امرود کی مہک

وہ خوشی خوشی میرے ساتھ چل پڑی، دوپہر تھی اور راستے دھوپ سے اٹے پڑے تھے ‘ گلیاں سنسان تھیں‘ تیز تیز چلنے سے اس کا سانس اس کے سینے میں چھپا شور مچاتا تھا اور نازک سا ہاتھ میرے ہاتھ کی سختی میں چھپا آہستہ آہستہ کسمساتاتھا‘ یہ گرمیوں کے دن تھے، بند کھڑکیوں والے گھر حیرت سے ہمیں دیکھتے تھے لیکن خاموش تھے، ہاں صرف ایسا لگا تھا کسی نے ایک مکان کی چھت سے جھانکا ہے، اسے لگا تھا تبھی میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا جہاں آنکھیں اور ہونٹ کھدے تھے میں نے اس سے کہا تھا کوئی نہیں ہے، محض واہمہ ہے جو ان تیز دوپہروں میں ہمیں آن لیتا ہے، لیکن اسے لگا تھا اور اس نے پھولتے جاتے سانسوں کے ساتھ کہا تھا دو آنکھیں تھیں اور دو ہاتھ، وہاں اس چھت پر میں نے دیکھا تھا‘ چھت ویران تھی اور پلنگ پر تنہائی دھوپ کے ہاتھوں جل رہی تھی‘ شاید وہ خوفزدہ تھی تبھی اس کا چہہر کچھ کچھ بدل رہا تھا اور وہ خوشی جو چلتے وقت اس کے چہرے پر کسی جھرنے کی طرح بہتی تھی، اب اس کی آنکھوں میں جمع ہوتی جاتی تھی اور بساند اوڑھے جھانکنے لگی تھی لیکن یہ ضرور ہوا تھا کہ بہت سی گلیاں طے کر آئے تھے جو پیچھے رہ گیا تھا ایک ماضی تھا اور آگے ایک بوڑھا برگد کا درخت‘ جسکی شاخیں دور تک پھیلی تھیں، یہاں ہم کچھ ٹھہر گئے۔
”میں نے دو آنکھوں کو دیکھا تھا جو چھت سے جھانکتی تھیں“ اس نے کہا
”تمہارا وہم تھا“ میں نے اس کی لرزتے ہاتھ پربوسہ لیتے ہوئے کہا۔
”نہیں یہ وہی آنکھیں تھیں جو میرا پیچھا کرتی رہی ہیں“ ”اس دن بھی جب رات میں چھت پر ملے تھے یہ دور سے دیکھتی تھیں“۔
میں نے دیکھا اس کے بے حد جاندار ہونٹوں پر کہیں کوئی وسوسہ تھا جو رینگ رہا تھا اور سینے کا سانس صحیح طرح بیٹھ نہیں پارہا تھا۔ میں نے اس سے کہا اب تنے نے ہمیں چھپا رکھا ہے اور گھروں کے لوگ سوئے پڑے ہیں،اس نے کہا ہوسکتا ہے کوئی درخت کی شاخوں میں چھپا بیٹھا ہو ”وہاں تو پرندے ہیں‘ لیکن دیکھا ان کی پھڑپھڑاہٹ اسے ڈرا رہی ہے اور گہرا کھائی سا خوف اسے ستارہا ہے، تبھی میں نے اسے خود سے لپٹالیا اور محسوس کیا، وہ حد درجہ ملائم ہے اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جو مرجانے والوں کی یاد میں ہوتی ہے، میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ مجھ سے لپٹ کر دل نہیں لگاپارہی کہ اس کی رگوں میں جو خون بہے جاتا ہے وہاں خوف کے جھینگر بولتے ہیں، میں نے اس کا بوسہ بھی لیناچاہا لیکن اس نے منہ موڑ لیا اور جاندار ہونٹوں کو بے جان شکل سا بنالیا تو گویا وہ اب خوش نہیں تھی‘ اتنی تیز دھوپ میں جلتی گلیاں طے کرکے اب وہ پچھتارہی تھی اور اسے لگتا تھا کوئی کہیں موجود ہے اور اسے دیکھ رہا ہے، اب بولتا ہوں تو جواب نہیں دے رہی اور اس کی آنکھیں پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ سے چونک چونک جاتی ہیں۔
