اجاڑ سٹیشن کا آخری مسافر!

سٹیشن ویران تھا۔دور دور تک سرمئی پہاڑوں کے بیچ یہ چھوٹا سا ویران سٹیشن جیسے دنیا سے کہیں گم ہو چکا تھا سامنے بنی چھوٹی چھوٹی کیبنز سے جب کبھی دھواں اٹھتا تو جیسے زندگی کا پتہ دے جاتا۔ٹرین کی سیٹی فضا میں گونجتی، کچھ دیر کے لیے ہلچل سی مچ جاتی۔قلی پھرتی سے سامان لے کر اترتے چڑھتے …… لیکن چند لمحوں بعد پھر سے وہی طویل نا تمام خاموشی …… ویرانی …… سناٹا۔
پلیٹ فارم سے کچھ دور باہر ایک خالی ٹوٹی پھوٹی بوگی خستہ حالت میں یوں کھڑی تھی کہ جیسے زندگی کی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے ہار مان گئی ہو …… بہت پیچھے رہ گئی ہو …… اور جیسے آگے چلی جانے والی بوگیاں …… اسکے یوں پیچھے رہ جانے سے بے خبر ہوں۔ زیمل کو اپنا آپ …… دور …… بہت دور …… پیچھے، کہیں ویرانے میں رہ جانے والی بوگی لگنے لگتا ……!
اسے لگتا کہ جیسے زندگی اس خطے، اس تمام علاقے، اس زمین، اس وادی، اس سٹیشن …… اس سب سے کبھی واپس نہ لوٹنے کے لیے جا چکی ہو …… !
شہباز کا تبادلہ کوئی چار ماہ پہلے بطورِ سٹیشن ماسٹر یہاں ہوا تھا۔ ہر روز وہ لڑکی شہتوت کے درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھ جایا کرتی تھی۔ سورج کا سفر جب مغرب کی اَور تیز ہو جاتا، شام کا دھندلکا جب آہستہ آہستہ وادی کو اپنے اندر سمیٹنے کے لیے اپنی باہیں پھیلانے لگتا تو مشرق سے ایک ہیولا قدم بڑھاتا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے درخت کے پاس نمودار ہوتا ، دم توڑتے لیمپ کے پاس اس کے قدم تھم جاتے …… وہ اس منظر کا حصہ بن جاتی۔ گو کہ وہ شام کی ٹرین کی آمد اور روانگی کے دوران کچھ دیر وہاں رہتی لیکن اس دوران یوں لگتا کہ جیسے اجاڑ سٹیشن میں زندگی کی رمق آ گئی ہو۔ وہ اپنے دفتر کی بڑی سی کھڑکی سے اس منظر کو اپنی آنکھوں میں فریم کرتا۔ ایک اجاڑ، ویران اور بے مصرف سٹیشن پہ گویا اسے ایک مصروفیت مل گئی ہو۔ مگر ساتھ ہی وہ ایک عجیب شک میں پڑ گیا تھا کہ آخر یہ کون ہے اور روز ٹرین کی آمد کے وقت یہاں کیوں آ بیٹھتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا اس نے اپنی چادر تلے کچھ چھپایا ہوا ہے، جسے وہ بڑی احتیاط سے تھامے رہتی۔
”اتنے دن ہو گئے“۔ اس کی نظریں اک غیر محسوس انداز میں اس مخصوص بینچ کی جانب اٹھ گئیں۔ ”کیوں نہیں آئی؟“ اس کا روز آنا اور اب نہ آنا اس کے لئے ایک تجسس بن گیا۔ وہ اب اس کمرے سے نکل کراس بینچ کے گرد چکر لگاتے ہوئے خود کلامی کر رہا تھا۔ کچھ دیربعد تیزی سے جب وہ واپس کمرے کی جانب مڑا، اتنے میں بلوچی کشیدے والی نیلی فراک پہنے زیمل چلتے ہوئے بینچ کے پاس پہنچ چکی تھی…… تیز ہوا چلی اور خزاں کے زرد پتے دور تک اڑتے چلے گئے۔
”اتنے دن سے کیوں نہیں آئی؟“ وہ سر پر پہنچا تو اس کے قدم تھم گئے۔ جواب دیے بنا وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ ٹاسلی گلے کے تِل پر لرز رہی تھی۔
