آنکھ جو کچھ دیکھتی ھے

سی۔ آر۔ اسلم کی کہانی ڈاکٹرشاہ محمد مری کی زبانی

اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ھیں کہ سی۔آر۔ اسلم نے علامہ اقبال کے فارسی مجمو عے،پیام مشرق کی نظم "نوائے وقت”سے اپنے ھفت روزہ کا نام منتخب کیا اور اس نام کو استعمال کرنے کی اجازت لینے کے لئیے،وہ اپنے کلاس فیلو،حمید نظامی،جواحسان،اخبار میں ان کے کولیگ تھے کے ھمراہ علامہ کے پاس گئے۔ ان سے اجازت لینے کے بعد،نوائے وقت کا ڈیکلیر یشن، حاصل کیا،جب علامہ کو پہلا شمارہ پیش کیا تو وہ بہت خوش ھوئے۔
شیخو پورہ کے شاہ کوٹ نامی قصبے سے چار میل دور ایک گاؤں کوٹ نظام دین میں 1898ء میں حاجی محمد اولیاء کے جو تیسرا بیٹا پیدا ھوا،اس کا نام رحمت الللہ رکھا گیا لیکن انھوں نے شہرت سی۔آر اسلم کے نام سے پائی۔ چودھری صاحب کےشاعری چھوڑنے کے باوجود تخلص اسلم ان کے نام کا حصہ رھا۔
گھر اور لاھورمیں کالج کے اخراجات 25.ایکڑ زمین کی آمدن سے زیادہ تھے،اس لئیے دونوں بھائی گا ؤ ں میں واپس آ کر کاشت کاری میں اپنے والد کا ھاتھ بٹانے لگے ۔
ان کے گاؤں سے ایک میل دور جومعلم عبد الحکیم، فارسی پڑھاتے تھے،سی۔آر اسلم،وھاں بلا ناغہ سعدی کی گلستان بوستان پڑھنے کے لئیے پیدل جانے لگے ۔ان دونوں کتب میں شیخ سعدی نے مختصر حکایات کی شکل میں اپنی سیاحت،تجربات اور مشاھدات کو قلمبند کر دیا ھے،جس سے،بقول سی۔آر۔ کے انھوں نے بہت فیض حاصل کیا ۔فارسی ٹیچر کی ھدایت پر آپ نے 1931ء میں منشی فاضل کا امتحان دے دیا۔1932ءمیں F.A کا امتحان پاس کر لیا اور 1936ء میں آپ نے LL.B. پاس کر لی۔
لاھور میں لینن اور کارل مارکس کی کتب پڑھ کر سوشل ازم کے بارے میں ان کی آگاھی میں اضافہ ھوتا رھا۔نوائے وقت، آپ نے حمید نظامی کے حوالے کر دیا۔ 1940ء میں آ پ انڈر گراؤنڈ کمیونسٹ پارٹی کے میمبر بن گئے ۔پارٹی کی ھدایت پر ملٹری اکاونٹس کی ملازمت چھوڑ کر آ پ نے F.C.کالج میں M.A اکنا مکس میں داخلہ لے لیا۔
1942ءمیں برطانوی سامراج نے کمیونسٹ پارٹی پر سے پابندی ختم کر دی۔114.مکلیوڈ روڈ پر پارٹی کے دفتر میں س۔آر نے جانا شروع کر دیا۔دو تین سالوں ھی میں پارٹی میمبران کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ھو گئی۔
فروری 1946ء میں برطانوی کیبنٹ کا وفد بمبئی میں آ یا،ان کے تین وزیروں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں سے بات چیت کی۔ وزیراعظم کے عہدے کے لئیے پنڈت نہرو اور وزیر خزانہ کے لئیے لیاقت علی کا نام تجویز ھوا۔
گوپال اچاریہ کو نہرو، گورنر جنرل بنوانا چاھتے تھے،جبکہ اس عہدے کے خواھش مند قائد اعظم تھے
ویول کی جگہ ماوءنٹ بیٹن
بطور گورنر جنرل ھندوستان آئے تو انھوں نے برطانوی ھندوستان کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا۔
وزیراعظم ھند نہرو نے ماؤ نٹ بیٹن کو بدستور گورنر جنرل ھند برقرار رکھا اور اس کے ذریعے نو زائیدہ پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے ۔
14۔اگست کو کراچی کے پلٹن میدان جو پولو گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا ھے،میں انتقال اقتدار کی تقریب میں کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے سی۔آر اسلم،کامریڈ جمال الدین بخاری اور ریلوے مزدور لیڈرمرزا ابراھیم شریک ھوئے۔مسلم اکثریت کا ضلع گورداس
