آنکھ جو کچھ دیکھتی ھے

کچہری بازار سےضلع کچہری تک

1970,کل کی بات لگتی ھے، جب ایل ایل۔بی کر کے،
سرگودھا میں وکالت شروع کی۔ فارغ وقت میں بار روم کی لائیبریری میں بیٹھ کر PLD..کا مطالعہ کرتا رھتاتھا
وھیں شوکت بلوچ ایڈووکیٹ سے ملاقات ھوئی،جو دیگر وکیلوں سے مختلف تھے،بعد میں معلوم ھوا کہ وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے فارغ التحصیل ھیں۔
فرینچ بھی جانتے تھے، ان سے بات چیت کرکے مزا آتا تھا۔
جب 84 سیٹوں والے بھٹو نے 160 سیٹوں والے شیخ مجیب کو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ کر نے دیا،تو لیفٹ والے بھٹو سے مایوس ھو کر سی ۔آر۔اسلم صاحب کی سوشلسٹ پارٹی میں شامل ھوگئے۔جہاں بطور صدر شوکت بلوچ ،نے بہت تندھی سےکام کیا۔
سٹڈی سرکل میں ،جعفر شاہ طیب صاحب ایڈووکیٹ ، مجید کرنالی،حمید بان والے غلام عباس ودیگر باقاعدگی سے شریک ھوتے تھے ،یہ سب خانیوال ، چنی گوٹھ اور نوکھر کانفرنسیز میں بھی شریک ھوئے،نوکھر (ضلع گوجرانولہ)کی پر امن کانفرنس میں سے شوکت بلوچ کو بھی گرفتار کرکے شاھی قلعہ میں لے جا یا گیا۔ راقم ان کی مسز اور چند برس کی بیٹی لیلیٰ خالد کو ساتھ لے کر
واپس سرگودھا آ گیا۔
1974ءمیں بینک میں Job مل گئی ،ٹریننگ کے لئیے کراچی چلا گیا۔

روئے گل سیر ندیدم کہ بہار آخرشد
حیف در چشم زدن صحبت یار آ خر شد

ھمارا گھر 6بلاک،میں تھا جس سے ملحق مٹھائی کی مشھور دکان تھی،اس کے ساتھ ھی کچہری بازار تھا،جس میں دائیں ھاتھ ایک فر لانگ چلنے کے بعد،کارخانہ بازار کے بائیں کارنر سے 5 بلاک شروع ھوجاتاتھا،وھاں پر کچہری بازار ھی میں دوسری دکان ٹرنکوں/ صندوقوں وغیرہ کی طیب مذکورہ بالا کے تو حیدی والد کی تھی،جن کے چلے جانے کے بعد شام کو جو دوست آکر محفل جماتے ان میں دائیں بازو والے بھی ھوتے جن کے پاس ان سوالوں کا جواب نھیں ھوتا تھا،کہ عوامی نمائندوں M.N.A وغیرہ کا ماھانہ اعزاز یہ 15 سو روپے ماھانہ کیوں ایک مزدور کے برابر نھیں ھے؟؟

ایسے ھی دیگر سوالات کے جواب میں جماعت اسلامی کے حافظ سعید ایڈووکیٹ جواب دیتے،جب ھماری حکومت آئے گی،تب ایسا ھی ھو گا
اس پر NAP بھا شانی گروپ کے حافظ حمید،بان سٹور والے،کہتے،نہ نو من تیل ھو گا،نہ رادھا ناچے گی۔ ان کی دکان ساتھ ھی کارخانہ بازار میں تھی.
مجید کرنالی دیسی گھی فروش گویا ھوتے ھمارے مسائل کا حل طبقات کی بنیاد پر الیکشن میں ھے۔ جب ھر طبقے کے نمائندے اسمبلیوں میں پہنچیں گے تب ھی غریبوں کے مسائل حل ھوں گے، کیوں کہ
جو گزرتے ھیں داغ پہ صدمے
وہ”یہ”بندہ نواز کیا جانیں؟؟
ایک اور انقلابی نعرہ لگا تے
جیھڑا واھوے۔۔اوھی کھاوے
یعنی اراضی خود کاشت کرنے والوں ھی کے پاس رھنی چاھیئے ۔ المختصر سب اپنی اپنی بھڑاس نکالتے اور بغیر لڑے جھگڑے چلے جاتے ۔وہ بھی کیا زمانہ تھا۔اب اول تو مل کر بیٹھتے ھی نھیں اگر بیٹھنا پڑ ھی جائے تو لڑ کر اٹھتے ھی ۔ وسیع القلبی،وسیع النظری ختم ھو چکی ھے۔۔۔ع۔۔۔۔

بے لوث دوستی کے زمانے گزر گئے

فن لینڈ کے بارے میں، ایک فیصل آبادی نے جو عرصہ دراز سے وھاں مقیم ھیں،۔ ایک کتاب لکھی ھے،جس میں مرقوم ھے کہ وھاں بھی سینیٹرز وغیرہ پاکستان کی طرح ملکی خزانے پر بوجھ تھے ۔وھاں کی عوام نے ایسے نام نہادعوامی نمائندوں سے جان چھڑا کر جو دولت بچی،وہ تعلیم اور صحت پر لوکل گورنمنٹ کے ذریعے خرچ کی نتیجہ آپ سب کے سامنے ھے،وہ ایک خوش حال فلاحی مملکت ھے۔
الللہ کرے ھماری بھی ان MNAs اور کثیر تعدادی کا بینائوں سے جلد جان چھوٹے،پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی جلد مضبوط ھو۔۔۔پر۔۔۔ع۔۔۔

اپنی دعا میں اثر ھے نہ بد دعا میں ھے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*