مصنف کی تحاریر : رسول میمن/ ننگرچنا

آسیب عشق کا

  وہ بچپن سے ہی مرگی کا مریض نہیں تھا،کیوں کہ مرگی کوئی پیدائشی بیماری نہیں ہے۔وہ حال ہی میں مرگی کا شکار ہوا تھا۔لگ بھگ یہی کوئی پانچ ماہ قبل اُسے جب مرگی کا دورہ پڑا تو یہ اُس کی زندگی کا پہلا دورہ تھا۔ مرگی بھی عجیب قسم ...

مزید پڑھیں »

اومنی بس

امریکہ کی ریاست kentuckyکے شہر louisvilleمیں ایک خوبصورت بنچ پر بیٹھی بس کا انتظار کر رہی تھی ۔ ارد گر د دیکھتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ اس ریاست کا تخلص Blue grass stateہے۔ آنکھ بہت دور تک سفر کرسکتی ہے خواہ کتنی بھی دور چلی جائے ۔ جنگلوں کا ...

مزید پڑھیں »

خالی پن میں نیند کی خواہش

  غشی نیند کی کہکشاؤں میں پرویش کرنے کیلئے مدار متعین نہیں کر سکتی۔ ہم اوندھے منہ رینگ کر بھی تیرتے سورج سے آگے نہیں نکل سکتے۔ ہمارے نشان مٹاتا ہوا چاند منزلیں سر کرتے ہوئے کھجور کی پرانی شاخ جیسا ہو جاتا ہے۔ رات دن پہ سبقت نہیں لے ...

مزید پڑھیں »

سبز پتلون

بات تو بہت معمولی تھی مگر پتہ نہیں کیسے الجھتی چلی گئی۔ اس سے پہلے ایسے چھوٹے موٹے سینکڑوں واقعات گھر کی روز مرہ زندگی میں وقوع پذیر ہوتے رہتے تھے لیکن وہ صرف اس حد تک اثر انداز ہوتے تھے جیسے جھیل کی پرسکون سطح پر کوئی کنکر پتھر ...

مزید پڑھیں »

قبرستان کے مجاور

  سیاہ، اجاڑ،بکھرے بالوں کو میرے ماتھے سے سمیٹ کر ساس نے کہا جب ساٹھ سال کی ہوگی تب سمجھوگی ایک گھر کے لیے کیا کیا قربانیاں دی جاتی ہیں بے تاب، خودسر، باغی آنسوﺅں کو میرے رخساروں سے پونچھ کر سسر نے کہا جب ساٹھ سال کی ہوگی تب ...

مزید پڑھیں »

سمو کا حسن

  زِ عشقِ آں رخِ خوبِ تو اے اصولِ مراد ہر آں کہ تو بہ کند تو بہ اش قبول مباد حُسن کیا ہے؟ میں نے کہاں کہاں نہیں کھو جا۔ کتابوں، لغاتوں، انسائیکلو پیڈیاؤں اور ویب سائٹوں میں۔ کوئی تشفی بھری تعریف مجھے نہیں مل سکی۔ ہر ایک کا ...

مزید پڑھیں »

سرخ گلاب

  میں تمہارے لیئے سرخ گلاب لائی تھی یہ کیسے دوں تمہیں؟ کہ اِک قدم آگے کو بڑھتا ہے تو دو پیچھے کو ہٹتے ہیں تمہاری برہمی کا خوف اتنا ہے کہ کانچ کی وہ ساری چوڑیاں جو تمہارے نام پہ پہنیں چھنکنا بھول جاتی ہیں ٹوٹ جاتی ہیں تو ...

مزید پڑھیں »

جُوں (بچوں کے لیے بلوچی کہانی)

  ایک تھا جُوں۔ وہ بے شمار بچوں کے سر میں گُھستا اور اُن کا خون چوستا ۔ ایک روز وہ اس نیت سے ایک بچے کے سر سے باہر نکلا کہ کسی دوسرے بچے کے سر پر جاؤں گا ۔ راستے میں اُسے ایک مرغے نے دیکھا۔مرغے نے چونچ ...

مزید پڑھیں »

گل خان نصیر کا مجسمہ

ایوبی دور میں قلی کیمپ کے عقوبت خانے کے درودیوار سے چیخ و پکار کی آوازیں سازِ امروز بن چکی تھیں۔ اس عقوبت خانے میں مصائب و مشکلات واحد پہچان تھے ۔معمولی حقوق عظیم رعایتوں کا درجہ پا چکے تھے۔ بربریت نے انسانیت کی رمق ریت میں نچوڑ دی تھی۔ ...

مزید پڑھیں »

ورکنگ لیڈی

  نہ چُوڑی کی کَھن کَھن ، نہ پائل کی چَھن چَھن نہ گجرا ،نہ مہندی ، نہ سُرمہ ، نہ اُبٹن میں خود کو نہ جانے کہاں بُھول آئی ؟؟ جو ڈیوڑھی سے نکلی تو بچے کی چیخیں وہ چُولھا ، وہ کپڑے، وہ برتن ، وہ فیڈر وہ ...

مزید پڑھیں »