”آپ کو کیاکسی کے آنے کا انتظار ہے؟ “۔ پہلے سوال کا جواب نہ پا کر اس نے دوسرا سوال داغ دیا لیکن لڑکی گم سم یوں بیٹھی رہی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں۔ ٹرین آکر چلی گئی۔۔ اسکا انتظار جیسے ختم ہوا۔۔ اٹھ کر چل دی۔۔ سٹیشن ماسٹر دور تک اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔
اور پھر ہمیشہ کی طرح اگلے دن اپنے مخصوص وقت پر وہ پھر آئی اور کسی روح کی مانند چلتے چلتے شہتوت کے درخت تلے بیٹھ گئی۔۔ اس بار سٹیشن ماسٹر نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا بس آ کر خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔ چند لمحے خاموشی رہی۔۔ پھر زیمل کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”آپ نے کبھی ساحل پر دیکھا ہے کہ ریت مٹھی سے کیسے پھسلتی ہے؟“ ۔ ”یا دیکھا ہے کہ جب کسی کا محبوب ٹرین سے ذرا ایک لمحے کو اترے اور ٹرین چل پڑے …… ہر شے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے …… وہ بھی چھوٹ جائے ہمیشہ کی طرح …… وقت کی گردباد جانے اسے کہاں لے اڑے“ وہ آسمان کی طرف ویران نظروں سے دیکھتے ہوئے جانے کیا تلاشنے لگی۔
”کیا ہوا تھا؟“ اسٹیشن ماسٹر شہباز نے رک کر پوچھا۔
ٹرین کی سیٹی فضا میں گونجی اور جیسے وہ بے چین ہو گئی۔ اس کی نظریں دور سے آتی ٹرین کو کھوجنے لگیں۔ شہباز کو وہیں چھوڑتے ہوئے وہ اٹھی اور ٹرین کی جانب تیزی سے چلنے لگی۔ ٹرین رکی اور وہ لوگوں کے جمِ غفیر میں پاگلوں کی طرح اداس نظروں سے ایک ایک مسافر کو دیکھتی رہی۔ کھوجتی رہی۔ چادر میں پکڑی کسی شے کو سینے سے لگائے مضبوطی سے تھامے ہوئی تھی۔ چند لمحے رکنے کے بعد ٹرین نے وِسل دی اور چل پڑی۔ زیمل کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اس کے بال بکھر گئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بکھری بکھری ویران نظروں سے دور جاتی ٹرین کو دیکھتے ہوئے شہباز کے سامنے سے گزرگئی۔ وہ حیران حیران اس کو دیکھتا رہا۔سوچتے ہوئے وہ اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔
اگلے دن موسم ابر آلود تھا۔ ہوائیں چلنے لگیں۔ کالی گھٹائیں جو چیخیں تو بارش کے جل تھل نے ہر شے کو آ لیا اور دن ڈھلتے ڈھلتے تو موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ شہباز کسی کام سے اپنے دفتر سے جو نکلا تو اس کی نظر بینچ کی طرف گئی تو حیران رہ گیا کہ ایسی بارش میں بھی وہ پہنچی ہوئی تھی۔ وہ لڑکی بھیگی بھیگی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی تھی۔ پانی اس کے کپڑوں اسکی چادر سے ٹپک رہا تھا۔
”اس تیز بارش میں بھی یہ لڑکی آئی ہے۔ کیوں آخر؟“ وہ سوچتے ہوئے اپنا کام بھول کر اس کی طرف آیا اور بینچ کے دوسرے سرے پر بیٹھتے ہوئے کہا ”بارش بہت تیز ہے، واپس جانا مشکل ہو سکتا ہے۔ نہ آتیں آج“؛
