کمیونسٹ جرائد کا تاریخی سفر

ہفت روزہ عوامی جمہوریت

اس کے علاوہ اس شمارے میں وہاڑی کسان کانفرنس کی رپورٹ شامل ہے۔ اور اس کے بعد تو حسبِ معمول اُن نام نہاد سوشلسٹوں پہ لفظوں کی چابک بازیاں ہیں جو پیپلز پارٹی کو انقلابی اور مارکسسٹ پارٹی قرار دینے کا مکروہ کام کر رہے تھے ۔ عنوان : ”موقع پرست سیاست “ ۔
ایک نظریاتی مضمون ” سوشلزم اور جنگ“ کے موضوع پر ہے جو دراصل لینن کی تحریر کا ترجمہ ہے ۔
25نومبر1972میں ”درست فیصلہ “ کے عنوان کا اداریہ چھپا ہوا ہے ۔ جس میں پاکستان کی طرف سے تین سوشلسٹ ملکوں کو تسلیم کرنے کے اقدام کو سراہا گیا۔ یہ ممالک شمالی کوریا ، شمالی ویت نام اور مشرقی جرمنی تھے ۔ ساتھ ہی دوسراادارتی نوٹ ہے جس میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رسالہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو سوشلسٹ بنا کر پیش کرنے والے موقع پرست دانشوروں کی گردن ناپتا ہے ۔ ۔۔۔عنوان ہی سے اس ادارتی نوٹ کا ٹون معلوم ہوجاتا ہے :”بورژوا مفادات کی ترجمان پیپلز پارٹی۔۔۔“
” جھلکیاں“ نامی مضمون کے ابتدائی فقرے یوں ہیں:”پیپلز پارٹی کی پروپیگنڈہ مشینری کو انتخابی مہم کے دوران چلانے میں نام نہاد سوشلسٹوں نے حصہ لیا اور اُس کی حکومت کے سائے میں اپنے اور اس پارٹی کے مخالف سوشلسٹوں کے خلاف رسواکن مہمیں چلائیں ۔۔۔اور پھر ہر دو چھوٹے صوبوں بالخصوص سرحد میں پیپلز پارٹی کے اس عزم کو سہارا دینے اور ہموار کرنے کی بھر پور کوشش کی کہ وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود سندھ پنجاب کی طرح سرحد و بلوچستان میںبھی حکمرانی کرے “۔اندازہ کیجیے کہ پیپلزپارٹی کے یہ نوبھرتی شدہ دانشور کس قدرموقع پرست لوگ تھے۔ انقلاب تو کیا انہیں تو عام جمہوری رویوں تک کی تمیز بھی نہ تھی۔اکثریتی حکومتوں کوتڑوا کر اقلیتی حکومتوں کو مسلط کرنا ۔ یہ تھا ان کاانقلاب !!۔اخبار عوامی جمہوریت اور پارٹی دونوں نے پیپلز پارٹی میں پناہ گزیں اِن سوشلسٹوں کے مزدور دشمن پروپیگنڈہ کو کبھی نظر انداز نہ کیا ۔ایک مستقل نظریاتی صفائی ستھرائی کا وظیفہ تھا جسے وہ جاری رکھے ہوئے تھے۔
بلاشبہ یہ اہم سماجی فریضہ تھا ۔ اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو پیپلز پارٹی کے بلند آہنگ بھگوڑے لفٹسٹ ،مزدور تحریک اور اُس کی نمائندہ سیاسی پارٹی ،پاکستان سوشلسٹ پارٹی میں انتشار پھیلانے میں کامیاب ہوجاتے۔اور جو تحریک پہلے ہی کمزور تھی مزیدنحیف ہوجاتی۔ اِس پروپیگنڈہ مہم کے دفاع میں سوشلسٹ پارٹی کی نظریاتی دستاویزات جو عوامی جمہوریت اور پمفلٹوں کی صورت میں شائع ہوتی رہتی تھیں ،ایک زبردست قسم کا ڈھال تھیں۔
2دسمبر 1972کا شمارہ بھٹو کی خارجہ پالیسی پہ تنقید پر مبنی ہے ۔ اس میں سی آر اسلم کی طرف سے نومبر کے آخر میں کی جانے والی پریس کانفرنس بھی دی گئی ہے جو کہ پاکستان کے آئین کی بہت سی باتوں پہ اتفاق سے متعلق ہے ۔ سی آر اسلم نے بالخصوص آئین کو پارلیمانی اور وفاقی بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ البتہ اس میں مزدوروں کے حقوق اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیار دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔
