پرولتاریہ کی سیاسی پارٹی

مزدور طبقے کی سیاسی پارٹی محنت کشوں کے مفادات کی ترجمانی اور ان کے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتی ہے ۔ یہ سیاسی پارٹی محنت کشوں کی جدوجہد کی تینوں صورتوں (معاشی سٹرگل ، نظریاتی سٹرگل ،اور سیاسی سٹرگل ) کو بہت ہنر کاری سے استعمال کرتی ہے ۔

یہ پارٹی ورکنگ کلاس کا نہ صرف حصہ ہے، بلکہ یہ اُس کا باشعور اور منظم ہراول ہے۔ یہ پارٹی کلاس آرگنائزیشن کی بلند ترین شکل ہوتی ہے ۔
یہ پارٹی مزدوروں کے مفادات کے پیچھے پیچھے نہیں چلتی ، بلکہ اس کے برعکس وہ ”پرولتاری طبقے کا ہر اول اور راہنما ہوتی ہے“ ۔ یہ الگ بات یہ ہے کہ ساری ورکنگ کلاس ، پارٹی سے تعلق نہیں رکھتی ۔

پرولتاری پارٹی اپنی سرگرمیوں میں مارکسی لیننی علم ،سماجی انقلابات ،اور نئے معاشرے کی بنیاد کے علم کو اپنا رہنما بناتی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ خود کے تجربے بھی اس کو مالا مال بناتے ہیں ۔ ایسی پارٹی انقلابی علمی تھیوری ،اور مضبوط تنظیمی اصولوں کے علم سے مسلح ہوتی ہے ۔

مارکسی پارٹی مزدور طبقے کا متشکل دستہ بھی ہے ۔ ایسا دستہ جو مارکسزم اور لینن ازم کے انقلابی افکار کی سچائی کی مشترک تلاش اس طبقے کے افراد کے ساتھ مل کر کرتی ہے ۔ یہ مزدوروں میں سوشلسٹ علم کی مسلسل نشوونما اور پرورش کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ مسلسل طور پر عوام الناس کی سیاسی تعلیم ، پارٹی کیڈر کی ٹریننگ کرتی ہے۔ یہ مزدور طبقے کو بورژوازی کے فاسد نظریے کے اثر سے بچا تی ہے۔

مارکسی اور عوام کی حقیقی پارٹی محنت کش عوام کے وسیع حصوں کے ساتھ کئی طریقوں کے ساتھ ربط رکھتی ہے ۔ چونکہ پارٹی عوام کے مطالبات اور رجحانات کی مظہر اور ان کے بنیادی مفادات کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی ہے اسی لیے اس کو عوام کی حمایت اور عوام کی امداد حاصل ہوتی ہے ۔

انقلابی پارٹی کا حتمی ہدف سوشلسٹ انقلاب ہوتا ہے ۔یعنی مزدور طبقے کی پارٹی اپنے اتحادیوں (کسانوں ، محکوم قوموں )کے ساتھ مل کر کپٹلزم کا خاتمہ کر کے اقتدار سنبھالنے کا کام کرتی رہتی ہے۔ اہداف میں سامراج دشمنی طبقاتی استحصال کو بند کرنا،قومی حقِ خود اختیاری بشمول حق علیحدگی دینا ،عورتوں کو مساوی حقوق و مواقع دینا،اور رجعت پسندی کے خلاف مسلسل و پیہم جدوجہد شامل ہیں۔

صرف اور صرف تاریخی جدلیاتی سوچ کا مسلسل استعمال اِس پارٹی کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔یہ فکری گمراہی سے بچنے کے لیے تین کام کرتی ہے ۔

1۔ ماکسزم لینن ازم کا اپنے سارے اہداف اور جدوجہد پہ اطلاق کرتی ہے ۔

2۔ پہنچے ہوئے فیصلوں کو عملی کرنے کے لیے ڈیموکریٹک سنٹر لزم کے اصول پہ چلتی ہے۔

3۔ لیفٹ سیکٹرین ازم اور رائیٹ موقع پرستی کے خلاف ایک نظریاتی جدوجہد چلائے رکھتی ہے۔

