رسول بخش پلیجو

( 21فروری1930۔۔۔7جون 2018)

ہمیں اُس تلخ و شیریں شخص کی صلاحیتوں کی مختلف جہتوں کو الگ کرنے اور ان کے زیادہ اور کم ہونے کی لسٹ بنانے میں بہت عرصے تک مشکل کا سامنا رہے گا۔” ابھی تک “ کی فانی دنیا میں اٹھاسی برس تک جینے والایہ آدمی بہت باصلاحیت تھا، بڑا محنتی تھا۔سندھ کا یہ لیڈر انتہائی پڑھا لکھا آدمی تھا۔ وہ ایک مفکراور زیرک سیاستدان تھا۔ وہ ایک خوبصورت افسانہ نگار و شاعربھی تھا۔ وہ تاریخ دان، آرٹسٹ ، پیشہ ور اور انتہائی بہادر انقلابی تھا۔ رسول بخش پلیجو قانون دان، عوامی حقوق کی خاطر بے خوف لڑاکا، شاہ لطیف کو سمجھنے سمجھانے والا ، پالیسی ساز، سٹریٹی جیشن، اور پائے کا آرگنائزر تھا۔
حالانکہ مجھے ٹھٹھہ ضلع میں جنگشا ہی شہر کے قریب گاﺅں مُنگر خان پلیجو میں علی محمد پلیجو اور لاڈی مائی کے ہاںپیدائش کے تذکرے سے شروع کرنا چاہیے ۔ مگر میں اُس کی گیارہ سالہ جیل بھگتنے سے بات شروع کرتا ہوں تاکہ اندازہ ہو کہ ہم کسی خاص آدمی کی بات کر رہے ہیں۔(اس سلسلے میں اس کی کوٹ لکھپت جیل کی ڈائری نے سندھی ادبی حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل کی)۔ 88سال اِس دنیا کو دینے والے ، لوئر مڈل کلاس سے وابستہ اِس معمر سیاستدان نے 50سال منظم سیاست میں گزارے ۔اور اگر مزید سچ ڈھونڈنا ہوتو اصل میں اُس نے 65سال سیاست کی۔ (1953میں ہاری تحریک میں شمولیت کے وقت سے) ۔
1964میں وہ شیر بکری ، گیدڑ اور لگڑ بھگر کو ایک ہی گھاٹ میں رکھنے والی نیشنل عوامی پارٹی میں تھا۔نکل گیا ۔ اور پھر ایک کمال یہ بات ہے کہ وہ جی ایم سید کے ساتھ بھی رہا اور وہاں بزمِ صوفیائے سندھ کرتا رہا۔ اور پھر جیے سندھ محاذ میں۔ بعد میں سید سے بھی سیاسی راہیں جدا کر لیں ۔سچی راہ کی تلاش میں اُس نے کچھ عرصہ کمیونسٹ پارٹی میں بھی گزارے،وارا نہیں کھایا،چھوڑ دیا۔
اس نے 5مارچ 1969میں سندھی عوامی تحریک کی بنیاد رکھی ۔وہ اپنی اس نئی پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنا۔ گرفتار ہوا، 9ماہ جیل گزاری۔
1973آئین کے بارے میں لکھا، چھ ماہ جیل ۔ 1975میں ڈی پی آر، گیارہ ماہ جیل ۔ 1976میں 14ماہ جیل۔ 1978میں بھٹو پھانسی کے وقت 3ماہ جیل۔
1986میں رسول بخش پلیجوکچھ عرصہ عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی )میں بھی شامل رہا لیکن پھر اسے چھوڑ دیا۔اسی طرح وہ دوسرے الائنسوں میں بھی جاتا رہامگر، کہیں بھی زیادہ دیر تک ٹک نہ سکا ۔