16دسمبر کا اداریہ ” سوشلسٹ انقلاب کا مینار نور“ والا عنوان رکھتا ہے ۔ یہ دراصل ویت نام کو پاکستان کی طرف سے تسلیم کیے جانے پہ منعقدہ اُس جشن کا احوال ہے جوپاکستان سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے لاہور میں منعقد کیا گیا ۔ مگر کھچا کھچ بھرے ہال میں تقریروں نعروں کی طرح رسالے کے ایڈیٹوریل میں بھی یہ احتیاط رکھی گئی کہ اس سے پیپلز پارٹی سامراج دشمن یا سوشلسٹ پارٹی قرار نہ پائے ۔ وہ اس حکومت کو بورژوا حکومت قرار دے کر اس فیصلے کو پاکستان کے عوام کے دیرینہ مطالبہ کا نتیجہ قرار دیتا ہے ۔
عوامی جمہوریت کا 23دسمبر کا شمارہ بورژوا دانشوروں کی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ”معاشی ترقی کا راستہ ملی جلی معیشت میں ہے “۔دلچسپ ہے کہ آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی بہت سارے گوسفند پوست بھیڑیے دانشور سوشلزم اور کپٹلزم کا مکسچر پلانے کی سمیناری تقریریں کرتے پھرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پچاس سال قبل ان کی مخالفت کی جاتی تھی مگر آج انہیں انقلابی اکانومسٹ قرار دے کر تا لیوں سے نوازا جاتا ہے ۔
رسالہ کے نزدیک معاشی ترقی کے لیے تین شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے ۔
1۔50ایکڑ زرعی اراضی کی حد ملکیت رکھ کر اوپر کی ساری اراضی بلامعاوضہ لے کر مزار عوں ، کھیت مزدوروں اور کسانوں میں تقسیم کی جائے ۔
2۔ غیر ملکی سرمائے پر انحصار ترک کیا جائے ۔
3۔ اجارہ دار صنعتوں، بنکوں ، بیرونی تجارت اور غلے کی تجارت کو قومی ملکیت میں لیا جائے ۔
رسالہ اپنے بقیہ صفحوں میں روز مرہ کی معاشی نظریاتی بحثوں کو چھیڑتا ہے جن کا مقصد ایک سوشلسٹ معیشت کی تفہیم اور اُس کے قیام کی ضرورت واضح کرنا تھا۔
30دسمبر کے شمارے میں ایک عجب سرخی لگادی گئی:” پیپلز پارٹی کا سامراج نواز سوشلزم “۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس طنز بھرے عنوان کے نیچے متن کس قدر زہر میں بجھی چاقو بازی کرتا ہوگا۔ جن لوگوں کو بھٹو کی منتقمانہ فاشسٹ مزاج کا معلوم ہے انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ رسالہ خودکشی کی حد تک اُس کی مخالفت کر رہا تھا۔ بھٹو کی مخالفت اور وہ بھی باریک بینی سے !!۔
اداریہ پاکستان کا آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کو اپنی سفارشات دیتا ہے ۔” ایسا آئین جس میں محنت کش عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ دیا گیا ہو، طبقاتی نمائندگی کااصول موجود ہو ، صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں کو نجی املاک کو بلامعاوضہ قومی ملکیت قرار دینے کا حق حاصل ہو“۔

1973

