مانو کہ خود سے جھوٹ بولتے رہے ہو!۱

دماغوں میں کم غذا ڈالنے والے ہمارے حکمران دوسروں کے سامنے جھوٹ بولتے رہنے کے اتنے عادی بن چکے ہیں کہ اب وہ اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ انہیں اب احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ خود سے جھوٹ بول رہے ہیں۔
ہم 2024 کے بجٹ پر بات ہی نہیں کرتے کہ یہ جاگیرداروں ، مولویوں، پیروں ، میڈیا مالکان ، فوج ،بیوروکریسی ، اور عدالت کا بجٹ ہے ۔ ایسے لوگوں اور طبقوں کا بجٹ جو عوام کے مد مقابل کھڑے ہیں ۔اس لیے عوام کو ان سے بھلائی کی کوئی توقع ، کوئی امید نہیں ۔ عوام سولر کی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ، وہ پینے کے لیے پانی کا پرائیویٹ ٹینکر منگواتے ہیں، اس کے بچے گندے اور پست پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہیں، سرکاری سہولتیں نہیں ہیں لہٰذا لوگ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں، میونسپل کارپوریشن گلی محلوں سے کچرا نہیں اٹھاتی ۔حتیٰ کہ جان و مال کی حفاظت بھی سرکار نہیں کرتی اس لیے گلی میں پرائیویٹ چوکیدار رکھنا پڑتا ہے ۔
مہنگائی اور بے روزگاری دو نوکیلی سینگیں ہیں جو مزدووروں کسانوں ، ماہی گیروں اور مڈل کلاسز کے سینوں میں پیوست ہیں۔اس لیے بجٹ کی تیاری پہ جتنے گھنٹے لگے ، ٹی وی پہ اس کے بارے میں گفتگو کے جتنے دن لگے سب کا مقصد انہی دو ، نوکیلی سینگیں سہنے کے لیے لوگوں کو تیار کرنا تھا ۔ارب پتی حاکموں کو کسی غریب کی بیٹی کی شادی نہ ہو سکنے کے غم کا بھلا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔ کروڑوں کسانوں کی گندم نہ خرید کر کتنی بڑی تباہی مچادی گئی مگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ضحاکوں کو کیا پرواہ۔ یہ اتنے فضول لوگ ہیں کہ بجٹ کو بہتر تو بنا نہیں سکتے ، بس اچانک ٹھک سے فیملی پلاننگ کو بطور حل پیش کرتے ہیں۔ سرکار ،عوامی بہبود والے بجٹ کی اپنی دروغ گوئی میں واقعتا سمجھتی ہے کہ اس نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے۔
حکمران طبقات واقعی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والی قومیں بہت خوش ہیں۔ مسنگ پرسنز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ جگہ جگہ فوجی کارروائیاں لوگوں کو نظر نہیں آرہیں۔ انہیں یقین ہے کہ بلوچ کو گوادر کے کھوجانے کا کوئی رنج نہیں ، ریکوڈک اور سیندک معمولی سی باتیں ہیں۔ حکمرانوں کو واقعی یقین ہے کہ محکوم قومیں جدید نو آبادی نظام کو نہیں سمجھتیں۔
حکمران طبقات کا پکا خیال ہے کہ وہ بنیاد پرست نہیں ہیں۔ انہیں اپنے اس سب سے بڑے جھوٹ کے جھوٹ ہونے پر بھی یقین نہیں ہے کہ وہ ہی پین اسلام ازم کی سب سے منظم ” سیاسی“ پارٹی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ مجمع کی طرف سے کافر قرار دے کر لوگوں کو ننگا کرنے ، جلا ڈالنے اور لاش گھسیٹنے میں حکمرانوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو نصاب انہوں نے بنا رکھا ہے وہ بہت ہی رواداری سکھانے والا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ انہوں نے پچاس سال سے افغانستان میں جو شدادی کی وہ محض شغل تھا، اور اس کا کوئی رد عمل نہیں پکے گا۔ ان کا خیال ہے کہ ضیاءالحق سے لے کر پرویز مشرف تک ملک کے چپے چپے میں جو مدارس قائم کیے گئے اُن کا اثر بالکل نہیں نکلے گا اور مذہبی جنونیت نہیں پھیلے گی۔ حکمرانوں کا خیال ہے کہ اسلحہ وہی ،فوج وہی ، فوجی بھی وہی اور طالبان بھی وہی مگر اُسی آپریشن کا نام تبدیل کردینے سے جنگ کا نقشہ بدل جائے گا۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ دہشت گردی صرف جنگ اور آپریشن کے ذریعے ختم نہیں ہوتی۔ کبھی اس نامعلوم مالک کا پراجیکٹ ”آپریشن راہِ حق “ کے نام سے جاری رکھا گیا پھر نام بدل کر ”آپریشن راہِ راست “۔ بات نہ بنی تو” راہِ نجات “، ”ضرب عضب “اور ”رد الفساد“ ۔۔۔۔اور اب اس کا نام ”عزم استحکام “رکھا گیا ہے ۔جھوٹ بول بول کر انہیں اندازہ ہی نہ رہا کہ لڑنے والے دونوں فریق بنیاد پرست ہیں، دونوں فریق اقلیتوں کو تباہ و برباد کرنا ، یا اپنے مذہب اور اپنے فرقے میں شامل کر نا چاہتے ہیں۔ دونوں اطراف دنیا بھر میں یہودی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔دونوں ہی مغرب کو کفر کا گڑھ سمجھ کر اسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ حکمران اپنی پالیسی میں ذرا سی تبدیلی کیے بغیر سمجھتے ہیں کہ وہ مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف جنگ جیتیں گے ۔ ۔۔۔ غضب یہ ہے کہ یہ سارے آپریشن بنیاد پرستی کے ہیڈ کواٹر صوبے میں نہیں ہو رہے بلکہ یہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہوتے رہے ہیں ۔
انہیں واقعی یقین ہے کہ ساری معاشی ، سماجی اور کلچرل نا انصافیوں بے عدلیوں کے باوجود ملک کو کچھ نہ ہوگا۔ وہ نو مئی دوبارہ نہ ہونے پہ بالکل واثق یقین رکھتے ہیں اور ان کا یہ بھی یقین ہے کہ 9مئی والوں کی سوچ میں اور خود اُن کی اپنی سوچ میں بہت فرق ہے ۔
یہ اس قدر نابینا ہیں کہ انہیں مذہبی اقلیتوں پہ جاری غیر انسانی سلوک نظرہی نہیں آتا۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ بے حقوق اقلیتی فرد جب مسکرانا بھی چاہے تو اُس سے رونا نکلتا ہے ۔انہیں واقعی اندازہ نہیں کہ عورتیں جانوروں کی زندگیاں جی رہی ہیں۔ تعلیم و صحت سے محروم، مشقت و گھریلو تشدد سے لدی پھندی اور ہمہ وقت طلاق و سیاہ کاری کے بھیانک خوف میں جیتی ہیں۔
جھوٹ بول بول کر اب انہیں یہ بات جھوٹ لگتی ہی نہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ۔ ان کو پکا یقین ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ سپریم ہے ، عدلیہ آزاد ہے ، پریس فری ہے ، ٹریڈ یونین ازم پہ کوئی پابندی نہیں ہے ۔سٹوڈنٹس پالٹکس پہ کوئی قدغن نہیں ہے ۔ وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ عوام Soverign ہیں۔ وہ چاہیں اسے ففتھ جنریشن پروپیگنڈا کہیں یا سکستھ ۔۔۔۔لیکن انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ یہ داﺅ پیچ کسی دشمن ملک پہ استعمال نہیں کررہے بلکہ اپنے ہی عوام پہ اس کا اطلاق کر رہے ہیں۔ اُن کو ابھی تک احساس نہیں ہے کہ انہوں نے سب سے بڑا دشمن پاکستان کے عوام کو سمجھ رکھاہے ۔
