غزل

میں روشنی کے تسلسل کو ٹوٹنے ہی نہ دوں
میں شمع بن کے بچھوں، آفتاب بن کے جلوں

شمیم گل ہوں تو کوندے کی طرح کیوں لپکوں
میں سہج سہج کی فضا میں حلول کرتا رہوں

مری فنا میں بقا کے ہزار تیور ہیں
میں خون ہو کے دلِ کائنات میں دھڑکوں

چراغِ آخرِ شب ہوں، مگر تمنا ہے
مسافروں کو افق پر دکھائی دوں تو بُجھوں

میں آدمی ہوں عجب طرح کا ستارا مزاج
کہ بار بار سرِ اوجِ آسماں ٹوٹوں

مری اکائی کو جب بھی غنیم للکارے
میں برق بن کے گروں، میں بگولا بن کے اٹھوں

مرے وجود کا مفہوم اجتماع میں ہے
خدا کرے کہ میں انسان سے خدا نہ بنوں

وہی جو دن کو سنی ان سنی کیے جائے
تمام رات میں سرگوشیاں اسی کی سنوں

ہوا مجھے بھی لگی ہے نئے زمانے کی
کہ میں بھی اپنے گریباں کے چاک خود سی لوں

خدا ملا تو ہوئی جستجو تمام ندیم
سو طے کیا کہ اب اپنی تلاش میں نکلوں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*