6جنوری1973کا ٹائٹل مضمون ”آمد ِ سالِ نو 1973“ہے ۔ یہ پانچ صفحوں پہ مشتمل اس شمارے کا طویل ترین مضمون ہے ۔ اس مضمون کی ابتدا اِن خوبصورت الفاظ پر مشتمل ہے: ”۔۔ 1972کا سال اپنی پشت پر واقعات ، حادثات اور تبدیلیوں کا بوجھ لادے خود تو ختم ہوگیا لیکن اپنے بوجھ اور اس کے نتائج کو آنے والے 1973کے سپرد کرگیا“۔
اس مضمون میں پچھلے سال کے واقعات کا تذکرہ موجود ہے ، بین الاقوامی بھی اور پاکستان میں بھی ۔
اس شمارے میں 31دسمبر1972میں منعقد ہونے والی پارٹی کی مرکزی کمیٹی میٹنگ کی قرار دادیں موجود ہیں۔
13جنوری کاشمارہ پاکستان کے ”مجوزہ آئین “ جو کہ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی تھی، پراپنا موقف دیتا ہے ۔ اس مضمون میں کسی ملک کے لیے آئین کی اہمیت اور افادیت پہ بحث کی گئی ۔ پاکستان میں طبقاتی سماج کے وجود اور گہرائی و گیرائی کا تذکرہ کیا گیا۔ چنانچہ پہلے تو اس بنیاد پر اسے مسترد کیا گیا کہ بالائی طبقات کے تیار کردہ اِس آئین میں محکوم طبقات کے لیے اس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ گوکہ اس میں فیڈریشن کی بات کی گئی ہے مگر اس میں قبائلی علاقوں اور ریاستوں کا وجود رہنے دیا گیا ہے ۔ اس آئین میں ایک مذہب کوسرکاری مذہب قرار دے کر دوسرے مذاہب اور ان سے وابستہ لاکھوں ہم وطنوں کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ بے شمار بنیادی انسانی حقوق کے برخلاف باتیں اس میں ڈال دی گئی ہیں۔ نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قائم کر کے قومی اسمبلی کی خود مختاری پہ وار کیا گیا ۔ آئین میں زمین، کارخانوں اور بنکوں کی نجی ملکیت کا تحفظ کیا گیا ہے ۔

20جنوری کے عوامی جمہوریت کا اداریہ ہے :” جمہوریت کا تماشہ نہ بنائیے!“۔ اس میں ایک کمال بات کی گئی۔۔۔”مسٹر بھٹو کی محض جمہوری اور پارلیمانی بنیاد پر مخالفت مسٹر بھٹو کے بعد ایک نئے صدر ایوب کو جنم دے گی جو پھر ایک نئے یحیٰ خان کو ملک کا آمر بنا کر رخصت ہوگا اور پھر ایک نیا راہنما ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ایک نہ ختم ہونے والا چکر چلتا رہے گا۔ مگر جمہوریت بحال نہ ہوگی۔ ۔ خواہ اقتدار پی پی پی کے ہاتھ میں آئے یا جماعت اسلامی کے ہاتھوں یا نوابزادہ نصراللہ کومل جائے نتائج یکساں برآمد ہوں گے کیونکہ ان تمام کی طبقاتی ضروریات بھی یکساں ہیں۔۔۔۔
اس شمارے میں ایک مضمون ”دوست دشمن “ کے نام سے موجود ہے:
”اس سلسلے میں ہم بلوچستان کی ایک مثال پیش کرتے ہیں ۔سامراجی اقتدار کے نو آبادیاتی دور میں بلوچستان کو انتہائی پسماندہ علاقہ کہا گیا اور آج بھی کہا جارہا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو بلوچستان کے صحیح حدو دا ربعہ تک کا علم نہیں ۔ان کے تصور میں بلوچستان ایک لق و دق صحرا ہے ۔یہاں بلوچ گڈریے بھیڑوں کی کھالیں اتارتے رہتے ہیں۔ اس تصور کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم آزادی کے 25سال گزار چکے ہیں مگر بلوچستان میں نہ کالج ہیں نہ سکول ۔اور وہاں کی یونیورسٹی وعدوں کے سراب کا شکار ہے ۔نئی تعلیمی اصلاحات میں اس کا ذکر ضرور ہے کہ بلوچستان کی یونیورسٹی میں ایک ملحقہ کالج بھی قائم کیا جائے گا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ بلوچستان 25سال گزر جانے کے باوجود اپنی صحت کے ذرائع سے محروم ہے۔ ڈاکٹر بھی دوسرے صوبوں سے لائے جاتے ہیں ۔صدرِ مملکت نے خدمتِ عوام کا نعرہ لگایا تھا ہم نے اس کی مثال اوپر بیان کی۔ بات کلچروں کے پھلنے پھولنے کی کی جاتی ہے جبکہ عمل اس طرح ہوتا ہے ۔
