کامریڈ، تمہیں لکھے گئے خط کون پڑھے گا

کامریڈ !
کہاں ہو
کس محاذ پر ہو
مرگئے ہو
یا بچے کھچے بے روح جسم کے ساتھ
بقائے زیست کے لیے اجل سے نبرد آزما ہو ؟
کامریڈ!
کائنات کے نامعلوم کناروں تک پھیلی ہوئی
محبت کو دل میں سمیٹتے ہوئے
کیوں نہ سوچا
تمہارے د±ھول اور مٹی ہوتے وجود کو
کہیں ایک کتبے کی جگہ بھی نہیں ملے گی
کامریڈ!
تمہارے پاس سیبوں اور مالٹوں کے باغ نہیں تھے
نہ تمہاری دیواروں پر انگوروں کی بیلیں تھیں
تمہارے دوارے
کن دوشیزائوں نے خالی ٹوکریاں پھلوں سے بھرنے آنا تھا
تمہیں تو بس
سوکھے بیروں اور کانٹوں سے بھری جنگلی جھاڑیوں سے گزرنا تھا
قفل لگے زنگ آلود آہنی گیٹوں
کائی زدہ سنگی سیڑھیوں
جھکی ہوئی قدیم چھتوں پر اگی گھاس
اور ناہموار زمینوں پہ کِھلے
ڈیزی کے خود رو پھولوں کا دفاع کرنا تھا
کامریڈ !
اب اداس کیوں ہو
ہارے ہوئے سپاہیوں کا مقدر
خالی ہتھیاروں، بوسیدہ وردیوں کے ساتھ چلتے ہوئے
تنہا راستوں کی تھکن ہوتی ہے
محبت فاتح شہر کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتی ہے
کامریڈ!
مجھے یہ نظم لکھتے ہوئے
خود پر نہیں تم پر رونا آ رہا ہے
میں نے تو محبت کو
پاس نہ ہوتے ہوئے بھی
دل سے دور نہیں کیا تھا
اور نوشتہ ہوئے بغیر ہزارہا سندیسے ہوا کو تھما دیئے تھے
میرے لیے ہار اور جیت میں کوئی فرق نہیں تھا
لیکن تم اس میدان میں
لڑے بنا، بے مرگ مارے گئے ہو
تمہیں لکھی گئی چٹھیاں
اور ان پہ چسپاں ڈاک کے خوش نما ٹکٹ
اب کن ہاتھوں کا لمس بنیں گے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*