آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔

کوئی خوش کن سا ہو لمحہ
خوشی کی رسم ہو کوئی
ہنسی کی بات ہو یا پھر
مروت میں ہو مسکانا
کوئی تہوار ہو، تقریب ہو
یا اہم لمحہ ہو
نہ جانے کیوں میری اکثر ہی
آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

میں اپنے درد سارے تو
چھپا سکتا ہوں خود سے بھی
کبھی دل کی گھٹن، محرومیاں
ہونے نہ دیں افشا
نہ جانے کیوں یہ نم آنکھیں
سدا کردیتی ہیں رسوا
نہ جانے کیوں میری اکثر ہی
آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

بہاریں جن کے دم سے تھیں
وہ ایسے دیس جا نکلے
جہاں ملنا نہیں ممکن
نہ کوئی کال، ایس ایم ایس
فقط خوابوں میں ہی شاید
کبھی دیدار ہو ممکن
انھیں دیکھے بنا ترسی ہیں
آنکھوں سے شکایت کیا
ترستی ہیں، برستی ہیں
تو شاید یوں میری اکثر ہی
آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*