پریم کہانی

لفظوں کی کاغذی ناﺅ بناوں اور سمندر میں بہادوں !۔ ڈوبے گی یاتیرے گی یا جالگے گی کسی ایسے نوزائیدہ جزیرے کے کنارے جو ساعت بھر پہلے سمندر کی کوکھ سے نکلا ہو۔ ککلی کھیلتے ہوئے پریم کہانی کا ہاتھ کوکو رینا سے چھوٹ گیا تھا، دونوں اپنی جھونک میں اک دوجے سے کہیں دور جا پڑیں ،کوکو رینا تو موجود رہی ، پریم کہانی کہیں کھو گئی۔ کوکو رینا اسے تلاشتی رہی ، اس نے سوچا "اب اگر مل گئی تو اسے منھ زبانی نہیں رکھے گی ۔وہ پریم کہانی کے حرف چن کر انھیں مٹی میں بو دے گی تاکہ شاخوں پر کُسم بن کر کھلتی رہے ، پھر کھونے نہ پائے۔
لفظوں کا جھلڑ تھا جو رومی کے درویشوں کی مانند ایک جذب میں بازو اٹھائے دائرہ ڈالے دھمال ڈالتے رہتے ،لمحہ بھر بھی نہ رکتے تھے ، وہ بھی پریم کہانی کا کھوج نہ نکال سکے۔نامراد !
بے توفیقے ! تھوڑ دلے!
دیو ہیکل کروز لہروں پر اچھلتا کودتا اڑا جارہا تھا۔ شوخ
سرپھری ہوا کوکو رینا کے تراشیدہ بال ماتھے پر بکھیرتی اڑاتی تھی۔
اس نے اپنے دراز زلفوں کو ہئیر بینڈ میں باندھا ، دوپٹہ پھیلا کر چھاتیوں کو ڈھانپا ،جھک کر واشنگ مشین سے دھلے کپڑے نکالے ،ہینگر میں لگا کر تار پر لٹکا دیے۔نمی ہوا چوس لے تو استری ہو جائیں گے۔ بچے کالج یونیورسٹی جا چکے تھے ، وقت بے مہار پھسلتا جا رہا تھا۔وہ بکھرے کمروں کو سمیٹتی خود کو بکھیرتی رہی۔
سائیڈ ٹیبل کی الٹی پلٹی دراز کو دوبارہ پلٹ الٹ کیا ، ایسے دھیان سے جیسے کوئی ریاضی دان کلیے فارمولے لگا کر کوئی لاینحل مسلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہو، وہ موزے ان کی جوڑی سے نتھی کرتے ہوئے دراز میں رکھتی گئی۔ بنیانوں کو تہ لگا کر ترتیب سے رکھا۔پھر اپنے کمرے میں آئی۔ لیگو بلاکس کی صورت اس کا اپنا آپ پورے کمرے میں ادھر ادھر ان جڑا پڑا تھا۔انگلیاں کہیں تو ہتھیلی کہیں ،آنکھیں آئینے سے چپکی ہوئیں ،کان دروازے سے لگے ،پیروں کو تو لمحہ بھر چین نہ تھا، اچھلتے ،کوندتے، پھاندتے، اودھم مچا رہے تھے ،جانے کب سے ! جانے کب تک ! فلور کشن پر خود کو ڈھیر کیا۔ اعضا کو ڈسپلن میں لانے کی عبث کوشش بھی کی، پر سارے بوزنوں کی طرح ادھر ادھر خوخیاتے منہ چڑاتے پھرے، نہیں تو نہ سہی بھاڑ میں جاو ! ۔اس نے دونوں ہاتھ اٹھالیے ،ہاتھ ہی ہاتھ آئے تھے ، کچھ کاغذی جہاز بنائے ، انھیں اڑایا بھی پر مینڈک کی طرح ہوا میں زری سا پھدک کر زمین بوس ہوگئے۔ پھر اگر میں ذرا سا مگر ملایا ، مگر کو اگرچہ کیا ، کیوں ، کیسے اڑنگیاں لگا کر ہر امکان کو گراتے رہے۔قرطاس پر لفظوں کی بے بسی پھیلتی گئی، پریم کہانی نہ بنی۔ سب بے معنی ہے! ۔ سب بے معنی ہے تو وہ سوتے میں جاگتی کیوں ہے ؟۔ جاگتے میں سوتی کیوں ہے؟۔ دایاں ہاتھ بائیں سے تھاما تو ایسے لگا کہ جیسے ہم زاد کا ہاتھ ہو۔ ارے ے ے ! وہ تو وہاں ہے ہی نہیں جہاں اسے آویزاں کیا گیا تھا ، وہ تو وہ تصویر ہے جو فریم سے نکل بھاگی ہے۔” مسکراتی ہوئی ہاتھ اپنے سینے سے لگائے فرش پر دراز ہو گئی کب آنکھوں میں نندیا نے بسرام کیا ، خبر ہی نہ ہوئی۔ ڈور بیل کی پنگ پانگ کی آواز سے آنکھ کھلی تو کچھ عجب سا معاملہ تھا ،جیسے زلزلہ آئے زمین کچھ سے کچھ ہو جائے۔ نظریں زرا دیر سیلنگ فین پر مرکوز کیں کہ شاید تیزی سے گھومتی ہوئی زمین تھم جائے۔ پر کہاں جی ! یہ کب کسی کے کہنے سننے میں ہے۔ اٹھ یار!ذرا ٹیرس پر ٹہل لے اس نے خود کو مخاطب کیا :” یہاں سے آسمان ذرا قریب ِرگِ جاں محسوس ہوتا ہے۔” سوہا ساوا توتا منڈیر پر بیٹھا تھا۔ وہ پریم کہانی کے مغالطے میں سورج مکھی کے بیج اس کے سامنے ڈالتی گئی ، گھروں کو لوٹ آتے پنچھیوں کی پھرپھراہٹ کانوں میں سموئے پنجرے کی جالیاں بنتی رہی۔ "توتیا من موتیا تو ایس گلی نہ جا اس گلی دے جٹ بر±ے اے لیندے پھائیاں پا” :- جانے کس دل جلے کے سکھلاوے کی رٹ لگاتے ہوئے توتے نے اڈاری لی اور آکاش کی وسعتوں میں کھو گیا۔ پریم کے رنگ میں رنگی دل کی خالی ہتھیلی لیے وہ دیکھتی ہی رہ گئی۔ "کملیے!پریم تو ایسا پنچھی ہے جو آزاد فضاوں میں اڑتا ہے ، بن واسی ہے ، پنجرے دم گھونٹ دیتے ہیں اس کا، پریت کا ساتھ نبھانے کے لیے من میں اونچے چھتنار شجر اگانے پڑتے ہیں ،پنجرے نہیں بنے جاتے، اوکھا گھاٹ فقیری دا!”
"اففف قمیض پھر شمیز پھر بدتمیز۔۔۔کتنے وختے جان کو۔۔۔جی چاہتا تینوں اتار کر رکھ دوں”۔ "اوئے اوئے! نہ! نہ! زلزلہ آجائے گا ۔۔۔” سہیلی نے دبی دبی ہنسی ہنستے ہوئے کہا :” لیکن یہ انگیا بدتمیز کیسے ہو گئی بھئی! ”
"بدتمیز ہے نا جانی ! دیکھ یہ دو دھجی کپڑا کیسی آفت سمیٹے ہے،اس کے کارن قوم ہی کا نہیں ملت کا ایمان بھی خطرے میں پڑ جاوت۔۔۔۔”۔ہنسی کھن کھن کرتی کھڑکیوں سے باہر نکل بھاگی۔ بڑی ٹپ ٹاپ ہے ؟ کدھر کی تیاریاں ؟؟؟ ۔سرسری نگاہوں نے چبھتے ہوئے سوال اٹھائے : ” کیا سیکھے طریق غزالوں سے!!