پلیجو ایک اچھا تنظیم کار رہا ۔وہ آخرتک عوامی تحریک نامی پارٹی کا سربراہ تھا۔ سندھی شاگرد تحریک اس کی قائم کردہ اور اُس کی پارٹی کا طلبا میں ماس فرنٹ ہے ۔اُس کی پارٹی کی خواتین ونگ سندھیانڑیں تحریک بھی کافی منظم ہے۔اسی طرح اس نے کسانوں ، اوروکیلوں کو بہترین انداز میں منظم کیا۔ایک زمانے میں تو ایس ایس ٹی اور سندھیانڑیں تحریک سندھ کی مقبول ترین تنظیمیں رہی تھیں۔
اگلے مورچوں کے سپاہی اس پلیجو نے عام محنت کش کسان طبقات کی عورتوں کو گھر کے آنگن سے نکال کر قومی، جمہوری اورعوامی سیاست میں داخل کیا اور نظریاتی وانقلابی عورت کے روپ میں مرد محنت کشوں کے شانہ بشانہ طبقاتی قومی حقوق کی جنگ لڑنے میدان میں لایا۔ سندھیا نڑیں تحریک کے لیے سفید پوش شہری بیگمات کے بجائے کسان طبقے کی عورتوں کو سیاسی جدوجہد کا ہراول دستہ بنادینا اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی ۔ وہ دور دراز علاقوں کی ہزاروں دیہاتی محنت کش غریب خواتین کو شیر خوار بچے لے کر سیاسی جلسوں جلوسوں اور لانگ مارچوںمیں لانے پہ قادر تھا۔اس کی تنظیم کی عورتیں قیدو بند کی صعوبتیں بھی جھیلتی رہیں۔ اس کے جلسوں میں دھواں دھار تقریروں کے بیچ فوک نغمے ہوتے، انقلابی ترانے ہوتے ، آزادی کی شاعری سنائی جاتی ، رقص ہوتا ،ٹیبلو ہوتے ۔ظاہر ہے کہ جس جس گاﺅں گوٹھ میں سندھیانڑیں تحریک کی سرگرمیاں ہوتیں تو وہاں کاروکاری ، قرآن سے شادی ،بے جوڑ کی شادیاں، زبردستی کے رشتے اور وٹے سٹے جیسی حرکتیں اور مظالم کم ہوتے ۔ عورتوں کو جائیداد میں حصہ جسے محروم کرنا قابل فخر نہ رہتا۔
پلیجونے اپنی کیڈر پارٹی کو ماس شکل دینے کی ہر وقت کوشش کی۔ وہ بہ یک وقت طبقاتی پارٹی تھی اور بہ یک وقت قومی ملکی سیاست میں محسوس کی جانے والی پارٹی بھی۔بالخصوص مسافت میں طویل اور حجم میں بڑے بڑے مارچ نکالنے والوں میں پلیجو کا شمار صفِ اول کے رہنماﺅں میں ہوتا ہے ۔کسان لیڈر سندھ کے اندر کسان کانفرنسیں کرواتا رہا۔ کالا باغ ڈیم بننے نہ دینے والوں کے قافلے میں رسول بخش صفِ اول کے لوگوںمیں شامل رہا۔ ضیا مارشل لاءکے دور میں سندھ کے اندر ایم آر ڈی منظم کرنے میں اُس کی پارٹی کا بہت اہم رول رہا ہے ۔وہ اپنے ورکرز کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے میں بھی پیش پیش رہا۔ اِس سارے جلسہ جلوس اور مارچوں کا خوبصورت نتیجہ یہ نکلا کہ عوام فیوڈل ریاست کے رعب اور دبدبے سے باہر نکلے ۔دوسرا یہ کہ شعور، تنظیم اور انقلاب وٹس ایپ گروپوں میں دلیل بازیوں سے نہیں بلکہ جسمانی طور پر عوام تک پہنچنے ، اسے گلے لگانے ، اسے سننے اور اس کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے ۔اسے سندھ اور سندھی کاز پر ہر وقت تحریر و تقریر ، اور جلسہ وسیمینار میں دیکھا جاتا رہا۔
