شکریہ

ماریہ نے اسے ہمیشہ مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حسین مستقبل کے خواب منتقل کیے۔کلیم جب کبھی جی ہارنے لگتا ،وہ اسے دلاسا دیتی ،اسے مایوسی کے اندھیروں سے نکالتی اور زندگی کی طرف واپس لے کے آتی۔وہ اکیلا تھا … جب وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں شدید لاغر رہ کر کچھ ہی عرصہ میں چل بسی۔شاید قدرت اسے اکیلا ہی دیکھنا چاہتی تھی۔اس کا کوئی نہیں تھا بہن بھائی ،رشتہ دار ؛نہ ماں کی طرف سے اور نہ باپ کی جانب سے …باپ ایک مِل میں رات کے وقت چوکیداری کرتا ،رات کی ڈیوٹی سے فارغ ہوتا تو وہیں کچھ دیر سستانے کے بعد دن میں بھی چھوٹے موٹے کام کرنے لگتا۔زندگی کی دشواریوں کو آسان بنانے کا جتن کرتے کرتے وہ گھر کو جیسے بھول ہی گیا تھا کبھی کبھار اس طرح گھر آتا جیسے خواب میں چلتا ہوا آدمی …نہ کسی سے کوئی بات نہ کوئی مطالبہ، کرتا بھی تو کس سے …تھوڑی دیر گھر کی دیواروں کو تکتا …اپنی چارپائی پر تھوڑا آرام کرتا اپنے بن ماں کے بیٹے کو دیکھتا جو کہ گلی کی عورتوں کے رحم و کرم پہ تھا۔باپ کے لیے یہ بات ہی تسکین بخش تھی کہ وہ زندہ ہے اور زندگی اسے موجود رکھنا چاہتی ہے۔
پھر گلی کی عورتوں کے مشورے اور اپنے بن ماں کے بیٹے کی تنہائی و لاچارگی دیکھ کر اس کے باپ نے ایک اور شادی کرلی۔باپ کی نئی بیوی کلیم کے لیے سوتیلی ماں ثابت نہ ہوئی۔اس کے ہاں کوئی اولاد نہ پیدا ہوسکی۔سوتیلی ماں نے اِسے اپنی تقدیر جانتے ہوئے تسلیم کرلیا اور اِس بِن ماں کے بچے کو وہی پیار دیا جو وہ اپنے پیدا کردہ بچے کو دیتی۔یہ ماں اسے زندگی کے راز سکھانے لگ گئی۔
اب وہ اس کی سگی ماںکے جیسے تھی۔اس نے اپنے بچے کو سکھایا کہ وہ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے حاصل کرے، کمائے۔ماں نے ا±سے جینے کا حوصلہ دیا ،اسے وہ سب کچھ دیا جو اس کے پاس تھا ،اسے وہ تمام رشتے بھی دیے جن کی کمی کے باعث وہ کبھی کبھی خاموش اور دکھی ہوجا تا۔ اِنہی رشتوں میں سے ماریہ بھی تھی۔
وہ دونوں کھلیتے کودتے کچھ بڑے ہونے لگے۔اب وہ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے کمانے کے چھوٹے چھوٹے منصوبے سوچنے لگا۔اسے بہت جلد احساس ہوا کہ ان منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے افرادی قوت اور زرِ نقد بہت ضروری تھا۔ ایک روز وہ سرونٹ کوارٹر میں بند تفکرات اور اندیشوں میں گھِرا ہوا پڑاتھا۔ دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ماریہ اسے دھونڈتی ہوئی ادھر آنکلی :
”تم صبح سے کہاں ہو…؟“
وہ خاموش بت بنا رہا
”کسی سے کوئی جھگڑا…کسی نے کچھ کہہ تو نہیں دیا…؟“
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے …دراصل میں سوچ رہا تھا کہ عید قریب ہے اور میں ماں کے لیے اور تمھارے لیے کچھ خریدنا چاہتا ہوں لیکن اس سب کے لیے آمدنی کا کوئی ذریعہ سمجھ میں نہیں آرہا۔
وہ ہنس پڑی
”یہ تو بہت اچھی بات ہے …پریشان ہونے سے کام نہیں بنے گا…میرے پاس کچھ پیسے ہیں تم ان سے بیسن اور گھی خرید لاﺅ،باقی سامان گھر پہ موجود ہے “وہ دوپٹے کا پلّو کھولنے لگی۔
نہیں نہیں !میں تم سے یہ پیسے نہیں لے سکتا …ماں کو اچھا نہیں لگے گا۔