”پاکستان کی بیشتر معدنیات بلوچستان کے پہاڑوں میں دبی ہوئی ہیں ۔اس کو لمبے ساحل سے سالانہ کروڑوں روپے کی مچھلیوںسمندری کیکڑوں وغیرہ سے حاصل ہوتے ہیں جس کا تین فی صد بلوچستان کے عوام کو ملتا ہے اور 97فیصد مرکز کے خزانے میں پہنچتا ہے ۔عمدہ بندرگاہیں مفقود ہیں۔ اس قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے کی زبوںحالی ایک سوالیہ بنی ہوئی ہے ۔
”فشریز اور میرین بیالوجی کا انسٹی ٹیوٹ بلوچستان کی بجائے دوسرے علاقوں میں ہے ۔قدرتی گیس بلوچستان سے حاصل ہوتی ہے ۔کان کنی اور جیالوجی اور معدنیات کی سائنس پنجاب اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہے۔ پیٹروکمیکل کا ادارہ بھی دوسرے علاقے میں ہے ۔ یعنی اس مخصوص علاقے کی پیداوار پر دوسرے صوبوں کے سرمایہ داروں اور افسر شاہی کا قبضہ ہے۔ بلوچستان کی بنیادی تعلیم سے بے پرواہی کا یہ افسوسناک نقشہ ہے ۔جیسا ہم شروع میں کہہ چکے ہیں ہر علاقے کے پیداواری طریقے مختلف ہوتے ہیں اور اگر اس حقیقت کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو علاقائی ترقی رک جاتی ہے ۔ ہمارے نزدیک بلوچستان کی مخصوص پیداوار پر وہاں کے عوام کا پورا حق ہونا چاہیے ۔اس علاقے کی پیداوار بڑھانے کے تمام مسائل کا اختیار براہِ راست وہاں کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے ۔تعلیم کے تمام شعبوں کا قیام ان کی مخصوص پیداوار کے لحاظ سے عمل میں آنا چاہیے ۔ دوسرے الفاظ میں بنیادی تعلیم سے لے کر سائنس، فنی تعلیم تک پورے اختیارات علاقائی ہاتھوں میں ہونے چاہئیں کیونکہ مرکزی خیراتوں سے یہ کام نہیں چل سکتا۔ بلوچستان قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال ہے ۔اس کی پیداوارسے ہی علاقے کو ترقی دی جاسکتی ہے اور پسماندگی کو دور کیا جاسکتا ہے ورنہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔“

27جنوری 1973کا عوامی جمہوریت تو سمجھیے خارجہ امور پہ وقف تھا۔ پہلا اہم مضمون تو عظیم انقلابی رہنما، ہوچی من پہ ہے ۔ اس کی بایوگرافی دی ہوئی ہے۔یہ کہ کس طرح وہ نیشنلسٹ بنا، سوشلزم سے آشنا ہوا اور اپنے وطن کی آزادی اور انقلابی جدوجہد میں کس طرح بین الاقوامیت میں گُھل گیا۔
ایک مضمون ہنگری کے انقلابی شاعر پتوفی پر ہے۔ اچھا، خوبصورت اور مفید مضمون۔

3فروری کا لیڈنگ آرٹیکل بھی ویت نام پر ہے جو کہ 23فروری کو امریکہ اور رپبلک آف ویت نام کے مابین جنوبی ویت نام میں قیام امن کے لیے سجھوتہ ہونے پر لکھا گیا۔ بہت مسرور اور پر امید مضمون ۔

3مارچ 1973کے شمارے جلی سرخی کے ساتھ اعلان ہے کہ ”پاکستان کی خارجہ پالیسی سامراج نواز ہے “ ۔ وہ دن اور آج کا دن نصف صدی گزر گئی ہے ۔ یہ ملک ابھی تک سامراج نواز ہی ہے۔
