مصنف کی تحاریر : امجد اسلام امجد

*

تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکا نہ تُو سن سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئ میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا کر گیا تیرا بات بات پہ ٹوکنا، مِری بات بیچ میں رہ گئی ...

مزید پڑھیں »

*

جَمے گی کیسے بِساطِ یاراں کہ شِیشَہ و جام بُجھ گئے ہیں سَجے گی کیسے شَبِ نِگاراں کہ دِل سَرِ شام بُجھ گئے ہیں وہ تِیرگی ہے رۂ بُتاں میں چراغِ رُخ ہے نہ شمعِ وَعدَہ کِرن کوئی آرزُو کی لاؤ کہ سب دَر و بام بُجھ گئے ہیں بہت ...

مزید پڑھیں »

*

  بیاکہ استاراں جتگ پُل من شپ ئے گیوارا ماھکانا چو وتی آپ رواں شنگینتہ اِے تئی مھپرئے شنزگ چو سمین مسکینا تو نزانئِے چے درینے ماں دلاں شنگینتہ چندی کسانا پہ بچکندگ و نیم چمی او ناز چندی کسانا پہ بروانئے کماں شنگینتہ کئِے درءَ روت مروت گواڈگ و ...

مزید پڑھیں »

تین تضادات

  اس وقت دنیا میں تین بڑے تضادات موجود ہیں۔ ایسے تضادات جو کہ بنیادی بھی ہیں اور جنگ کے بغیر اُن کا حل بھی کوئی نہیں۔ پہلا تضاد:طاقتور کپٹلسٹ ملکوں کے اپنے مابین ایک طاقتور تضاد موجود ہے۔ وہ تضاد دنیا کی لوٹ مار میں حصے کی کمی یا ...

مزید پڑھیں »

یو ٹو بروٹس

  کالج میں چھوٹے سے باغیچہ میں ہری گھاس پہ آلتی پالتی لگائے بیٹھی تھی۔ سعدیہ کی دور سے لہراتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ ”پیریڈ فری؟“۔ ”ہاں یار!“ میں نے اثبات سے سر ہلایا۔ ”تو پھر چلیں مٹر گشت پہ“ سعدیہ نے ہال کی چھت کی ریلنگ کے ساتھ ...

مزید پڑھیں »

ادل بدل

”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا…“۔واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہرکی طرف لپکا۔ نکلتے قد،گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور جسے ہر کوئی "نکا چوہدری” کہ کر پکارتا تھا، ابھی اپنی ...

مزید پڑھیں »

ہائے عبدالشکور

  وہ دسمبر 2020ء کا مہینہ تھا اور دسویں تاریخ تھی جب برادرم حمید علی کا فون آیا اور ایک ہولناک اطلاع دی کہ بھائی عبدالشکور کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم بہت سے ہم نفساں تین دہائیوں سےزائدعرصے سےشکور صاحب کے ساتھی سنگی اور بیلی رہے۔بھائی ...

مزید پڑھیں »

کتاب کا مالی، منصور بخاری

  ضیاء الحق کا مارشل لا تھا۔ سخت پابندیاں تھیں۔ جلسہ جلوس، تقریر تحریر، اورتنظیم سیاست سب ضیا کے بوٹوں تلے۔ سارے سیاسی کارکن جیلوں میں۔ کوڑے سرِ عام مارے جارہے تھے۔اخبارات پہ بدترین سنسر شپ جاری تھا۔ ہر روز اخبار پہلے حاکم کو دکھایا جاتا، منظوری ہوتی تو ہی ...

مزید پڑھیں »