”دیکھو شام تک یہ پیسے منافع سمیت واپس آجائیں گے۔میرے پیسے مجھے دے دینا اور منافع ماں کو۔پھر تو ماں کو برا نہیں لگے گاناں!“
انہوں نے مِل جل کر پکوڑے تیار کیے اور بیچے …شام ہونے سے پہلے ہی پیسے منافع سمیت واپس آگئے …چھوٹی سی دوکانداری سمیٹتے ہی اس نے کمائے ہوئے سارے پیسے اسے دینا چاہے جو اس نے واپس کردیے :
”تم آج یہ پیسے مجھے نہ دو اور اِن کا منافع بھی نہ خرچ کرو بلکہ اِن پیسوں کا آج سے دوگنا سامان بازار سے خریدو تاکہ کل ہمیں آج سے دوگنا منافع حاصل ہوسکے “۔
اس طرح وہ عید سے پہلے ہی عید کی خوشی کو اپنے قریب دیکھنے لگا … ا±سے عید کا بے چینی سے انتظار تھا۔وہ اپنی کمائی ہوئی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھااور یہ سب وہ اپنی ماریہ کے ساتھ مل کر ممکن بنا رہا تھا۔ا±سے لگا کہ اِس خوشی سے لطف اندوز ہونے کا حق صرف اسے ہی نہیں بلکہ ماریہ بھی اِس میں برابر کی شریک ہے۔اس کا رواں رواں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسے کوئی راستہ نظر نہ آیا۔اس کا جی چاہا کہ وہ اسے بانہوں میں بھر لے اور اس کی آنکھوں ،ہونٹوں اور رخساروں کو چومے …چومتا رہے …وہ یکایک خوفزدہ ہوگیا …اس کی آنکھوں میں ماریہ کے بھائیوں اور اپنی سوتیلی ماں کے غصے میں تبدیل ہوتے ہوئے چہرے گھوم گئے۔اسے لگا کہ وہ اپنے یہ جذبات ان تمام لوگوں کو نہیں سمجھا سکے گا۔اسے ایک بار پھر اکیلے پن نے گھیر لیا۔اِس دوران وہ ادھر آنکلی:
”اب کیا ہوا ،تمھارے چہرے پر یہ ہوائیاں سی کیوں اڑ رہی ہیں …؟
وہ ایک مجبور سی ہنسی ہنسنے کے علاوہ کچھ اظہار نہ کرسکا
”تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو …؟کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں …بتاﺅ ناں کیا ہوا…؟“
وہ دراصل میں …مَیں …تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
”تو کردو ناں!…اس میں اِتنا سوچنے والی کون سی بات …دوچار لفظ ہی توہیں !“
لفظوں سے ادائیگیاں نہیں ہوتیں…مَیں …مَیں عملی طور پر کچھ کرنا چاہتا ہوں …تمہارے لیے…مَیں تمہیں بہت پیار کرنا چاہتا ہوں …
وہ شرما گئی اور گلا کھنکارتے ہوئے بولی
”دیکھو ابھی منزل بہت دور ہے …کام بہت باقی ہے اور وقت کم …تم حوصلہ اور امید کا دامن تھامے رکھو …ابھی بہت سی مشکلات ہیں جِن کو حل کرنا ضروری ہے۔“
اب اس کا اضطراب اور بے چینی حوصلے اور امید میں بدل گیا اور یہ امید ایک شمع بن کر اسے نئے نئے راستے دکھانے لگی۔اس نے اب اپنی کوششوں سے چھوٹے چھوٹے کام کرنا شروع کردیے۔کارخانوں،مِلوں اور دوسرے اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں سے میل جول بڑھایا۔اب اسے لگا کہ زندگی پھیلنا شروع ہوگئی ہے اور یہ مزدور اور محنت کش لوگ اس کے ہی جیسی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں …اسے ایک اور احساس نے ہِلا دیا ،تبدیل کردیا کہ یہ تمام مزدور اور محنت کش ہیں تو اکیلے اکیلے …لیکن اگر اِنہیں اکٹھا دیکھا جائے تو وہ ایک گروہ ہیں ایک بھرپور اور کارآمد گروہ جو زندگی کا دھارا کسی بھی وقت کسی طرف بھی موڑ سکتا ہے …صرف اِنہیں ماریہ جیسی امید اور حوصلے کی شمع چاہیے جو انہیں راستے پر ڈال سکے۔وہ اس احساس سے سرشار ہوگیا کہ اس کے پاس وہ تھی۔