حکمران طبقات کو اندازہ ہی نہیں کہ سارے ادارے مفلوج کر دیے گئے ہیں۔ ایک بھی ادارہ سلامت نہیں ۔ ایک بھی سیاسی پارٹی سالم نہیں ۔
فیوڈلوں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کا پیدا کردہ معاشرہ کپٹلسٹ نظام کی سیاسی معاشی سماجی کلچرل اور نظریاتی بحران کا مجسم نمونہ بن چکا ہے ۔ حکومت پہ اعتماد اس کی تاریخ میں سب سے نچلی سطح پہ ہے ۔ بڑھتے ہوئے عدم مساوات پہ عوام الناس کا غصہ اس کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے ۔ جامداجرتیں ، بلند قیمتیں ، کلائمیٹ تبدیلیاں۔۔۔۔ یہ سب خوف کے بڑھتے ہوئے احساس ، عدم استحکام اور غیر یقینت کو بڑھاتی ہیں۔ ابلاغ عامہ، علم کے مراکز اور سیاسی پارٹیوں سے بد دلی اب بہت وسعت پاچکی ہے ۔ یہ سب کچھ ، اعتبار اور شناخت کے جامع بحران کی غمازی کرتا ہے ۔ فاشزم اب متبادل کے بطور خوب پروان چڑھ رہا ہے ۔
ستر برسوں سے جاری ایک مارشل لائی ، ون یونٹی اور ملّا ئیت والی حکمرانی نے سوائے بے کیفی اور کٹرپن کے کچھ بھی پیدا نہ کیا۔ عقل و دلیل اور مباحثے کی گنجائش کم سے کم ہوتی گئی ۔ سوچنے اور سوال کرنے کی عادت کی حوصلہ شکنی کرتے کرتے سارے معاشرے کو ”بے شک ، بے شک “ اور ”جی سر، جی سر“ کرتے رہنے پر لگا دیا گیا۔ نئے نئے آئیڈیاز کو نیست و نابود کرنے کے لیے بیلارس نامی ٹریکٹروں جتنی ہیوی مشینری سے بند باندھے گئے ، انسان کے وقار کا وقار ختم ہوا ۔ سولائزیشن کی جگہ ڈنڈے ماری اور بربریت نے لے لی۔
حکمران گذشتہ پون صدی سے انسانیت پہ غیر انسانیت مسلط کرتے رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والی عوامی مزاحمت کو سختی سے کچلتے رہے ہیں۔ جب اکثریتی حصے میں انکار اور اختلاف نہ رہے تو انسان اور (چنانچہ پورا سماج )آہستہ آہستہ اپنی انسانیت کھوتا چلا گیا۔ اور اب یہ ایک بانجھ خطہ رہ گیا۔ اگر کہیں کچھ ہے بھی تو مشترکہ حقوق کی بات نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے فرعون لیڈروں کے لیے آپس میں دست و گریبانی ہے ۔۔جاہل ترین معاشرہ ۔خوف کے ہاتھوں دو چہروں والا معاشرہ۔ اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولنے والا معاشرہ!
اِس جھوٹے، الٹے سماج کو سیدھا کرنے کا عزم کرنا بھی ایک بڑی نیکی ہے ۔ یہ ایک فرد سے نہیں ہوگا، ایک ماہ ایک سال میں نہ ہوگا۔ یہ تو ایک منظم و باشعور اور مضبوط سیاسی انقلابی پارٹی کی قیادت میں عوام الناس کی وسیع شرکت سے ممکن ہوگا۔ اُس جانب بڑھیے ۔ کسی مہا انقلابی کا انتظار نہ کیجئے ۔ اپنے موقف کو لے کر اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے چھوٹے گروپوں میں منظم ہونا شروع کیجئے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*