البتہ یہ ورکنگ کلاس پارٹی ہر ملک میں ایک ہی طرح سے کام نہیں کرتی۔ آمریت ، مارشل لا، بادشاہت اورکٹھ ملائیت والے سماج میں یہ پارٹی انڈر گراﺅنڈ رہ کر سیاست کرتی ہے ۔ بورژوا جمہوریتوں میں یہ اوپن سرگرمیاں کرتی ہے ۔
لیکن وہ خواہ جو بھی طریقے استعمال کرے، لازم ہے کہ وہ طریقے مارکسزم کے عمومی مزاج اور تعلیمات کے مطابق ہوں۔ اِس پارٹی کے پاس اس کی اپنی ایک اخلاقیات ،نظریات کا اپنا ایک پیکیج، اپنے طرز کی ایک آرگنائزیشن ،اور تنقیدو خود تنقید ی کے اصول ہوتے ہیں۔

اس پارٹی میں عجز، جذبہ، خدمت ،نظریاتی ہم آہنگی ، بحث کی آزادی ، اطلاعات کی بہتات اور وسیع ترین جمہوری روش شامل ہوتی ہیں۔ ۔ مارکسزم اس کی قطب نمائی کے لیے متعین ہے ۔ اس پارٹی کے ترکیبی عناصر میں کوئی مافوق الفطرت بلائیں نہیں ہوتیں بلکہ ورکروں سے لے کر لیڈروں تک سب عام انسان ہوتے ہیں۔ سادہ مزدور ، عام ماہی گیر ، کسان ، چرواہے اور دانشور، جنہیں القاب اور مرتبے نہیں چاہییں۔ نظریاتی تاثیر اور پیہم عمل ہی راہنما و لیڈر ہیں۔ انصاف کا تصور سب سے طاقتور تصور ہوتا ہے اور اس تصور کے لیے اکٹھے ہونے والے لوگوں سے زیادہ طاقتور اجتماع ممکن ہی نہیں۔ یہ پارٹی قوموں کی برابری اور طبقاتی استحصال کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرتی ہے ۔ عوامی اور طبقاتی انجمنوں کا قیام اور ان کے استحکام کی جدوجہد ہی اس پارٹی کے قیام کا جواز ہوتا ہے ۔کہ یہی ادارے عوامی امنگوں کی مطابقت میں قانون قاعدے بناتے ہیں، لوگوں میں مہذب کردار رواج دیتے ہیں اور سارے انسانوں کے لیے طویل مدتی مسرتیں حاصل کرنے کی راہیں تلاشتے ہیں۔ پارٹی کا نظریہ موجودہ غاصبانہ نظام کی نفی کا نظریہ ہے۔ اس کا نظریہ فرد کے فرد استحصال کی نفی کا نظریہ ہے۔ طبقے کے طبقے پہ استحصال ، قوم کے قوم پہ استحصال اور سامراج کے دنیا پر استحصال کی نفی کا نظریہ ہے ، پارٹی کے نظریے میں سرداری جاگیرداری ، قومی غلامی ، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی لوٹ کے خلاف نکات اہم ترین نکات ہوتے ہیں۔ ملک میں موجود ایک بھی شخص کی مادری زبان پارٹی کے نزدیک پورے ملک کی قومی زبان ہوگی۔

نچلے طبقے کے لیے سیاسی پارٹی نہیں تو اہداف نہیں ، حکمت عملی نہیں ۔۔۔۔ بات نہیں مذاکرات نہیں۔ پارٹی نہیں تو منشور نہیں ، آئین نہیں ، اصول نہیں۔ تنقید نہیں، خود تنقیدی نہیں ، جمہوری فیصلے نہیں، فیصلوں کی پابندی نہیں۔۔۔

پارٹی لوگوں کو بیگانتی سے بچاتی ہے۔ پارٹی اجتماع ، اجتماعی فیصلوں اور اجتماعی جدوجہد کو فروغ دیتی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*