مگراس سب کے باوجود اُس کی سندھ کی عوامی تحریک سمیت تمام قوم پرست پارٹیاں الیکشن میں پیپلز پارٹی کے بڑے اور بے کار بیل کو کبھی بھی گرا نہ سکےں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پیری، جاگیرداریت ، نعرے بازی اور دھوکہ کونہ گراسکیں۔
پلیجو نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی زبردست مخالفت کی ۔ لانگ مارچ نکالے ، گرفتار ہوا ۔ اور ایم آر ڈی کی تحریک میں تو اُس نے ضیا مارشل لا کو وہ کِک ، وہ پنچ اور وہ پنجے مارے کہ سندھ وہند شاہد ہے۔
اس کی جدوجہد کا ایک اور دیر پا اور انقلابی ثمر عورتوں کے حقوق پہ مبنی اُس کی قائم کردہ تنظیم (سندھیانڑیں تحریک ) تھی ۔ یہ تنظیم بلاشبہ اس ملک کی تاریخ میں عورتوں کی سب سے منظم سیاسی تنظیم رہی۔
وہ انقلابی سیاست کے اندر عوامی کلچر کو فروغ دینے کا کام بھی کرتا تھا۔وہ اپنی تحریک میں سلوگن ، گانوں اور دیگر کلچرل سرگرمیوں کا خاص خیال رکھتا تھا۔ وہ نئے نئے نعرے بناتا، نئے نئے فکرے تخلیق کرتا ،اور نئی نئی اصطلاحات ایجاد کرتا رہتا اور مخالف کے منہ پہ شڑاپ سے مارتا جاتا۔
اس کا پٹواری باپ اچھا آدمی تھا ، اس لیے کہ وہ بیوی کو پیٹتا نہیں تھا۔
اس نے بنیادی تعلیم تو وہیں اپنے گاﺅں میں ملامکتب اور مدرسہ سے حاصل کی ۔البتہ اعلی تعلیم سندھ مدرسہ سے حاصل کی ۔ سندھ مسلم لا کالج کراچی سے ڈگری لے کر ہی وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وکالت کا اہل بنا۔
رسول بخش پلیجو کو میں چھ شعبوں میں زبردست خدمات کے بطور بڑا انسان سمجھتا ہوں۔
سیاست میں وہ جلسوں جلوسوں اور سٹڈی سرکلوں کے راستے پر چلا ۔ وہ پوری زندگی اپنے ساتھیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتا رہا۔ وہ تاریخ ادب، معیشت اور فلسفہ کا جاننا لازمی سمجھتا تھا۔ وہ اپنے کار کنوں میں کتب بینی کا کلچر عام کرنا چاہتا تھا۔
رسول بخش پلیجو ایک تخلیقی سیاست دان تھا ۔پلیجو سندھ میں فیوڈلزم کے خلاف بھی سرد ھڑ کی بازی لگائے رہا۔ اسی طرح وہ قومی حقِ خودارادیت کا بھی چیمپین رہا۔ اس نے قومی حقوق کی سیاست اورطبقاتی سیاست کو بڑی خوبصورتی سے جوڑے رکھا۔اُس نے بالخصوص سوشلزم کے اُن داعیوں کے خلاف سخت جدوجہد کی جو پاکستان کے اندر قومی سوال کو پسِ پشت ڈالتے تھے ۔ وہ انہیں ”پناہ گیر پنجابی نقلی ترقی پسند“کہتا تھا ۔ دوسری طرف اُس نے اندھی قوم پرستی کو بھی مسترد کیے رکھا۔ اُس نے سندھ کے اندر موجود وڈیرہ شاہی کی حمایت کرنے والے نقلی قوم پرست ایجنٹوں کی جھوٹی قوم پرستی یعنی وڈیرہ پرستی کی سندھ دشمن اور عوام دشمن سوچ کو ننگا کیا۔