پور،ماوءنٹ بیٹن نے انڈیا میں شامل کروا کے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج داخل کرانے کا راستہ فراھم کر دیا،تب سے کشمیری بھارتی ظلم وستم کا شکار ھیں اور دونوں ملک سامراج کے اسلحے کی منڈی بنے ھوئے ھیں۔
سی۔آر۔اسلم کی تحریریں اپنی ذات کی طرح سادہ ھیں،انھوں نے بہت کچھ لکھا۔فلسفہ پر،حالات حاضرہ پر،شخصیات پر، پر،جلسوں،میٹنگوں کی کاروائی پر۔پاکستان کی معاشی اصلاحات پر۔ پران کی قرارداد دیں،قابل غور و فکر ھیں۔ ان کے اخباری ادارئیے تھوٹ،پرو ووکنگ ھوتے تھے۔عالمی تحریکوں اور انقلابوں پر ان کے مضامین قابل مطالعہ ھیں جورجسٹروں میں محفوظ ھیں،کاش جلد شائع ھو سکیں۔
"جمھوری سماج میں عورت کا مقام”، میں سی۔آر نے لکھاھے کہ اس نصف آبادی کو نظر انداز کر کے،معا شرے میں کسی قسم کی اصلاح و ترقی ممکن نھیں،
اس تصنیف میں انھوں نے قدیم اشتراکی سماج،قبائیلی دور،فیوڈل ازم اور سرمایہ داری نظام تک انسانی ارتقاء کے ھر ھر مرحلے پر عورت کے استحصال کے اسباب اور اس کی صورتیں،مدلل انداز میں پیش کیں،اور ان سے نجات کے طریقے بھی بتلائے۔
"اقبال کا پیغام میری نظر میں”،اس کتاب میں، سی۔آر نے مغالطہ سازوں کو بے نقاب کیا ھے۔علامہ کے شعوری سفر کا جائیزہ لیتے ھوئے،آپ نے لکھا ھے کہ انھوں نے انگریزوں کی غلامی کو محسوس کیا۔جاگیر داروں اور ان کے اتحادیوں کا جبر ناپا۔ملاوءں اور پیروں کی کرامات کے جال کامطالعہ پیش کیا۔یورپ کے صنعتی معاشرے میں مزدوروں کا استحصال دیکھ کر،علامہ سامراج،سرما یہ داری اور جاگیر داری کے خلاف شاعری کرنے لگے ۔
"عالم اسلام مبتلائے زوال کیوں ھے؟” اس تصنیف میں سی۔آر۔نے یہ سوال اٹھایا ھے کہ اگر اس کا باعث،مذھب سے بغاوت ھے تو مذھب سے باغی دوسری قومیں کیوں اس قدر ترقی کر رھی ھیں؟ انھوں نے جاگیرداری و سرمایہ داری نظام کو اس کا سبب قرار دیا ھے۔انھوں نے زور دیا کہ جب تک سامرا جی قرضوں سےجب تک چھٹکارا حاصل نھیں کر لیتے،زوال کے گرداب میں پھنسے رھیں گے۔
” اکتوبر انقلاب” ، میں
1917ءسے لےکر 1974ء تک سوویت یونین کی تاریخ پیش کی گئی ھے۔لینن نے تمام قوموں کے حق آزادی کو تسلیم کیا،
٫علم المعیشت”،میں کیپیٹل سائینس کا خلاصہ بیان کر کے،پاکستان کی صورت حال سے مثالیں دے کر،اس کتاب کو سی۔آر۔اسلم نے عام فہم بنا دیا ھے۔
” اس عہد کی نئی حقیقتیں اور اسکے تقاضے”, یہ کتابچہ ضیاء آمریت کے اختتام اور انتخابات کے نتیجے میں آنے والی نئی حکومت کے دوران شائیع ھوا۔اسمیں یہ سوال اٹھائے گئے تھے،کیا فوج نے قومی اسمبلی کی بالادستی تسلیم کر لی ھے؟اگر ایسا نھیں ھے تو کیا اس صورت میں پاکستان کے جمھوری اور سیکولر عمل کو مستحکم کیا جاسکتاھے؟ کیا یہ درست ھے کہ اس وقت عوام کو سچ بتانے، انھیںں جمھوریت کو لا حق خطرات سے آگاہ کرنے اور انھیں حرکت میں لانے سے بڑا کوئی انقلابی کام نھیں ھے؟؟
سی۔آر۔اسلم نے سوشل ازم کو اپنی عادت کا حصہ، اپنی اخلاقیات کا منبع اور اپنی زندگی میں اوڑھنے بچھونے کا مقام دئیے رکھا، جیلوں میں بھی درس مسا وات دیتے رھے۔نہ پیسے پر جھکے،نہ خوف سے رام ھوئے۔ 10 جو لائی 2007ء کو آپ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*