اب وہ اِن مزدوروں سے ملنے والی معلومات کے نتیجے میں ایسی ملازمتیں کرنے لگا جن کی مزدوری شام کوکام ختم ہوتے ہی مل جایا کرتی۔وہ ہر شام ملنے والے پیسے تو اپنی ماں کو دے دیتا مگر اس روز کا ملنے والا کام اور اس کے حصول کا سارا قصہ اسے ضرورسنایا کرتا …اور وہ اسے زندگی کی طرف آگے بڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔یہ بالکل کھانے کے ساتھ کے لوازمات کی طرح اس کی عادت میں شامل ہوگیا۔
عید پر اس نے ماں کے لیے اور ماریہ کے لیے نئے کپڑے خریدے۔ماں خوش ہوئی …ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”ماں تم رورہی ہو…؟“
”نہیں بیٹا…!…میری آنکھیں تو تمہاری ہمّت سے بھر گئی ہیں …“
”ماں یہ دوسرا جوڑا ماریہ کے لیے ہے …کیا میں یہ خود اسے دے دوں …؟“
”نہیں بیٹا …ابھی یہ ٹھیک نہیں ہوگا…وہ مجھے بھی بہت پسند ہے …مَیں اسے تیرے لیے مانگ لوں گی …“
”یہ ماں بیٹا کیا چپکے چپکے مانگنے کی باتیں کررہے ہیں …کچھ ہمیں بھی پتا چلے …“
وہ اچانک ہی وہاں آن موجود ہوئی …دونوں ماں بیٹا ٹھٹھک گئے جیسے ان کی چوری پکڑی گئی ہو …پھر ماں نے حوصلے اور خوشی سے کہا:
”مَیں تمہیں اپنے بیٹے کیلئے مانگنے کی بات کر رہی تھی …“
وہ جھینپ سی گئی اور دوپٹہ منہ پہ رکھتے ہوئے ہنسنے لگی :
”نہ مَیں کوئی ہلدی نمک مرچ ہوں جو تم مانگنے چلے ہو…!“
پھر وہ خود ہی ماں کے گلے لگ گئی… شرماتی ہوئی۔اس دوران ماریہ نے کلیم کو پہلی بار ایسی پیار بھری نظروں سے دیکھا کہ وہ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لاسکا اور مسکراتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔
ماں نے اسکے گھر والوں سے تعلقات اور میل جول میں مزید بہتری لانا شروع کردی۔ماں اب عید اور دوسرے خوشی کے تہواروں پر اس کے لئے اور اسکی دوسری بہنوں کے لیے چوڑیاں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے تحفے لے کرجاتی۔ ماں کی خوشی کا محور تو وہ ہوتی لیکن دوسروں کو خوش رکھنا بھی ماں کے نزدیک لازمی تھا۔
ایک روز مناسب وقت دیکھتے ہوئے ماں نے ماریہ کی ماں سے اپنے بیٹے کیلئے رشتے کی بات کی :
”بہن !میں آج تمہارے گھر سے کچھ لیجانے کیلئے آئی ہوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے …“
اسکی ماں بھی ہنس دی :
”بہن جی !مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن میں اپنے بیٹوں سے بات کروں گی ،پھر جوہوگا، دیکھیں گے …لیکن تم مایوس نہ ہونا …“

اب کلیم مزید دل جمعی اور امید کیساتھ محنت کرنے لگا۔ایک روز ماں گھر پہ نہیں تھی کہ وہ آئی اور ہنستے ہوئے بولی:
”تو تم نے بھیج ہی دیا اپنی ماں کو ،مجھے مانگنے کے لیے …!لیکن اگر میرے بھائی نہ مانے تو…؟“
”مان جائیں گے …مجھے بہت امید ہے …“
”ارے واہ !…اتنی امید …اتنا یقین…!“
”یہ امید اور یقین میں نے تم سے ہی تو پایا ہے۔مَیں تمہارا احسان مند ہوں “
”پھر وہی احسان …شکریہ …“
”مَیں واقعی تمھارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں …“
