غزل

دمِ سحر جو کہیں نہیں تھا کوئی پریشاں خواب ہوگا
جوخلوتِ شب کے ساتھ ڈوبا وہ مہتابِ خراب ہوگا

نشہ عجب جس کے خواب کا ہے وہ کیسا جامِ شراب
میں جس کی خوشبو میں کھو رہوں گی ترے فسوں کا گلاب ہوگا

شبِ نیازِ طلب جو میں نے ہزار طرزِ جنوں سے کھولا
وہ دردِ دل کا نصاب ہوگا ، کتابِ وحشت کا باب ہوگا

زمین و افلاک دل میں رکھے جو خوگرِ آتشِ ازل ہو
وہ بے نیاز ثواب ہوگا، وہ ماورائے عذاب ہوگا

ابھی تمناّ کی سرکشی ہے میں کیسے یہ بات جان پاﺅں
کہ بحرِ غم میں چلے گی کشتی کہ د ل مرا زیرِ آب ہوگا

بہشت وہ اک جہاں میں ہوگی وہ ہوں گے ہمراہ اور انجم
نوازشوں کا شمار ہوگا نہ ساعتوں کا حساب ہوگا

0Shares
[sharethis-inline-buttons]

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*