شمارے میں ملک میں پارٹی کی سرگرمیوں پہ مفصل رپورٹیں شامل ہیں۔ نیز ایک نظریاتی مضمون ”مارکسزم اور ریاست“ کے نام سے موجود ہے ۔
17مارچ کا شمارہ سرائے عالمگیر میں کسان کانفرنس کی تفصیل پر مشتمل ہے ۔ ایک مضمون سامراجی قرضوں پر ہے جو اخبار کے مطابق پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں۔ نظریاتی مضمون سوشلسٹ ریاست“ کی اگلی قسط بھی شمارے میں شامل ہے ۔
24مارچ 1973کے شمارے کا اعلان ہے کہ ”سامراج سا لمیت کا محافظ نہیں ہوسکتا“۔ پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی اور قرار دادیں ہیں سوشلسٹ ریاست کے بارے میں نظریاتی مضمون ہے ۔
31مارچ کے شمارے میں23مارچ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں متحدہ محاذ کے جلسے پر بھٹو کی یلغار کی سخت مخالفت کی گئی ۔ جہاں نیپ کے 9افراد کی جانیں گئیں۔ مضمون میں پیپلز پارٹی اور اس کے نقار چیوں کی طرف سے اس بات کی بھی مذمت کی گئی کہ پاکستان میں پنجابی ، سندھی، اور پختون قومیتوں کا نام لینا جرم ہے ۔ اخبار نے پیپلز پارٹی کا یہ ڈھنڈورا بھی نہیں مانا کہ پاکستان صرف ایک قوم ہے ۔
7اپریل 1973کے شمارے کا طویل ترین مضمون تو کارل مارکس کی زندگی اور تعلیمات پر ہے ۔ یہ رسالے کے تقریباً تین بڑے صفحوں پر مشتمل مضمون ہے ۔ اس کے علاوہ 23مارچ کو پشاور میں منعقد ہونے والے سوشلسٹ کنونشن کی رپورٹ ہے ۔ جس میں عبدالوحید ایڈووکیٹ کی طرف سے وہاں کی سیاسی اور تنظیمی رپورٹ پڑھی گئی ۔ اسی رپورٹ میں ذکر ہے کہ صوبہ سرحد میں عبدالرزاق خان کو پارٹی صدر اور عبدالوحید ایڈووکیٹ کو صوبائی جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا ہے ۔
14اپریل کے شمارے میں ایک بار پھر راولپنڈی میں نیپ کے ورکروں کے قتل عام کے خلاف اداریہ لکھا گیا۔
21اپریل کا اخبار لینن کے یوم پیدائش (22اپریل) کی مناسبت سے اس کی زندگی اور تعلیمات پر ایک طویل مضمون لیے ہوئے ہے ۔ ایک نسبتاً مختصر مضمون آرٹسٹ پکا سوپر ہے۔
بھٹو کی زرعی اصلاحات کا مذاق اڑایا گیا ۔ ”پیپلز پارٹی کی زرعی اصلاحات نے ثابت کردیا ہے کہ وہ سرمایہ داروں جاگیرداروں وڈیروں کے مفادات کی نگران اور ترجمان جماعت ہے ۔ وہ مزارعوں ہاریوں مزدوروں اور محنت کشوں کے مسائل حل کرنا نہیں چاہتی “۔
28اپریل کے شمارے میں ”سرمایہ داروں جاگیرداروں کا آئین “ کہہ کر بھٹو والے آئین کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔ ۔ “ صوبائی خود اختیاری کا تقاضا کرنے والوں بھی اس طرح کی صوبائی خود اختیار مل گئی ہے کہ مضبوط مرکز کی گرفت میں فرق نہ آیا۔ ۔۔۔ بلوچستان ہو کہ سرحد یا سندھ، مرکزاسی طرح کسی صوبے سے استصواب کیے بغیر معدنی خزائن کے علاقے جس کو چاہے بخش سکتا ہے ۔
