سنگت ادبی دیوان لیاری

سنگت ادبی دیوان لیاری کراچی کی ماہانہ نشست 29 مئی 2024 کی شام کو بلوچ اتحاد آفس چاکیواڑہ میں رمضان بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
ایجنڈا کے مطابق صاحبٍ صدر نے اپنی نئی کتاب "ایک لاپتہ شہر کا سراغ” کا تعارف پیش کیا۔ کتاب کے موضوع پر بات کی اور کتاب کی تحقیق اور اشاعت کے درمیان کن مراحل سے انہیں گزرنا پڑا اس کی تفصیل پیش کی۔
دوسرا ایجنڈا معروف شاعر وحید نور کا ایک لیکچر "ادب اور سیاست” کے موضوع پر تھا۔ وحید نور نے اپنے لیکچر کا آغاز دلچسپ انداز سے کرتے ہوئے ماضی میں کراچی کے ایرانی ہوٹلوں میں لگے ایک مخصوص بورڈ سے کیا جس پر واضح الفاظ میں لکھا ہوتا تھا کہ "یہاں سیاست پر گفتگو کرنا منع ہے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک صحتمند معاشرہ میں سیاست اور ادب کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں معیاری سوالات ہوئے جن کے جوابات وحید نور نے اطمینان بخش طریقے سے دئے۔
بعد ازیں ایجنڈا نمبر 3 اور 4 کے مطابق سنگتوں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس پر طنز و مزاح سے بھرپور ایک افسانہ رفیق بلوچ نے پیش کیا۔
اس کے بعد شاعری کا دور شروع ہوا جس میں مختلف شعراہ نے اردو اور بلوچی زبانوں میں اپنی نظمیں اور غزلیں سنائیں اور داد وصول کی۔ جن شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا ان میں اصغر علی آزگ۔ وحید نور۔ اسحاق خاموش۔ حنیف ناشاد۔ اصغر لعل۔ عمران جان بوچ۔ زبیر سخی۔ محمود حسنی اور اورنگ زیب بلوچ شامل تھے۔ دیگر سنگت جو اس دیوان میں حاضر تھے ان کے نام یہ ہیں: امین ضامن۔ زاہد بارکزئی۔ کے بی بلوچ۔ شوکت سبزل۔ شوکت کامریڈ۔ ساحر کلاکوٹی اور استاد غلام محمد خان صاحب جنہوں نے ایک غزل گا کر سنائی۔
آخر میں صاحبٍ صدر نے دیوان میں ہونے والی کاروائی کو سمیٹا اور اس نشست کو کئی اعتبار سے یادگار قرار دیا۔ اس کے بعد انہوں نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دیوان کو برخاست کرنے کا اعلان کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*