اس رات جب ہم ملے تھے تو چاند پگھل رہا تھا، چھت اکیلی تھی، تبھی مجھ سے لپٹے لپٹے اس نے سرگوشی کی تھی کہ میں اسے کہیں لے جاﺅں جہاں بس ہم دونوں ہوں اور یہ جو چاند پگھل رہا ہے یہ بھی نہ ہو‘ میں نے اسے سمجھایا بھی تھا لیکن وہ بضد تھی اور بار بار کہے جاتی تھی یہاں تک کہ ہم بے حال ہوگئے تھے اور نیم برہنہ دیوار کے اسی سائے میں پڑے رہے تھے جو چاند نے بنایا تھا‘ میں نے اسے لباس کو سرسراتے سنا تھا اور یہ بدن کو پھنکارتے جیسے کوئی مادہ سانپ ہو اور خود ہی خود اترتا جو تبھی میں نے اسے کہا تھا کسی تیز دھوپ والے دن ہم اس جگہ کو چھوڑ دیں گے اور وہ دن آگیا تھا۔ آسمان پر صرف سورج تھا، ایک بھی بادل کا ٹکڑا دھوپ کے اترنے میں حائل نہیں تھا، وہ بھرے بھرے گھر میں سب کو سلاکر میرے ساتھ نکلی تھی، بہت جلدی میں پہنے گئے لباس میں وہ کسی جنگلی جانور سی دکھتی تھی، وہ کئی گلیاں تو طے کرپائی تھی پھر کسی خوف نے اسے جکڑ لیا تھا کہ کوئی دیکھتا ہے خاص طور پر دو آنکھیں جو چھت پر موجود تھیں، یہ بات اس نے مجھ سے پہلے بھی کہی تھی، میں جس گلی کے کونے پر کھڑا تھا وہ وہاں سے گزری تھی اور گزرتے وقت اس نے کچھ ایسا ہی کہا تھا اور ایک مکان کی طرف اشارہ بھی کیا تھا‘ جس کی کھڑکیاں باہر نکلی ہوئی کچھ ایسی ہی لگتی تھیں جیسے سب کچھ دیکھ رہی ہوں‘ لیکن یہ سب وہم تھا جو ان گلیوں میں جگہ جگہ رہتا تھا اور ایک گلی تک جاتے جاتے یہ اتنی شدت اختیار کرجاتا کہ وہاں کے مکان ان کے در‘ کھڑکیاں اور چھتیں عجیب عجیب اشکال بنائے‘ کبھی ڈراتیں اور کبھی باتیں کرتیں اور جلدی جلدی چل کر اس گلی کو عبور کیا جاتا۔
اس گلی سے تو ہم نکل آئے تھے اور برگد کے موٹے تنے کے پیچھے چھپے تھے لیکن وہ اپنے آپ میں نہیں آ پارہی تھی اور اس کے چہرے کا حسن کھنڈی ہوئی زردی گانٹھ بنتا جاتا تھا۔
”مجھے واپس جانا ہے‘ وہ بڑبڑائی تھی۔
”سب اٹھ گئے ہوں گے اور مجھے تلاش کرتے ہوں گے“۔ وہ دوبارہ بڑبڑائی تھی اور اکیلے ہی چل رہی تھی، میں نے اسے آواز دی تھی لیکن لگتا تھا بھری ہے اور واپس جاتی گلیوں کی طرف چلتی جاتی ہے، پھر ایک موڑ اسے چھپاگیا تبھی شام اتری اور میں نے برگد کے درخت پر چھوٹے اور بڑے پروں والے پرندوں کو اترتے دیکھا، وہ راستہ جو برگد کے درخت سے آگے جاتا تھا ویران تھا اور دور سے نظر آتی سڑک پر چلتی گاڑیوں کی روشنیاں بولنے لگی تھی، میں بھی واپس ہوا اور دیکھا شام ڈھل رہی ہے اور مکانوں پر اندھیرا اتررہا ہے۔ اور اترتے اترے کچھ کہہ رہا ہے میں نے کچھ سنا نہیں اور اپنے گھر تک آیا جہاں جھریوں بھری ماں بیٹھی تھی، جس کے ارد گرد دبے پاﺅں آتی بیماری صحن کو مایوس کیے دیتی تھی، پھر اور لوگ بھی آگئے، بڑی بھابھی پیٹ سے تھی جاتی شام کچھ دیر صحن میں رکی تھی، پھر اندر کے کمروں سے کہیں چھپ گئی تھی، میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور ماں سے اس کی طبیعت کی بابت پوچھنے لگا، ماں کچھ نہیں بولی وہ ہمیشہ کی طرح مجھ سے ناراض تھی، بھابھی اپنے بھاری پیٹ کے ساتھ سامنے آن کھڑی ہوئی، اس کے چہرے پر کچھ سوجن تھی، پیچھے وہی کمرہ تھا جہاں بھائی کچھ لکھ رہے تھے، انہیں لکھنے کا جنون تھا وہ بہت دنوں سے کسی ناول پر کام کررہے تھے۔ ان کی پہلی دو کتابیں ناکام ہوچکی تھیں اور یہ تیسری کتاب تھی جس پر وہ دن رات کام کررہے تھے، صحن کے کونے میں جہاں امرود کے درخت تھے وہیں سے سیڑھیاں اوپر چڑھ رہی تھیں، مجھے معلوم تھا کہ صحن میں جو ایک پراسرار سی بو پھیلی ہے وہ انہیں درختوں سے آتی ہے جن کے پتوں میں امرود چھپے ہیں، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یہ بو تیز ہوگئی پھر دور ہوتی گئی کہ میں چھت پر آگیا تھا، وہاں سے اس کی چھت نظر آتی تھی، وہ ویران تھی، تبھی مجھے یاد آیا وہ شام کے بعد آنے والے سرمئی اندھیرے میں چھت پر نہیں آتی لیکن میں نے دیکھا اندھیرا تو گہرا ہوا جاتا ہے اور آسمان کی پٹی پر چاند ستاروں کا میلہ لگا ہے لیکن وہ موجود نہیں، ورنہ تو وہ مخصوص لباسوں میں چھت پر آجاتی ہے لیکن وہ نہیں تھی، میں نے تو اسے ایک گلی کا موڑ مڑتے دیکھا تھا اور اس کی چال کی بہتی ندی میں کچھ بھنور بنتے پھر وہ چھپ گئی تھی۔ میں ایسا کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ محلے کی گلیوں میں شور اٹھا، یہ شور ایک گلی جس پر اس کا مکان دھرا تھا وہاں سے بہتا بہتا تمام گلیوں تک پہنچا تھا، مجھ تک جو بات پہنچی وہ اسی کے بارے میں تھی، ساری باتوں کو اگر ایک جملے میں لکھا جائے تو وہ یوں ہوگا:
”وہ دوپہر میں گھر سے نکلی تھی جب سب گھر والے سوئے پڑے تھے اب جب اٹھے ہیں تو اس کا دور دور تک پتا نہیں“
یا یوں کہ:
”وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی“
میں خاموشی سے سیڑھیاں اترا، یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی چھت ویران پڑی تھی اور دو آنکھیں جو اسے دیکھا کرتی تھیں ان کا بھی دور دور تک نشان نہیں تھا، ہا ں یہ ضرور تھا کہ پتوں میں چھپتے امرود صاف دکھائی پڑتے تھے اور ان کی بو سیڑھیوں پر ہمیشہ سے موجود تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*