اُس نے اس باریک نکتے کابہت واضح تجزیہ کیا۔ اُس کی نظر میں”سندھی قوم کے ساتھ دوہرا ظلم ہورہا ہے۔ ایک طرف اپنے گھر کے دشمن یعنی زمیندار ، وڈیرے ،میر، پیر اور ملّا اُن کی ہڈیاں چبا رہے ہیں تو دوسری طرف بیرونی لٹیرے گروہ اُن کی بچی کچھی پونجی بھی چٹ کرتے رہتے ہیں“۔ اس جگہ پر اُس نے دو مختلف سیاسی دھاروں کو دیکھا۔ ایک طرف کسان عوام تھے جو وڈیرہ شاہی کو اصلی دشمن سمجھ کر اس کے خلاف جدوجہد کو بنیادی اہمیت دیتے تھے ، جبکہ دوسری طرف شہروں کے پڑھے لکھے سفید پوش لوگ تھے جو پنجابی پناہ گیر بالادستوں کے خلاف جدوجہد ہی کو اہمیت دیتے تے ۔ اب یہ دو متوازی سیاسی دھارے تھے ۔ اس لیے دونوں دھارے ناکام رہے ۔ رسول بخش نے اس کا ایک تخلیقی حل نکالا۔ اس نے وڈیروں اور پنجابی دونوں کو یکساں درجے کے دشمن قرار دیا ۔
اس نے ان وڈیرہ پرست نیشنلسٹوں کو مسترد کیا جن کا کہنا تھا کہ وڈیرہ جیسے بھی ہیں، اپنے ہیں۔ یا یہ کہ وڈیروں کا زور آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے اس لیے اس کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے بلکہ اس کو اتحادی بنا کر پہلے بیرونی دشمنوں سے قوم کو بچایا جائے ، سرداروں وڈیروں کو بعد میں دیکھیں گے ۔ اس نے بتایا کہ اگر غدار اور پنجاب کے دلال دقیانوسی، رجعت پرست اور عوام دشمنی سرداری وڈیرہ گیری نظام حاوی نہ ہوتا اور نتیجے میں عوام بھوک بیماری اور جہالت لیے سندھ کے کسان عوام وڈیروں کو spare(یا مضبوط) کر کے کسی بھی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اس داخلی تضاد کو سمجھے بغیر اور اسے اٹھائے بغیر بیرونی پنجابی قوت سے بھڑجانے میں کسان عوام ساتھ نہیں دیتے ۔ اس کا مشاہدہ تھا کہ قومی جدوجہد کے ذریعے جو کچھ حاصل ہوتا ہے ،اس کا مکھن سردار وڈیرہ کھا جاتا ہے “۔ اس نے اپنے کارکنوں کو کہا کہ سندھی عوام کے اِن مطالبات کو قومی جدوجہد کے پروگرام کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کی نظر میں قومی جدوجہد کی کامیابی کابنیادی دار و مدار اسی مسئلے پہ ہے ۔ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا یا صرف چال بازی سے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی تو پھر بے شک لاکھوں بار ” جیے سندھ“ کے نعرے لگائیں نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا“۔
اسی طرح پلیجو انقلاب کے گدی نشینوں“ کی بھی سخت مذمت کرتا ہے جو بڑی پنجابی قوم کے لوٹ مار کو سیدھا سیدھا یا پھر لفاظی اور ہیرا پھیری سے چھپا دیتے ہیں ۔ اور مجرد طبقاتی سیاست کی بات کرتے ہیں ۔ پلیجو اس بات کو نہیں مانتا کہ سندھ کو پنجاب کا صرف سرمایہ دار لوٹتا ہے ۔ اور وہاں کے غریب طبقے کا اس میں کوئی مفاد موجود نہیں۔ لہذا قومی سوال فضول ہے اور انقلاب کی خاطر اس مسئلہ کو ملتوی رکھا جائے(1)۔
