غزل

افرنگ میں جب میرِ سخن شیکسپیئر تھا
بغداد پہ اک قصہ شیریں کا سحر تھا
یک جنبش ِ انگشت سے بدلے کئی منظر
کیا پردہِ سیماب پہ جادو کا اثر تھا
میداں میں جری اترے کئی میرے مقابل
شاید مری دستار میں سرخاب کا پر تھا
پامال تھا جلتی ہوئی ریتی پہ مرا جسم
اور طشتِ طلائی میں کسی اور کا سر تھا
اک عمر ستاروں کے تعاقب میں گزاری
کہتے ہیں خلا زاد بھی سیارہ بدر تھا
جس وقت یہاں دشتِ عدم ہوتا تھا ایجاد
ہم لوگ نہ تھے ، عالمِ موجود مگر تھا؟
اک حرف بھی لکھ پایا نہ قرطاس ِ بقا پر
میں چشمِ فنا خیز میں اک لقمہِ تر تھا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*