وہ اسے بانہوں میں بھرنے کیلئے ابھی اٹھا ہی تھا کہ وہ ہنستی ہوئی بھاگ گئی ……وہ بہت خوش تھا۔اسے لگتا کہ زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ بس دو قدم پر اس کی منتظر ہے۔
ساون کی تیز موسلادھار بارشوں کے موسم میں جہاں بہت سے پھول پات کھِلے وہاں ایک کانٹے دار جھاڑی بھی اگ آئی۔وہ بہت دنوں سے اِن بارشوں میں نہارہی تھی …کہ تیز بخار نے اسے نڈھال کردیا۔ماں بیٹا روزانہ اس کے گھر اس کی خیریت دریافت کرنے جاتے۔وہ دن بہ دن لاغر سی نظر آنے لگی تھی …کوئی دوا کام نہیں کرپا رہی تھی …وہ نہایت مضطرب اور نیم جان سی ہوگئی۔
ایک روز اچانک مَاں نے اسے کام سے بلوالیا۔جونہی وہ ماں بیٹا اس کے گھر داخل ہوئے وہ انہیں دیکھ اس کی آنکھیں بھر آئیں …وہ ناتوانی کے باعث ٹھہر ٹھہر کر بات کرپارہی تھی :
”مَیں …صبح سے…تمہارا انتظار“
اس کی نیم وا آنکھوں میں جلتی بجھتی شمع ایک دم خاموش ہوگئی …ہمیشہ کیلئے…
کلیم ایک بار پھر سے اکیلا رہ گیا …ماں بہت فکرمند رہنے لگی …وہ بیمار پڑ گیا …گم صم اور خاموش رہنے لگا…اسے لگا کہ زندگی جو بس دوقدم پر اسکی منتظر تھی …کسی اندھے کنوئیں میں ڈوب کر مر گئی ہے …وہ اپنے سرونٹ کوارٹر میں نیم جان سا پڑا رہتا …اپنے مزدور ساتھیوں سے بھی اسکا ملنا جلنا کم ہوگیا …
ماں نے ایک روز اسے کہا:
”بیٹا میں تمہارے دکھ کو سمجھتی ہوں لیکن اِتنی مایوسی ٹھیک نہیں …زندگی کے دکھوں اور تکلیفوں کو شکست دینا ہی انسان کی منزل ہے …گزرے ہوئے دن کی جگہ ایک نیا دِن لے لیتا ہے …ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے …تم حوصلہ کیوں چھوڑتے ہو…وہ تمہیں اس طرح کی حالت میں تو نہیں دیکھنا چاہتی تھی …“
وہ رو دیا …کھل کے رو دیا :
”ماں ! اس کے مجھ پر بہت احسانات ہیں …مجھے بہت رنج ہے …مَیں اس کا کسی طرح سے بھی شکریہ ادا نہیں کرسکا …“
ایک روز جب وہ کام سے واپس گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ ماں کے چہرے پر مسکراہٹ اس کا استقبال کررہی تھی۔ماں نے ا±س کو گلے لگایا ، اس کا ماتھا چوما اور کہا:
”بیٹا !تجھے بہت رنج تھا ناں کہ ت±م اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکے ؟“
”ہاں ماں !یہ تو ہے …“
”بس پھر تجھے زندگی نے یہ موقع دے دیا ہے۔“
”ماں !میں تمہاری بات نہیں سمجھ سکا…“
”مَیں آج اس کے گھر گئی تھی۔موقع مناسب جان کر میں نے اس کی ماں سے تمہارے لیے رشتے کی بات کردی …اس نے ہاں کردی ہے …اپنی چھوٹی بیٹی کیلئے …ماریہ کی بہن کیلئے …بیٹا ! مَیں نے ٹھیک کیا ناں …“
لیکن ماں میں نے جو خواب دیکھے تھے وہ تو ماریہ کیساتھ مل کر پورے ہونے تھے
تم ٹھیک کہتے ہو لیکن کبھی کبھی ہمیں اپنے خوابوں کی آبیاری دوسری زمینوں میں بھی کرنا پڑتی ہے، زندگی کو رواں رکھنے کے لیے۔ اور پھر ہم سب ایک ہی تو ہیں ، ایک جیسے ہی تو ہیں ، ہمیں ہمارے جیسے بہت سوں کی ضرورت بھی توہے۔
جو کچھ تمہیں ماریہ نے دیا ؛ ہمت حوصلہ ہمدردی محبت ، جینے کی لگن۔۔۔ یہ سب تم اس کی بہن کو دینا ،شکریہ ادا کرنے کا اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے۔
اسے جیسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا …یکایک اسکی آنکھیں دھندلاگئیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*