حواس جَلتے رہے ہمارے

پھر آنکھ اِک صبح کھل گئی اور
یہ ہاتھ بَستے کی اور لَپکے
کتاب ،لوح و قلم سمیٹے
یہ پیر مکتب کی سمت بھاگے
ہمارے بچپن کے دن عجب تھے
الجھتے رستوں پہ اَڑ کے گِرنا
پِھر اٹھ کے مکتب کو دوڑ پڑنا
ہماری آنکھوں میں روشنی تھی
ہماری سانسوں میں تازگی تھی
ہ±وا پِھر ایسا ، یہ ہاتھ بھولے
کتاب ، لوح و قلم کے قصّے
کہانیاں ، شاعری کی باتیں
ہمارے رستوں پہ بھوک تھی جو
ہماری آنکھوں تک آ گئی تھی
قدم کہیں چَل پڑے ہمارے
فضا میں اڑتے رہے غبارے
حواس جَلتے رہے ہمارے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*