مصنف کی تحاریر : امرتا پریتم/فہمیدہ ریاض

ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات

  جیسے اِک پارہِ سحاب آج کسی نے سورج کے ساتھ آویزاں کردیا ہے علیحدہ کرنے کی بہت کوشش کی بے سْود یوں لگتا ہے سورج کے سرخ لباس میں یہ بادل کسی نے بْن دیا ہے ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات آج سامنے چوک میں سنتری کی طرح استادہ میرے ...

مزید پڑھیں »

ادل بدل

    ”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا…“۔واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہرکی طرف لپکا۔ نکلتے قد،گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر پکارتا تھا، ...

مزید پڑھیں »

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی!

  جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، گودا بھینچا آگ میں ڈالا، دیس نکالا جس نے خدا کا نام اچھالا پتھر کھائے، سولی پائی جس نے سیدھی راہ بتائی شاعر و مجنوں ان کو بولے جن کی زباں نے موتی رولے ...

مزید پڑھیں »

احمد خان کھرل

  ۔1776۔۔21ستمبر1857۔   نازک مزاج سامراج کے غضب کی پیشانی پر احمد خان نے بہت سارے بَل ڈال دیے تھے۔ احمد خان انگریز کے قیلولہ میں بھنگ ڈالنے کے لیے اس کے نرم وابریشمی پہلو کے نیچے ایک نوکیلا پتھر بن چکا تھا۔ اُس کا معدوم کیا جانا اب بہت ...

مزید پڑھیں »

غزل

شہر نو اطوار تیری خامشی بھی ہاؤ ہؤ خواہشوں کا رقص جاری، لمحہ لمحہ چارسو اک مسلسل جنگ ہے جو لڑ رہے ہیں خاکزاد لفظ لفظ اور گیت گیت اور، دور دور اور دوبدو جو بھی سوچا اور چاہا اسکو کرتی ہے بیاں چشم و لب کی خامشی اور چشم ...

مزید پڑھیں »

دانہ جلا کر وقت دیکھتا ہوں

  چہرہ کھڑکی سے باہر۔ سبز جھنڈی ہوا میں پھڑپھڑاتی نظر آرہی ہے۔’’کُو…. چھک چھک ….کُو…کُو…‘‘ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی ہے۔میں چہرہ اندر کرکے کھڑکی بند کردیتا ہوں۔سردی کا احساس۔ مفلرکھینچ کرکانوں پرباندھ دیتاہوں۔سگریٹ جلاکر دانہ کی روشنی میں کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوں۔ڈیڑھ بجے ...

مزید پڑھیں »

نوجوان اپنے سماج سے بدظن کیوں……؟

پل پل بدلتی دنیا میں ہر جگہ قوم کی تعمیروترقی میں نوجوانوں کے کردار پر گرما گرم بحث و مباحثیں ہورہی ہیں. مسلم ممالک کو تو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے مقابلہ کرنے کی آخری اُمید نوجوان نسل ہی رہ گئی ہے. بلاشبہ یہی نوجوان قوم کی شاندار کامیابی ...

مزید پڑھیں »

ماہیکان!

  آسمان پر غروبِ آفتاب کی زردی نے ایک عجیب اداسی پھیلا دی تھی۔ سمند ر میں چلتے چلتے وہ کافی دور نکل گئی تھی۔لہریں جب اس کے پاؤں سے ٹکرا کے مڑتیں تو ایک لہر سی اس کے دل سے بھی آ ٹکراتی اور سمندر کی لہروں میں گم ...

مزید پڑھیں »

پوہیں ناپوہ

پہوالانی شنزار, مالانی ٹلو آنی وشیں آواز۔۔۔ شہے شہے۔۔ٹنگ ٹنگ۔۔۔ منی چم گیست سالا رند مرشی صحو ا بانگو بانگا کھلنت۔ گوش اکھر سالا رندا ہمے وشیں آوازاں اشکونغئے ثنت۔ دل نہ گوشغیں کہ ہمے آواز کھٹاں نہ کہ بانگو آنی بانگ آہنجاماں۔۔۔ اکہر سالا رندا وثی وطن او وثی ...

مزید پڑھیں »

کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان

بھور سمے کا گیان ہے تو یا شام کی گھپ خاموشی کا بھید بھرا وجدان انتم سر ہے سات سروں کا یا پھر عشق کے آٹھویں سرُکی تورانجھے پہچان کون ہے؟ کیا ہے؟ کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان؟ صحراؤں سی خاک اڑاتی تنہائی میں دھوپ بھری دکھ ...

مزید پڑھیں »