5مئی کے شمارے میں مین مضمون تو یوم مئی پر ہے ۔ اس میں شکاگو کے مزدوروں کے قربانی کے پس منظر کو بیان کیا گیا اور اس پس منظر میں پاکستان کی مزدور تحریک کے لیے اسباق کی بات کی گئی ۔ دو صفحات کی طوالت کا ایک مضمون اینگلز کا ہے۔ “ انسان کی تعمیر میں اس کی محنت کا حصہ“ ۔ اسی طرح 15اپریل کو لاہور میں منعقدہ پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی سالانہ لیبر کانفرنس کی رپورٹ تفصیل کے ساتھ دی گئی ۔ میکسم گورکی کا مضمون :” لینن سچ کی طرح سادہ “بھی اسی شمارے میں شائع ہوا۔
12مئی کا شمارہ مست و رقصاں کا مریڈ لال خان کی ساتویں برسی پہ ہے ۔ اس کی درخشاں جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مزدور تحریک کے لیے اس کی قربانیوں کو احترام دیا گیا۔
”شاہ ایران اور پاکستان “ کے عنوان سے مضمون میں بلوچستان کے بارے میں شاہ ایران کے عزائم کی مذمت کی گئی۔ یہ شاہ ایران نے اپنی حفاظت کے نام پر بلوچستان پر جھپٹا مارنے کا اعلان کیا تھا ۔ مضمون میں بلوچستان پہ بھٹو اور ایران کے یکساں موقف پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس شمارے میں ملک بھر میں یوم مئی کے جلسوں جلوسوں کی تفصیل بھی شائع کی ۔
دو جون امریکہ اایران اور پاکستان کو تیل کی سیاست سے جوڑ کر دکھا یاگیا ہے ۔ اسی تناظر میں ایران بلوچستان کو اچھی نظریہ سے نہیں دیکھتا ۔ وہ بلوچستان میں جمہوریت کو ایران کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے ۔
2جون کے شمارے میں اس نظریاتی اخبار نے اپنی اہمیت یوں واضح کی :
”عوامی جمہوریت کے قارئین کے نام
ہر انقلابی تحریک کو صحیح سائنسی بنیادوں پراستوار کرنے میں نظریاتی تعلیم اہم رول ادا کرتی ہے ۔نظریاتی تعلیم انقلابی تحریک کو منظم کرتی ہے ۔ اور اس کی تنظیم سے ہر قسم کے انتشار جو کہ فکری اور نظری انتشار کی وجہ سے رونما ہوتا ہے اس کو ختم کرتی ہے ۔ اس لیے سیاسی کارکنوں کی جو سماج کے ارتقا کو تیز کرنے میں مصروف ہیں کے لیے نظریاتی تربیت بے حد ضروری ہے اور کارکنوں کی نظریاتی تربیت میں پارٹی اخبار بہت ضروری اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہفت روزہ ”عوامی جمہوریت “ پارٹی کا اخبار ہے جو ہمیں نظریاتی شعور کے ہتھیار سے لیس کر کے انقلاب کا پر عزم سپاہی بناتا ہے ، ”عوامی جمہوریت ”میں فکری اور نظری اعتبار سے بہت اہم مواد شائع ہوتا ہے جس کا شعور حاصل کرنا سیاسی کارکنوں کے لیے بے حد ضروری ہے ۔
”عوامی جمہوریت “ میں نظریاتی شعور کی اہم ترین شکلوں کو ظاہر کیا جاتا ہے ۔
1۔ عوامی جمہوریت بین الاقوامی اور ملکی سیاسی اور معاشی صورت حال کا تجزیہ کرتا ہے ۔
2۔ سامراجی سرمایہ کی پیدا کردہ تکلیفوں اور نقصانات اور سامراجیوں کی فریب کاریوں کا بھانڈا پھوڑتا ہے ۔
3۔ عوام دشمن حکمران بازیگروں کی شعبدہ و بازیوں کو بے نقاب کرتا ہے ۔
4۔ ہر سیاسی پارٹی کسی طبقے کے مفادات کی محافظ ہوتی ہے ۔” عوامی جمہوریت “ سرمایہ داری نظام کی گرتی ہوئی عمارت کو سنبھالنے کی کوشش میں مصروف سیاسی پارٹیوں کے منشور کا تجربہ اور ان کے درمیان نورا کشتی کے فریب کو سامنے لاتا ہے ۔
5۔ پیداورای قوتوں کو ملکیتی رشتوں کی زنجیر سے آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والوں کو مارکسزم لینن ازم اور پاکستان کے مخصوص حالات میں اس کی شکل کے شعور سے لیس کرتا ہے ۔
