مصنف کی تحاریر : نورالہدیٰ شاہ

Reply

  سوری یار! تمہاری ای میل کا reply کرنے میں دیر ہوگئی دراصل وقت ہی نہیں ملا وقت اب بازار میں بھی تو ناپید ہے بلیک پر پوچھو تو بھی میسر نہیں آج تھوڑا سا بچا کھچا وقت ہاتھ آ گیا، تمہیں reply کرنا بھی یاد آ گیا یار! اتنی ...

مزید پڑھیں »

محنت کشوں کے لیے

  کرتے رہنا سہل ہمیشہ اِن کی ہر تدبیر بہت محنت اور مشقت والے ہاتھوں کی توقیر بہت اپنے لفظوں اور خوابوں کے ریشم سے اے کوزہ گرو اِن کے گرد بنائے رکھنا جذبوں کی زنجیر بہت اک صدمے سے دوجےغم تک کس کو یہ معلوم نہیں کھیل کیا کرتی ...

مزید پڑھیں »

غزل

دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے کیا تماشا ہے کہ بے ایام گل ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے ہم بھلا چپ رہنے والے تھے کہیں ہاں مگر حالات ایسے ...

مزید پڑھیں »

راکھ

  تخلیق کائنات کی پہلی رات تم نے سفید کپڑے پہنے تھے یا سیاہ نہیں معلوم بس اتنا یاد ہے میری راکھ سے محشر کی بو آ رہی تھی اور غزل کی نبض خوشگوار درد کی مانند زبان کی جلد کے نیچے، ورم کررہی تھی اور گھڑی کی سوئی ازل ...

مزید پڑھیں »

انسان کا بچہ پالنا کھیل نہیں!

  ‎وہ نوعمر لڑکی ہمارے سامنے بیٹھتے ہی بھبھک بھبھک کے رو دی، ‎“ڈاکٹر مجھے بتائیے، مجھے ابھی تک حمل کیوں نہیں ہو رہا؟” ‎حیرت کے مارے ہم کرسی سے اچھل پڑے۔ سر سے پاؤں تک اسے دیکھنے کے بعد اس سے پوچھا، ‎“بیٹا عمر کتنی ہے تمہاری؟ ‎“جی بیس ...

مزید پڑھیں »

پھر موسمِ گل رختِ سفر باندھ رہا ہے

  پھر موسمِ گل رختِ سفر باندھ رہا ہے پھر قافلہ کاندھوں پہ یہ گھر باندھ رہا ہے بدلے سے مجھے لگتے ہیں قدرت کے ارادے دستار کسی اور کے سر باندھ رہا ہے یہ کون اندھیروں میں چھپا کھیل رہا ہے ماتھے پہ میرے شمس و قمر باندھ رہا ...

مزید پڑھیں »

زندئے گورگند گو

  زھگا فوٹو آنی کسانیں البم آنہی دستا دات کہ ”تاتہ اے لال ئے آروس ئے فوٹو اَنت“۔ ”منی فوٹو آھتگ اِنت کہ نہ؟“ ”ھو! تئی باز جوانیں فوٹو آھتگ انت“ تئی تہنائیں فوٹو سک شر درآحتہ، زھگ چہ گسا درآحت و آنرم نرم و وش وشا وتی دپسندیں شئیرا ...

مزید پڑھیں »

غزل

  نئیں نصیوا کہ گِندغا بیائے،تو وثی ڈیہئے مڑدمے دیم دئے یا وثی جِیغ ئے زامریں پھلّے یا وثی دستئے چھَلّوے دیم دئے ہر کَسے گِنداں زھرنیں مرشاں، دیم شہ دنزان و مُژاں گاریں یا منی ڈیہہ ئے مڑدماں کھَندیں یا مناں دِیریں الکہے دیم دئے درشک بے تاخاں،مال بے ...

مزید پڑھیں »

صرف غیر اہم شاعر

صرف غیر اہم شاعر یاد رکھتے ہیں بچپن کی غیر ضروری اور سفید پھولوں والی تام چینی کی پلیٹ جس میں روٹی ملتی تھی صرف غیر اہم شاعر بے شرمی سے لکھ دیتے ہیں اپنی نظموں میں اپنی محبوبہ کا نام صرف غیر اہم شاعر یاد رکھتے ہیں بدتمیزی سے ...

مزید پڑھیں »