مصنف کی تحاریر : شان گل بلوچ

روس کا انقلاب نمبر ایک……..نیم کامیاب، نیم ناکام

  پارٹی کے اندر مان شویک نامی موقع پرستوں کے ساتھ منا قشے کے اِن سارے جنگی لمحوں میں لینن کی صحت تباہ ہوگئی تھی۔ اس اعصابی جنگ میں اُس کی نیند اور بھوک دونوں اڑ گئی تھیں۔بس ایک اچھی بات تھی کہ خاندان ساتھ ہوتا تھا۔ اس کی باشعور ...

مزید پڑھیں »

سنگت ملک محمد علی بھارا

( ملتان میں اس بچھڑے ساتھی کی تعزیتی ریفرنس پہ ) اس ملک کی سیاست میں 1970سے 1992کے سال بہت مست اور دلبرسال رہے ہیں ۔ یہ دراصل وہی سال تھے جب یہاں زبردست اور ہمہ پہلو نظریاتی جنگ عروج پہ تھی ۔اور ان 25برسوں میں اگر کوئی عوامی اور ...

مزید پڑھیں »

دنیا ہی بدل گئی

پچھلے سوا سال میں تو ہماری دنیا ہی بدل گئی ایک نظر نہ آنے والے وائرس کی بدولت. سونا جاگنا، کھانا پینا، آنا جانا، پڑھنا لکھنا، گھر دفتر، غرض سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا ہے. یہ وبا ہے یا بلا جس نے مسجد ، مندر، گردوارہ، چرچ، کعبہ ...

مزید پڑھیں »

چھن پر و ݨ پلو

چند ر جاڳدیں تیں نندر پئیٗں چھتیں توں ہکو جھئیٗں چپ نال گزردا پیا ہا وقت دی ونڈ توں پہلے دے راز اوندی چپ وچ گم ہن او دریاویں تیں ویرانیں کوں انہاں دے ڄمݨ توں وی پہلے دا ڄاݨدے ایں سانگے انہاں دے اݨ ڳجھے راز اوںکوں پتہ ھن ...

مزید پڑھیں »

بلقیس

  بلقیس۔۔ اے شہزادی! جلتی ہوئی ، قبائلی جنگوں میں گھری اپنی ملکہ کی رخصتی پہ میں کیا لکھوں؟ بیشک،لفظ مُجھے الجھائے جاتے ہیں ۔۔۔ زخمیوں کے ایسے یہاں انبار دیکھوں ٹوٹے ہوئے تاروں کے جیسے جسم ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں کے جیسے جسم یہاں میں پوچھتا ہوں، اے ...

مزید پڑھیں »

نیکی کرنے والا انسان

  ایک بلوچی شعر کا ترجمہ ہے کہ : میں نے زندگی ناپ کر دیکھی ہے ۔ اس کی کل لمبائی دو بالشت ہے ۔سی آر اسلم اپنی اسی دو بالشتی زندگانی بِتا کر وفات پاگیا ۔مگر وہ تاریک راہوں کی تاریکی میں کچھ کچھ روشنی گھول کر گیا۔ جاگیرداری ...

مزید پڑھیں »

نزاکت

اس کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن اسے دیکھ کر ہمیشہ میرے ذہن میں نزاکت کا خیال آتا – وہ پانچ ماہ کی حاملہ اور ایک تین سال کے بچے کی ماں تھی لیکن اتنی دھان پان سی کہ بارہ تیرہ سال کی بچی لگتی۔ اس کے پیٹ ...

مزید پڑھیں »

تسلی کے دو بول

”آہ ! میں مرنے لگا ہوں!اب میرا وقت قریب آن پہنچا ہے۔“ فقیرے نے کراہتے ہوئے ادھر ادھر جھانکنے کی کوشش کی تاکہ کسی کومدد کے لیے پکار سکے ۔مگر تب وہاں اس کے پاس اپنی بڈھی کے خیالوں کے سوا تیسرا کوئی نہ تھا۔موت کے خوف ،وسوسوں اور واہموں ...

مزید پڑھیں »

ضرورت!!!

مجھے افسانوی باتیں کرنی نہیں آتیں پر میرا تمہارا کنکشن افسانوی ہے ہاتھ وہ نہیں لکھتا جو ذہن سوچتا ہے ذہن اور قلم کا درمیانی راستہ آساں نہیں ہوتا مصلحتوں کے پہاڑ اور تحفظات کے سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں تُم کتاب کا کور دیکھ کر مضمون بھانپ لیتے ہو ...

مزید پڑھیں »

غزل

  مکیں ادھر کے ہیں لیکن ادھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھر میں لگی ہو تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سیلِ بلا کی زد میں ہو تو پھر ثمر کی نہیں پھر شجر کی سوچتے ہیں اُڑے تو طے ہی نہ کی حدِ آشیاں بندی ...

مزید پڑھیں »