سناٹا شور مچا رہا ہوگا !۔وہ تو گم صم تھی۔ اس کی لمبی زلفیں اس کے پیروں میں الجھتی رہتیں ، بھوکے پر توانا اڑیل بچے کی سی چیختی چلاتی،ڈو مور کا تقاضا شدید سے تشدید کرتی ہوئی دنیا کو چٹیا میں گوندھ کر قابو کرنے کی کوشش میں دن ڈھل جاتا۔ سانولی سلونی سرمئی شام گنگناتے ہوئے تاروں سے ٹمٹمٹاتی چادر دھیرے دھیرے پھیلاتی ہے۔
سیدھی سڑک کے اطراف میں ایک جیسے مکان سر اٹھائے کھڑے تھے ۔جیسے جوتوں کے ڈبوں کو پینٹ کرکے ،کھڑکیاں دروازے لگا کر ایک دوسرے پر جما دیا ہو، بے حس بے جان سے مکان۔ مکانوں سے باہر باونڈری لائن پر ذرا پستہ قامت درخت ایک مخصوص شیپ میں کچھ زیادہ ہی تراشے ہوئے ایک سیدھ میں کھڑے تھے جیسے نئے بھرتی ہوئے رنگروٹ کانوں سے اوپر تک حجامت کرائے اٹینشن کی پوز میں کھڑے ہوں۔ وہ چلتی گئی سڑک جیسے بل کھا کر اس کے پیروں کے گرد لپٹی جارہی ہو۔ مناظر سانس روکے ساکت تھے۔پسینہ ماتھے پر چمک رہا تھا۔ کچھ دھنیا، پودینہ ، کچھ پیاز آلو ،کچالو ،کچھ فروٹ شروٹ تھیلے میں ڈالا۔ اوہوووو ! یہ روزمرہ تو کھا گیا۔ اس نے جمی جمائی گوٹوں کی بچھی چالوں سے اوب کر شطرنج کی بساط الٹا دی ایسے کو تیسا! ۔پی شراب کھا کباب اوس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ! ۔ناٹک گھر کے ڈریسنگ روم میں ‘ہاو¿س آف دی ڈریگن‘ سے لے کر ’پیکی بلائنڈرز‘ تک کے کاسٹیوم موجود تھے،اتاولی میں جو کاسٹیوم ہاتھ لگا کوکو رینا اسی میں لپیٹ دی گئی۔ کاسٹیوم بھی اکھڑا اکھڑا سا رہا اور وہ بھی ،رچنا بسنا کیا تھا دونوں ہی منہ پھلائے ایک دوجے سے دور دور بھاگتے رہے !۔ لعنت بھیجتے ہیں پیادہ ہونے پر! پنکھ ہوتے تو۔۔۔۔” تمکنت سے ٹھوڑی اوپر ٹھہرائے دھیرج سے چلتی ہوئی کا جی چاہا کہ پیروں کے پنجے پر اچھل کر چلے ،راہ پڑے بھلے مانس میسنے سے پتھر کو ایویں ذرا سی ٹھوکر لگا کر لڑھکا دے،ہونٹ سکیڑ کر سیٹی بجائے کچھ بے سلیقہ ،بے ساختہ ، من موجی ذرا اتھری سی ہو کر جیے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔!!وہ اپنی دیوانگی کو سینے میں بھینچے دھیرے دھیرے چلتی رہی۔ حاملہ کے پیٹ میں نامولد دائرے میں گھومنے کی کوشش میں مدھم سی ہی سہی پر دھماچوکڑی تو مچاتا ہے،کچھ ایسی ہی تھی وہ دیوانگی بھی۔وہ سانس روک کر اس کی ہلچل کو محسوس کرتی پھر دیوانگی کی موجودگی کے احساس سے انبساط بھری مسکراہٹ چہرے پر کھل اٹھتی۔
سر کے اوپر سے بپھری لہریں گزر رہی تھیں۔ ٹانگوں سے آکٹوپس کی مانند لپٹی لہریں اسے نیچے ہی نیچے کھینچ رہی تھیں۔ڈبکی سی کھا کر ابھرتی تو مدد طلب نگاہیں آپو آپ آسمان کی طرف اٹھ جاتیں ،جہاں رقص کرتے بادل کڑ کڑ قہقہقے لگا رہے تھے۔قہقہوں کی گھن گرج سے دہل کر آنکھیں کھل گئیں تو وہ اپنے بستر پر پسینے سے ڈوبی پڑی تھی۔کمرہ اے سی کی کولنگ سے خنک ہو رہا تھا پاس ہی بھاری سانسوں کی آواز سرسرا رہی تھی ،جندری اداس گھنیری ہے ،دل پر اداسی قطرہ قطرہ گرتی ہے۔
کوکو رینا۔۔۔۔۔کوکو رینا۔۔۔! لمحے مستی موج سے کانوں میں گنگناتے ہوئے اس کے آویزوں میں جھولتے ، صدیاں گزر گئیں کہ پل نہیں بیتا ! وقت کا ہر لمحہ روح چھیدتا ہوا گزرتا ہے، کٹاریاں چبھوتے ہوئے، وہ روز رات کو سوچتی کہ شکر ہے کہ دن گزر گیا لیکن آنکھ کھلتے ہی وہی دن پھر آ موجود ہوتا ہے۔ سسفس چوٹی پر پہنچ کر ابھی سانس بھی نہیں لے پاتا کہ پتھر پھر سے لڑھکتا پاتال میں جا گرتا ہے۔