اُس کا خوبصورت فقرہ : قومی اور طبقاتی جدوجہد ایک دوسرے کی ساتھی ہیں نہ کہ مخالف۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سامراج ،مارشل لاﺅں، فیوڈل لارڈز ، رجعت پسندوں اور شاونسٹوں سے بہ یک وقت حالت جنگ میں رہتا ۔ اتنی ہی شدت کا مناقشہ وہ نعرے باز ترقی پسندوں سے بھی رکھتا تھا ۔ اور ان چھ قوتوں کے خلاف اس کی بے شمار کتابیں اور کتابچے موجود ہیں۔ اس نے تو اپنی ڈھلتی عمر میں خود اپنے بیٹے تک سے سیاسی اختلاف کیا اور اُس سے الگ پارٹی بنالی۔
رسول بخش پلیجوایم کیو ایم کو فاشسٹ تنظیم اور پیپلز پارٹی کو سندھ کی سودا گر پارٹی قرار دیتا رہا۔
اُس کی سیاست میں اگر کچھ خامیاں رہ گئیںتواُس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ اُس کی سیاست کے علاقے کا نچلا طبقہ مزدور نہیں، کسان طبقہ رہا۔اور کسان طبقہ اپنے راہنما کو بہت حد تک اپنی نفسیات بخشتا ہے۔
چونکہ کسان اُس کی سیاست اور اُس کے عہد کا نچلا طبقہ تھا ،اس لیے قدرتی طور پر اس کی سیاست پہ ماﺅزے تنگ کی چھاپ نمایاں ہونی تھی۔ اس لیے ہم اس کی تحریروں تقریروں، ٹیکٹیکس اور سٹریٹجی میں اُس فلیور کا تناسب زیادہ دیکھتے ہیں۔
رسول بخش پلیجو اپنے معاشرے کا بھی تلخ ترین نا قدرہا:”سندھ ساری نگل لی جائے گی تب بھی انصاف کے کان پر جوں تک نہ رینگے گی، مگر بکری کی چوری کے کیس میں کسی قانونی نقطے پر رویژن سپریم کورٹ تک جاسکتی ہے “(2)۔
رسول بخش سامراج اور مارشل لا کا بھی بہت بڑا دشمن رہا ۔
اُس نے ایک تیسری چیز بھی اپنی سیاست کی بنیاد میں رکھی۔ وہ عورتوں کے حقوق کا بہت بڑا چیمپین بن کر ابھرا۔ اس نے کمال حکمت سے کام لے کر عورت کو خانہ داری سے باہر سیاست میں نکالا۔ اور پاکستان میں سندھیانی تحریک کے نام سے عورتوں کی سب سے منظم اور وسیع سیاسی تنظیم بنا کر دکھایا۔
پلیجو صاحب ایک بسیار نویس لکھاری رہا۔ اس کی تحریر چبھتی ہوئی ، شوخ ، تیز اور عالمانہ تھی۔فقرہ دیکھیے: جس طرح کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کسی دیو کی سانس کسی طوطے وغیرہ میں ہوتی تھی ،اسی طرح سماج کی سانس اُس کے معاش کے ذریعوں میں ہوتی ہے۔اس نے بے شمار کتابیں کتا بچے اور پمفلٹ لکھے ۔ اس نے ایک ضروری اور بنیادی کام یہ کیا کہ اپنی سیاسی پارٹی کے لیے ”تحریک “ نامی رسالہ نکالا۔ یہ انقلابی رسالہ سیاست ، معیشت ، ثقافت اور ادب میں رہنما کا کردار ادا کرتا رہا۔ زبان اور موضوعات دونوں اس قدر عام اور عوامی تھے جو کسانوں کو سمجھ میں آتے تھے ۔اُس کے اس رسالے پہ پابندی لگی اور اس کاڈ کلیریشن منسوخ کیا گیا۔
