گیت – سپنا

سپنا سپنا تیرا سپنا
نیند آئے تو دیکھوں سجنا!

صدیوں سے میں جاگ رہا ہوں
ڈھونڈھ رہا ہوں گیتوں کو یوں
لفظ ملیں تو لکھوں!

صدیوں سے میں جاگا ہوں
بھیتر نغموں کو ڈھونڈھوں
لفظ ملیں تو لکھوں!

چندا سنگ جلوں اور جاگوں
ساگر سنگ میں بھی تڑپوں
دیپ جلے تو جلوں !

زہر بھرا ہے جیون سارا
تم بن میں نے سب کچھ ہارا
زہر ملے تو پیوں !

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*