر ، ڈرائیور و اوشتاتگیں ٹراما ابید دگہ ہچ گندگا نیاتک ۔ وشدل و گپّوئیں نیپلزی آنی یک مزنیں مچّی یے پیازادیلاویتوریا آ مچّ ات ۔ چہ ہمیشانی سر ئے برزی آ ...

مزید پڑھیں »

وہ ہمیں رلاسکتا ہے

دس سال کے صاف ستھرے بلّو کو کوئی نہیں دیکھتا مگر وہ کبھی کبھی ہمیں رلا سکتا ہے ایک روپے میں ایک روپیہ اب کچھ خریدنے کے قابل نہیں رہا اور کاغذ کے نوٹ سے پیتل کے سکّوں میں تبدیل ہو رہا ہے سات ارب ڈالر کا نیا امریکی خلائی ...

مزید پڑھیں »

آؤ ہم مل کے خواب دیکھتے ہیں

آؤ ہم مل کے خواب دیکھتے ہیں خواب جو بادلوں پہ رقصاں ہوں خواب جو زندگی کا ساماں ہوں خواب جو مثلِ اک گلستاں ہوں خواب جو روشنی بکھیرتے ہیں خواب جو سورجوں کو گھیرتے ہیں خواب جو قسمتوں کو پھیرتے ہیں خواب جو آرزو ہیں جینے کی خواب جو ...

مزید پڑھیں »

خمیازہ

  ’’آپ مجھے پہچان گئے۔جی ہاں میں ہی اکرام علی شاہ بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ہوں۔کلب کے باہر شربتی رنگ کی جو ٹویوٹا گاڑی کھڑی ہے،وہ مجھے پچھلے سال جاپان کی ایک فوٹو گرافک نمائش میں اول آنے پر انعام میں ملی تھی اور یہ پولو رائیڈ کیمرہ ...

مزید پڑھیں »

دو آتشہ

  (تضمین ِ حافظ) از سرابی رَمیدہ ام کہ مپرس محشری برگزیدہ ام کہ مپرس من بطوری طپیدہ ام کہ مپرس داغ حِرمانی دیدہ ام کہ مپرس ”دردِ عشقی کشیدام کہ مپرس زہرِ ہجری چشیدام کہ مپرس“ دووست اِنت ماہ دیمیں قُدرتے شہکار وَش تَب و وَش خیالے وش گُپتار ...

مزید پڑھیں »