اس نے ہی سب سے پہلے بہت بلند آواز سے محمد بن قاسم کو سندھ کا قاتل لکھا تھا۔ یہ گویا اسٹیبلشمنٹ کے نظریے سے کفر تھا۔ وہ زندگی بھر اسی طرح کے کفر سرکاری نظریات کو مارتا رہا ۔
اس نے قدامت پرستوں کی طرف سے شاہ لطیف کے اوپر چڑھائی گئی تارک الدنیا والی نام نہاد صوفیانہ ملمع سازی کو اکھاڑ پھینکا اور اس کے کلام کے اندر موجود انقلابی جوہر کو تلاش کرلیا۔اس نے شاہ کے کلام میں حوصلہ دینے والے ، جدوجہد کرنے والے ، مایوسیوں کو بھگانے والے ، اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ، نہ جھکنے والے اور تافتح جہد کرنے والے بڑے حصے کو نمایاں کیا۔
اور لہٰذا اپنی کتابوں پر پابندیاں لگواتا رہا۔کہتے ہیں کہ اس نے سیاسی ، فکری تنقیدی ادب اور تاریخی موضوعات پر 35سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ اس نے لٹریری کرٹسزم پہ ایک کتاب لکھی تھی: ” اندھا اوندھا ویج“ (اندھے الٹے طبیب)۔ یہ کتاب روایتی سندھی ادب پر اُس کی بہت بے رحمانہ تنقید پر مشتمل ہے ۔ ادبی دنیا میں ہلچل مچادینے والی اس کتاب کو پاکستان کی ہر قوم میں متعارف کرادینا چاہیے تاکہ ہر زبان کے عوام اپنے ادب میںعوام دوست اور عوام مخالف ادب کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کے قابل ہوسکیں ۔اس نے سوا سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ”اپنے ہمسفر اور ساتھی ادیب اور دانشور محترم رشید بھٹی کے نام“ ڈیڈی کیٹ کیا تھا۔
ادب میں فکری تنقید کی روایات کو مستحکم کرنے میں پلیجو کا نمایاں کردار رہا۔ مقدمہ لڑنے کا انداز دیکھیں ذرا!” اگر حافظ ، خیام، فردوسی، رومی ، امیر خسرو، شاہ، سچل اور دوسرے اپنے دور میں بغاوت نہ کرتے تو زندہ ہی دفن ہوجاتے اور کسی کو پتہ تک نہیں چلتا کہ ان ناموں والے لوگ بھی دنیا میں تھے ۔ بُلھا شاہ، فرید ، عطار اور سنائی جیسے شاعر”انالحق“ کا نعرہ نہیں لگاتے ۔ اگر اقبال یزدان کے دامن چاک کرنے کی دھمکی نہ دیتا تو اس کے فن میں عظیم خلوص ، سچائی ، وجدان ، حسن اور کمال پیدانہ ہوتا اور وہ اس طرح دفن ہوجاتے کہ سننے میں بھی نہ آتے کہ وہ تھے بھی یانہیں۔۔ ؟
سچ تو یہ ہے کہ شیخ ایاز اور اس دور کے نوجوان سندھی ادیب، ان اساتذہ کی بیباکی ، شوخی، گستاخی کے مقابلے میںبالکل دبکے ہوئے اور سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ در حقیقت ہمارے جو نقّاد چی ان نرم آوازوں کو سن کر حواس باختہ ہوگئے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ سرکار سے درخواست کریں کہ وہ ان سبھی مندرجہ بالا متذکرہ اردو، فارسی اور عربی شاعروں کی سبھی کتابوں کو آگ لگوادے اور ان کی شاعری پڑھنے پر پابندی عائد کردے ، کیونکہ جب تک فن اور فکر کے ان اماموں کا کلام زندہ ہے تب تک ہر دور اور زمانہ میں جرا ت ، رندی ، مستی اور بے باکی کی صدائیں فضا میں گونجتی رہیں گی ، ہر دور اور زمانے میں ”ایاز “ پیدا ہوتے رہیں گے، جو اِن لُوس لُوس کرنے والے نقاد چیوں کی نیندیں حرام کرتے رہیں گے اور ان کی کمزور دلوں کو لرزاتے رہیںگے“۔
