مصنف کی تحاریر : کشور ناہید

زندگی اور شاعری کا مکالمہ

مجھے شاعری زندہ دیکھنا چاہتی ہے مگر میری روح جو سانس کی ہمزادہے وہ میرا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے پھر بھی مجھ سے سوال بہت کرتی ہے مجھے جب انسان سایوں کی طرح نظر آتے ہیں مجھے مشورہ دیتی ہے جاﺅ چشمہ لگاﺅ اب مجھے انسانوں کا ...

مزید پڑھیں »

زمین کا بچہ

جب وہ روئے گا اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے اور ہونٹوں پر ہنسی اس کی پتنگ کی ڈور اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہوگی میں اس کے لئے نئی پتنگ نہیں بناﺅں گی اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کو تھام لیا ہوگا میں اس کے ہاتھوں سے ...

مزید پڑھیں »

آسیب

آسیب کہو تمہیں کس نے کہا ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں ہم مسکونِ کوہ اندوہ پرست ہیں ہمیں جینے سے کوئی غرض نہیں ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں یہ امر تمہیں کس نے ہے دیا ہر طفل ہمارا جی جان سے پیارا تم لوٹ لو اس ...

مزید پڑھیں »

*

کہیں  سے کوئی حرف معتبر شاید  نہ آئے مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے اسیروں کو  خیال  بال  و پر شاید  نہ  آئے کسے معلوم اہل ہجر  پر ایسے بھی  دن آئیں قیامت سر سے گزرے اور خبر ...

مزید پڑھیں »

وبال ِ جان (عبرانی افسانہ)

میرے ڈاک والے بکسے میں ایک موٹا لفافہ میرا منتظر تھا ۔ میں نے اسے کھولا اور رقم گنی ۔ یہ پوری تھی ۔ اس میں ایک رقعہ بھی تھا جس پر بندے کا نام اور تفصیل کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا تھا ۔ اس میں ، اس کی ...

مزید پڑھیں »

سائیں کمال خان شیرانی

باوجود اس کے کہ سائیں کمال خان شیرانی پختونخوا ملی پارٹی کا بنیاد گزار تھا اور میں ایک ٹھیٹ پنجابی۔۔۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک سوشلسٹ تھا اور میں پکی عقیدے والی۔مجھے کارل مارکس کی بہت سی باتیں پسند ہیں لیکن ایک دو نہیں بھی پسند۔۔۔ اور باوجود اس ...

مزید پڑھیں »

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »

کئے زاں؟              

"سیٹ بیلٹ پلیز سیٹ بیلٹ پلیز” ہوسٹس گوئستغہ شیموشی سندھی لہجہ و دلدوری بھیرو داثئی اشتافی گڑہ، دگا جکثہ نیم راہی آتکئو ہٹکثہ مئیں دیما دیستئی تنسویں مئیں روحا ناکامیں دلہ آہری آ برشکندے کثو چو گوئشتئی ” مونجھ تہ کوڑوئے سینگھی ایں مونجھ تہ کوڑوئے بیلی ایں” مئیں چم ...

مزید پڑھیں »