لفظ چیذغ

( لفظوں کا مینار۔۔۔ ہماری ادبی تنظیم کا نام)

جینا اگر اتنا آسان ہوتا
تو میں عمر بھر جیتا
اور اتنی نظمیں لکھتا
کہ دنیا لفظوں سے بھر جاتی
لوگ لفظوں کی آکسیجن میں سانس لیتے
بارود کی بُو میں نہیں
سب لفظوں کی اُڑتی ہوئی تتلیاں پکڑتے
لفظوں کی کشتیوں میں سفر کرتے
اور اُن ساحلوں پر اُترتے
جہاں کے مچھیرے
لفظوں کی مچھلیاں بناتے اور پانیوں میں بہا دیتے ہیں
کوئی بکھرے ہوئے اعضا نہ چُنتا
کہیں مسخ شدہ لاش نہ ملتی
کسی گھر سے جنازہ نہ اُٹھتا
گلی گلی ماتم نہ ہوتے

قبرستان ہوتے مگر قبروں میں صرف وہ لفظ دفنائے جاتے
جنہیں متروک قرار دے دیا جاتا
کتبوں پر نظمیں لکھی جاتیں
جن میں مردہ لفظوں کے دوسرے جنم کی خوش خبریاں ہوتیں
دُنیا میں مزدوری صرف خوبصورت لفظ تلاشنے کے لیے کی جاتی
جس کی اُجرت لفظ ہوتے
لفظ کھو جاتے تو لوگ روتے
اور اُن کی آنکھوں سے زار و قطار لفظ بہتے
لفظ نئی ترتیب میں ڈھلتے تو لوگ قہقہے لگاتے
اور لفظ گونجتے ہوئے خلاﺅں کی خامشی تک چلے جاتے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*