اُس نے ماﺅزے تنگ اور ہوچی مِنہ کی سوانح عمریاں لکھیں۔
پلیجو صاحب نے شاعر بھی تھا ، جب وہ شاعری کرتا تھا ”تمہارے بعد“ کتاب میں ایسی نظمیں شامل کرتا:
نہیں ، تیرے اور میرے جوتوں کو بھی،
ایسے صاف اور چمکدار بنانے کے لیے
ایسی پالش بازار سے نہیں ملے گی،
یہ پالش،
جس نے ، ان لانگ بوٹوں پر لگی،
اتنی صدیوں کی غلاظت،
اتنے نسلوں اور قوموں کے ،
خون کے دھبے دھوکر،
ان کو اتنا صاف اور چمکیلا کیا ہے کہ ،
وہ دنیا کے کسی کارخانے میں نہیں بن سکتی،
یہ ایک گہراہنر ہے ،
راتوں رات یا دن دِہاڑ ے،
ان کو چاٹ کر،
ایسا صاف اور چمکتا رکھتی ہیں،
تیرے اور میرے جیسے لوگوں کی زبانیں،
یہ وہ کاریگر زبانیں ہیں،
جوکل،
تیرے اور میرے ساتھ،
جلسوں اور جلوسوں میں، تھانوں اور بندوارڈوں میں،
قوم اور دھرتی ،
جمہوریت اور سوشلزم کے ،
فلک شگاف نعرے لگا کر۔
اقتدار کے ایوانوں کو لرزاتی تھیں،
اور کل پھر بھی وہی نعرے لگا کر،
خود میں وہی تاثیر پیدا کر کے پرسوں پھر آکر
راتوں رات یا دن دہاڑے،
ان کو چاٹ کر ایسا صاف اور چمکدار رکھنے کی ،
کاریگری میں مگن ہوجائیں گی “(3)
اُس کی کچھ تصانیف یہ ہیں : صبح ہوگی ،نابین الٹے چارہ گر، ہنسوں کاقبیلہ، آپ کے بعد ، چرواہوں کی چوٹیں ، دیکھ کے لال گل ، جو کچھ بنگال کے ساتھ ہوا، ہرن مغرور کھڑے سوچ رہے ہیں ، اور سندھ پانی کیس۔
اس نے سیاست کو علم سے جوڑ دیا، ادب سے جوڑدیا۔ بھلا وہ کیسی عوامی سیاست ہوگی جس میں عوامی کلچر اور عوامی ادب موجود نہ ہوگا۔ یا جس میں علم موجود نہیں ہوگا۔ یہ تینوں چاروں چیزیں ایک اچھے معاشرے کی شناخت ہوتی ہیں۔ انقلاب تو بذاتِ خود شاعر ی ، موسیقی، رقص اور فن ہے ۔
اس کی زندگی سراپا شاعری تھی ۔ وہ جب شاہ لطیف کی شاعری پڑھتا تو ایسا لگتا کہ تین سو برسوں سے بھٹ شاہ پراسی طرح کا راگ گانے والے فقیروں کے بغیر تنبورے کی تاریں خود بخود چلنے لگی ہیں۔وہ جب فیض کو پڑھتا تو فیض نے بھی اپنی شاعری اس شد و مد سے شاید ہی پڑھی ہوگی۔
وہ ایک اچھا ادبی کرٹیک، ایک کہانی نگار، اور زبردست مقرر تھا۔ اسے کتابوں کے حوالے تفصیل سے یاد تھے۔وہ فارسی ،عربی ،اردو اورسندھی اشعار زبانی بولتا تھا۔اس نے ایاز کی شاعری کے دفاع میں ایک مکمل کتاب لکھی”نیم حکیم“۔
وہ سندھی ،اردو ،انگلش ، فارسی اور پنجابی روانی سے بولتا تھا۔ اس کے علاوہ سرائیکی ، بلوچی، عربی، ہندی اور بنگالی پر بھی اسے خاصی دسترس حاصل تھی۔ (4)