پریت دکھ ہے ؟ ،نہیں! پریت سکھ ہے ،پریم آشتی ہے، اے ابر کرم !۔ہر دم برچھیاں تیر سہتا مضمحل دل پریم کی تریل سے پھر سے پھول سا تروتازہ شگفتہ ہو جاتا ہے۔ تریل بتاتی ہے کہ چاہے پریم کہانی گمشدہ ہے، پر ہے یہیں کہیں ۔ چھل بل گھٹانے واسطے ، تکڑی میں باٹ برابر کرنے کے لیے پریم کی ذرا سی ڈاون سائزنگ ہی تو کی گئی تھی۔ سینسٹو پریم کہانی خوامخواہ ہی اپنی بے قدری دل پر لے گئی اور اپنا مکھڑا چھپا گئی :” سجنڑا نے بوہے تے چق تان لئی”۔ کوئی اپدیش ہوکتا کوکتا رہا کہ علموں بس کریں او یار!۔۔۔۔
ہاں ناں ! ایسا علم کس کارے جس میں پریم کہانی ہی نہ ہو ، پر ہونی اپنی کرنی پر آجائے تو ہو کر رہتی ہے ، ٹکروں میں بٹ گئی پریم کہانی نمانی ! پر ہے یہیں کہیں۔” اے پیاری! گمشدہ !کہاں ہے تو؟”
راہی جنگلی بطخ کے تعاقب میں سرگراں ہیں اس کی گمشدگی نے دنیا کو باولا کر دیا ہے۔ اجاڑ بنگلے میں نرتکی کی آتما تھیا تھیا ناچتی ہے اور نرتکی چھپن چھریوں کے وار تن پر کھائے کسی اندھی کھائی میں پڑی ہے۔
"اے سکھی پریم کہانی !جی چاہتا ہے کہ تمھارے سنگ کسی منڈیری پر بیٹھ کر ترے دکھ سنوں ، تمھارے بنا جو روگ جوگن کو لاحق ہوئے وہ سناو¿ں۔، تمھارے ہونے کے سکھ تمھارے نہ ہونے کے دکھ ، اے پریم کہانی !۔”
سہیلی نے انگلیوں کی پوروں سے اپنے کان کی لو کو چھوتے ہوئے کہا : ” اللہ معافی !پہلے زمانے میں کہتے تھے لڑکی کو جن پڑ گئے اب اس کو سائکوسس یا فریب نظری کہتے ہیں یعنی بات تو وہ ہی رہتی ہے بس ڈکشن بدل جاتا ہے۔ یہ تم جو یہولہ سا ساتھ لیے پھرتی ہوں نا، جس سے ہر دم ہمکلام رہتی ہو، وہ ہی جسے تم ہم زاد کہتی ہو ،اگر وہ سچ مچ ہے بھی ،تو بھی ابھی انسان اتنی شکتی کو نہیں پہنچا کہ اس کے ذروں کو کمپوز کر کے اس کو انسٹال کر سکے۔جب تک ایسا ہوتا نہیں ہے۔۔۔ ڈئیر! اس ورچوئیل رئیلٹی کے ساتھ ہی صبر و شکر سے سمے بتاﺅ۔”
بے چینی سی تھی،کسی سے بات کرنے کو جی بے تاب تھا –
اکھیاں کسی کے ساتھ محو تکلم رہتی ہیں دل کہیں اور محو گفتگو رہتا، دل میں خار منہ پر مٹھار۔وہ کروٹیں بدلتی رہی، ان کہی کی کسک جان لیوا ہوتی ہے،افففف! تشنگی!!! رات تین بجے اٹھ کر اس نے دو مالٹوں کا رس نوش کیا۔ "اتنی سی بات ہے اور شاعروں کافروں نے دیوان کے دیوان سیاہ کر دیے۔”
کہانی کی تلاش میں پریم دل سے چمبا کی مہکار لیے پھوٹتا اور چار چوفیرے پھیل جاتا۔بوگن ویلیا کی بیلیں پھولوں سے بھری اور خوشبو سے تہی ہر گھر میں جھولتی ہیں۔ پگلی ہوئی مہک پھولوں سے ٹکرا ٹکرا کر ایسے پلٹتی ہے، جیسے پھول پتھر کے ہوں۔مہک بگولے کی طرح اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی دشت و صحرا میں اڑائے پھرتی اور پھر زمین پر لا پٹختی۔ وہ بھورا بھورا بکھر کر رہ جاتی تو کوے چوگا چننے آپہنچتے اوہ! دفاں دور مرددو ! یہ داتا دربار ہے کیا! جو جھولی پھیلائے گرسنہ آنکھوں کے ساتھ اپنے حصے کا رزق اٹھانے چلے آتے ہو۔”
اس کا ایک گال سرخ تھا دوسرا زرد۔ بے رحم وقت نے ایسا طمانچہ مارا کہ لال رخسار کا گلال بھی چھٹ گیا۔
بس اتنی سی تھی پریم کہانی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*