”وہ بہار کی آمد تھی۔ یہی موسم تھا۔فطرت نے اپنی محبت کی نمی میں ہر شے کو نم کر دیا تھا۔ وادی زرد، سرخ Tulips سے سج گئی تھی۔ سِنجید کی مہک نے ہر ذی روح کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا …… پہاڑ فطرت کے اس حسن کو دامن میں سمیٹے سینہ تانے کھڑے تھے …… اور بارش! پہاڑوں کے اس غرور کو اپنی محبت کی پھوار سے جب نم کر دیتی تب کیا پرندے، کیا انسان، ہوا،فضا سب …… محبت کا وہ ناچ ناچتے کہ فطرت کے لبوں پر مسکان تیر جاتی“ اس نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنی بڑی چادر کا پلو کھینچ کر سر پر برابر کیا۔ شہباز اس کے بولنے کا منتظر اس کے خدوخال میں کھو گیا۔
ایک طویل خاموشی رہی۔ پاس ہی بجلی کی تارروں پر چڑیا چہچہا رہی تھیں۔ اچانک ایک کھٹکا ہوا اور پرندے پ±ھر کر کے اڑ گئے۔ زیمل جیسے ہوش میں آ گئی۔
پھر اس نے چادر کے نیچے سے ایک فریم کی ہوئی تصویر نکالی
”یہ کون ہے؟“ شہباز نے ایک خوبصورت جوان کی تصویر دیکھ کر حیرانی سے پوچھا
”بالاچ، میرا چچا زاد۔پنجاب یونیورسٹی کا ہونہار طالب علم۔ میں نے ایف اے کیا۔ اس نے بی اے تو چچا نے بڑی محبت سے میرا رشتہ مانگا۔ ہماری منگنی کو چند ہی ماہ ہوئے تھے۔ اس کا داخلہ پنجاب میں ہو گیا۔ وہ ماسٹرز کرنے کے لیے وہاں جا رہا تھا۔ مجھے بھی آگے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن بابا سے اجازت کیسے مانگتی۔ہمارے گاو¿ں میں نہ تو انٹر کے بعد کوئی کالج تھا نہ ہی لڑکیوں کو اتنا پڑھانے کا رواج۔ بالاچ نے چپکے سے میرا داخلہ کوئٹہ کے ایک کالج میں بی اے میں کروایا۔ جب داخلہ ہو گیا بابا سے اس بات کی اجازت بھی لے لی کہ مجھے شہر بھیجا جائے۔بڑی مشکل سے وہ مانے۔ اور یہ ہمارے گاو¿ں کا پہلا واقع تھا کہ کوئی لڑکی گاو¿ں چھوڑ کر شہر پڑھنے جائے۔
بالاچ کی محبت اپنے سینے میں بھر کر، اس کی یادیں اپنے دل میں اور ملنے کا انتظار آنکھوں میں بسا کر میں پڑھنے لگی۔ میں نے بی اے کر لیا“۔ زیمل کی آنکھیں بالاچ کی یادمیں چمکنے لگیں۔ ماتھے پر آئی لٹ کو ہٹاتے ہوئے ایک تلخ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔
”کہاں ہے اب بالاچ؟“ سٹیشن ماسٹر نے سوال کیا۔
”بہت محبت کرتا تھا وہ مجھ سے …… محبت بھی چاند چکور کی سی …… …… جب چکور بے چین ہو ہو کر آسمان کی طرف ناکام اڑان بھرتا ہے“ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ایک لمبی سانس لی اور پھر کہنے لگی ”وہ چودھویں کے دن تھے۔ چاند کی دودھیا روشنی میں سارا گھر نہایا ہوا تھا۔موسمِ گرما نے دستک دے دی تھی …… ہمارے ہاں گرمی جلدی آ جاتی ہے نا …… چاند، تاروں کی ہمراہی میں آسمان کی سیر کر رہا تھا۔سِنجید کی مہک کے حصار میں رات اپنا نصف سفر طے کر چکی تھی۔ میں نے مہندی لگائی۔ بالاچ کو مہندی بہت پسند تھی۔ وہ کہا کرتا تھا کہ مہندی سے وصل کی مہک آتی ہے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بالاچ اپنی ڈگری مکمل کر کے اگلے روزشام کی ٹرین سے واپس آ رہا تھا۔ چچا نے فورا ہماری شادی کا اعلان کر رکھا تھا۔ میں اس خوشی کو سوچتے سوچتے سو گئی۔ اگلے دن شام گئے بابا، چچا کے ساتھ اسے سٹیشن لینے گئے تھے اور پھر وہ جیسے ہی ٹرین سے اترا، درجن بھرمسلح افرادنے بوری نما بڑا سیاہ تھیلا اس کے سر پر ڈالا اور اسے ناجانے کہاں لے گئے“۔ زیمل کی سانس پھول گئی جیسے پیدل چلتے چلتے اس کی ٹانگیں شل ہو گئی ہوں …… اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔ اس کا وجود لرزنے لگا۔
”کون لوگ تھے وہ۔ کچھ پتہ چلا ؟“
”بابا کو شروع شروع میں ٹیلی فون آتا تھا۔ کوئی آدمی کہتا تھا کہ اگر ایف آئی آر کٹوائی یا تھانے گئے تو تمھارے بندے کی لاش ملے گی …… پریس کانفرنس کی تو بندے کو مار کر پھینک دیا جائے گا ……“ زیمل نے اک جھر جھری لی
”سال بیتتے رہے …… اس انتظارکے ساتھ کہ شاید بالاچ آ جائے …… جہاں کہیں سے بھی لاش کی اطلاع ملتی، کسی ہسپتال، کہیں سے بھی، بابااور چچا پہنچ جاتے …… میں چلی جاتی، ہم سب وہاں چلے جاتے …… دلوں کی دھڑکنوں میں قدم بڑھانا مشکل ہو جاتا …… کہیں بالاچ نہ ہو …… ملنے والی لاش کے ہاتھ پاو¿ں دیکھتے …… کبھی چہرہ ٹٹولتے …… نظریں اس کی گردن کا تِل ڈھونڈنی لگتیں“ اس کا ہاتھ ٹاسلی کی طرف بڑھتا ہے۔
”چھ سال ہو گئے …… وہ تو نہیں آیا، اس کے انتظار میں آنکھوں کا نور گنوا دینے والے چچا پچھلے ہفتے چل بسے“۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے تصویر کی فریم پر بکھر گئے۔ وہ سوچوں میں گم اس بچے کو دیکھنے لگی جس نے ڈھابے کے پاس کھڑے غبارے والے سے ابھی ابھی ایک غبارہ لیا تھاجو ہاتھ سے چھوٹ جانے پر اسے اڑتا ہوا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے تصویر پر بکھر گئے۔
”اب یہاں کیا لینے آتی ہو روز؟“ شہباز نے بے خیالی میں پوچھ تو لیا مگر پھر اسے خود بھی سوال عجیب لگا۔
”گھر میں جب بالاچ کو لے جانے کی اطلاع آئی تو میں ننگے پاو¿ں بھاگتی ہوئی سٹیشن تک آئی تھی۔ یہاں اس کے قدموں کے آخری نشان تھے۔ فضا میں اس کی مہک موجود تھی۔ ٹرین چلی گئی …… میں اس کے پیچھے دوڑتی رہی …… دوڑتی رہی ……! اب روز ٹرین آتی ہے، چلی جاتی ہے، میں اس کی راہ تکتی رہتی ہوں۔ اتنے مسافر ہر روز ٹرین سے آتے
ہیں، ہر روز …… کیا پتہ کسی روز بالاچ بھی اس میں لوٹ آئے اس کی یاد، اس کی خوشبو …… بارش کی پھوار کے ساتھ مل کر میرے دل کے کچے آنگن میں برستی ہے…… میں بے چین رہتی ہوں۔ “۔ یہ کہتے ہوئے اس کی نم پلکوں پہ اٹکے آنسو چھلک ہی آئے۔
سورج چلتن کی اوٹ میں چھپنے لگا تھا۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سٹیشن ماسٹر کی طرف دیکھا اور کہا، ”کیا آپ کو کسی ایسی ٹرین کا پتہ ہے جس میں گمشدہ لوگ واپس آتے ہوں؟“
یکایک سرسراتی ہواو¿ں کا شور بڑھ گیا۔
شہباز کو گنگ دیکھ کر وہ فریم شدہ تصویر کو سنبھالتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی راہ چل دی۔
شہباز کو لگا وہ پتھر کا ہو چکا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*