6۔ انقلاب کی تاریخ شاہد ہے کہ انقلابی تحریکوں کو سست کرنے کے لیے ان کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے عوام دشمن حکمران مقدو ربھر کوشش کرتے ہیں ۔وہ انقلابی تحریک کی صفوں میں اپنے زر خرید ایجنٹوں کو داخل کرتا ہے جو انقلابی تحریک کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے: ”عوامی جمہوریت “ایسی سیاست کا تجزیہ کرتا ہے جو کہ انقلابی تحریک کو غلط راہ پر گامزن کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔
ٍ 7۔ ”عوامی جمہوریت“ حکمرانوں کے مزدوروں اور کسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو بے نقاب کرتا ہے ۔
16جون 1973کے شمارے میں ”مزکزی بجٹ پر ایک نظر“ نامی مضمون کا پہلا پیراگراف یوں ہے۔
” پاکستان میں جون کا مہینہ بجٹوں کا مہینہ ہے ۔ ہر سال جب یہ مہینہ آتا ہے مرکزی اور صوبائی بجٹ بنتے ہیں اور ان پر بحث ہوتی ہے ۔ حکومتی پارٹی کے ممبران اور ان کے دانشور ہر بجٹ کو عوامی بجٹ ، محنت کشوں کا بجٹ اور ترقی پسند بجٹ کہہ کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں اور مخالف سیاسی پارٹیاں اس میں کیڑے نکالتی ہیں اور چند روز کی گرما گرمی کے بعد بجٹ منظور ہوجاتے ہیں اور گرما گرمی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے “۔
شمارے میں ملک کے مختلف حصوں سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کی رپورٹیں بھی شامل ہیں۔
23جون کے شمارے کے اولین مضمون کا عنوان ہے ” پاکستان کدھر جارہا ہے “۔ اسی مضمون میں بلوچستان کی صوبائی حکومت توڑنے کی خبر بھی ہے اور اسے سنٹو کے حالیہ اجلاس کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے ۔
اس شمارے میں عوامی جمہوریت نے اپنی اہمیت اس طرح واضح کی ۔” دنیا کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ سماجی تبدیلیاںاور انقلابات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوئے جب تک نظریاتی تبلیغ نے انسانی ذہنوں کو ان تبدیلیوں کے لیے آمادہ اور انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار نہیں کر لیا۔ ذہنی انقلاب ہی فی الحقیقت ہر انقلابی تبدیلی اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنا ہے اور نظریاتی جدوجہد میں سب سے موثر ہتھیار نظریاتی اخبار ہوتا ہے ۔ بغیر نظریاتی اخبار کے کوئی نظریاتی جدوجہد اپنا مقصد پورا نہیں کرسکتی“۔
اس شمارے میں ” بلوچستان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد“ نامی ایڈیٹوریل نوٹ لکھا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ” ہمارا اب بھی یہ مطالبہ ہے کہ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور نیپ جمعیت کی حکومت بحال کی جائے کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں“۔ نوٹ میں گورنر بگٹی کو گورنری سے سبکدوش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*