پلیجو نے شاعری کے فروغ ، انقلابی موسیقی کی ترقی کے لیے باشعور اور منظم کام کیا۔ اس نے سندھی زبان کے مشہور و معروف لوک فن کار زرینہ بلوچ سے شادی کی جو اُس کی سیاست میں بہت معاون ثابت ہوئی ۔
زندگی میں تنقیدیں سہنے کی حامل اُس نے کل 5شادیاں کیں ۔اس کے ہاں سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہوئیں۔اپنے خاندان کی شریفاں پلیجو سے 5بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ کشمیری خاتون رقیہ سے ایک بیٹی ایک بیٹا، زرینہ بلوچ سے ایک بیٹا۔ زرینہ کے پہلے سے دوبچے تھے : اختر بلوچ اور اسلم پرویز ۔ یہ وہی اختر بلوچ ہے جس نے ”قید یانڑیں جی ڈائری “نامی مشہور کتاب لکھی تھی ۔ممتاز افسانہ نگار نسیم تھیبو سے 2بیٹیاں ، زاہد شیخ سے کوئی اولاد نہیں۔
سندھ میں ہندو اقلیت بڑی تعداد میں بستی ہے ۔ مگر کچھ تو روایتی برداشت والے سماج کی وجہ سے اور جزوی طور پر پلیجو کی حق پرستی کے باعث کوئی ظلم و زیادتی ہوتی تو سماج اس کا نوٹس لیتا۔
اُسے بندوقوں کے پہروں میں بھی رہنا پڑا۔ ایک سے ایک جدید خودکار اسلحہ۔ اسکے کارکن کہتے کہ اُسے سندھی قوم پرستوں اور ایم کیو ایم سے خطرہ ہے۔
انتھک سیاسی ورکرہمارا یہ جی دار، عوام دوست اورسمجھ دار سیاسی رہنما طویل عمر گزار کر بہت سارا شعوری ترکہ ،اور بہت ساراکام چھوڑ کر بسترِ مرگ پہ اپنی بیٹیوں ، بھانجیوں اور پارٹی کی ساتھیوں کے ساتھ مخدوم محی الدین اور ساحر لدھیانوی کے انقلابی ترانے گاتے گاتے انتقال کر گیا۔
پٹواری علی محمد اور لاڈبائی کا یہ بیٹا جب مرا تو خواب وخیال والا ہوا اُس کے ساتھ۔ اس کا جنازہ انقلابی خواتین نے کندھوں پہ اٹھایا ۔ وہ انقلابی ترانے گارہی تھیں ۔ تیرے نعرے لگارہی تھیں، تجھے لوریاں سنا رہی تھیں۔
اس کی وفات حق پر کھڑے لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے ۔ دنیا کے ایک علاقے کے محکوموں مجبوروں کا ترجمان نہ رہا۔انقلابی سیاست پر پچھلی صدی کی آخری دھائی میں جو عالمی جھٹکے آئے ، پلیجو ثابت قدم ہی رہا۔ اور شاید یہ اس کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ وہ تھکا نہیں، مایوس نہیں ہوا، رکا نہیں۔
حوالہ جات

1۔پلیجو ، رسول بخش ۔وڈیرہ شاہی کے خلاف جدوجہد قومی جدوجہد کا لازمی حصہ ہے ۔رسالہ تحریک ، مارچ 1973، درکتاب ”صبح ہوگی“ فکشن ہاﺅس ۔2017۔ صفحہ34تا44۔
2۔دنیاساری خواب ۔ صفحہ541
3۔سروہی، نذیر۔ درکتاب رسول بخش پلیجو ۔2019۔پیکاک پبلشرز سندھ ۔صفحہ 74۔
4۔نذیر لغاری ، تاریخ ساز لوگ فکشن ہاﺅس ۔ 2017 صفحہ 261

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*