دڑد ژہ بے دڑداں دلیخی آں

شونگال جون 2024

سود در سود کی طرح فلسطین کی بربادی بھی بربادی دربربادی ہے ۔ یہ ہلکا نہیں قولنجی درد ہے ۔یہ درد یک مشت نہیں ییہم ہے ۔ جس کا اگلا دورہ پچھلے دورے کے ختم ہونے کا انتظار نہیںکرتا۔ درد کا دَرَپ (حملہ آوری ) ایک آدھ دن ماہ یا سال کا نہیں ہے، یہ تو پون صدی پرانا پھیروں والا دَرَپ ہے ۔ اس کی جڑیں بیسویں صدی کے اوائل تک جاتی ہیں۔ اس کے باشندوں نے نقل مکانی ،تشدد اور قتلِ عام کے ہزاروں پھیرے لیے ، خوف نقصان اور نا انصافی کے کئی راﺅنڈ بھگتے۔
فلسطین پہ عذاب در اصل برطانوی وامریکی سامراج کا پیدا کردہ ہے۔ انہی دو قوتوں نے 1940 کی دھائی میں اقوام متحدہ سے اس علاقہ میں دنیا بھر کے یہودیوں کے امڈ آنے کی اجازت کا ووٹ منظور کرایا تھا۔1948میں اسرائیل کی ریاست قائم کروادی گئی جس سے ہزاروں فلسطینیوں کو نقل مکاں ہونا پڑا۔ اسے وہ ”نکبہ“ کہتے ہیں یعنی آفت نسلی صفائی (نسل کشی)۔ نکبہ میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو تشدد کے ذریعے اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا گیاتھا ۔ اس اند وہ کی یاد وہ اب بھی دنیا بھر میں مناتے ہیں۔ اسرائیل کا قیام اور فلسطین کے ساتھ اس کی مد بھیڑ ایک سیاسی، علاقائی اور انسانی المیہ تھا ۔
نکبہ ایک ختم نہ ہونے والی آفت ہے ۔ تاریخ کو یاد ہے کہ بعد میں اسرائیل نے 1967میں ویسٹ بنک اور غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا اور تشدد و تشنج کے ابدی بیج بودیے ۔ فلسطینی نہ آزادانہ حرکت کرسکتے ہیں، نہ اپنے گھروں کو اسرائیلیوں کی طرف سے گرا دینے سے بچاسکتے ہیں۔ اور نہ خودکو نقل مکانی سے روک سکتے ہیں۔
نکبہ ایک ختم نہ ہونے والی بربادی ہے ۔1982 میں بھی سات ہزار فلسطینی قتل کر دیے گئے تھے ۔ اسرائیلی قابضین ،ہیلی کا پڑ گن شپ کی حفاظت میں فلسطینی عبادتگاہوں میں گھس گئے اور قتل و غارت شروع کر دی۔ تب انتفادہ شروع ہوا تھا۔
برطانیہ اور امریکہ نے ہی اسرائیل کو اس پورے علاقے پر قبضہ کرنے کی اجازت کی آنکھ ماری تھی ۔ اسی امریکہ نے سارے پون صدی طویل عرصے میں اسرائیل کو پالا ،پوسا اور طاقت ور بنا دیا۔ اسی امریکہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی توسیع کی حرکتوں کے خلاف پیش کردہ ہر قرار داد کو ویٹو کر دیا۔ یہی امریکہ دوسرے ممالک سے اسرائیل کے لیے رعایت در رعایت لیتا رہا ہے۔ مصر کو کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کو اسرائیل کے حق میں لوٹا گیا تھا ۔پھر وہی بات فلسطینیوں پر اوسلو میں مسلط کی گئی۔ امریکہ فلسطین کی آزاد مملکت کے مطالبے سے بھی فلسطینیوں کو دستبردار کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔ امریکہ فلسطین کی تحریک آزادی میں خوب دراڑیں ڈالنے ، اور فلسطینی اتھارٹی کو مکمل طور پر کرپٹ بنانے کا ہول ٹائمر بنا ہوا ہے ۔
اور پھر 2024میں حماس کی جانب سے اسرائیل پہ اچانک حملے نے فلسطینیوں پہ طویل دورانیے کی دوزخی حدت برسانے کا بہانہ فراہم کیا۔ حماس اور اسرائیل دونوں رائٹسٹ قوتیں ہیں۔ کچھ پتہ نہیں کہ یہ دونوں رائٹسٹ قوتیں کب ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور کب باہم لڑتی ہیں۔ لڑتی ہیں بھی کہ نہیں؟
امریکہ دنیا بھر میں ، ٹیرر ازم ، فنڈ ا منٹلزم اور رجعت کا کور کمانڈر ہے ۔ بین الاقوامی کپٹلسٹ امریکہ ،فاشزم کا مالک ہے ۔کیا خبر وہ کب اپنے کس پیادہ کو بلا کر اس سے اپنے گرینڈ منصوبے کی ابتدا کراتا ہے ۔ کوئی کیا جانے ، مصر ، عراق، شام کو تو کھنڈر بنادیا اُس نے ، اب فلسطین کو اس طرح کھدیڑ کر رکھ دینا کہیں اسی پالیسی کا تسلسل تو نہیں؟۔
امریکہ تیل سے مالا مال مشرق وسطی اور اس کے آس پاس کے ہمارے سارے خطے کو اپنی چنگلوں میں رکھنا چاہتا ہے۔ دنیا میں اسے بادشاہت قبول ہو یا نہیں مگر مشرق وسطی میں سعودی ، اردن یو اے ای ، وغیرہ وغیرہ میں درجنوں بادشاہ عمامے لہراتے ہوئے متمکن ہیں۔ حرام ہے کہ وہاں امریکہ کے پیٹ میں جمہوریت کا درد اٹھے۔ عرب بادشاہتیں امریکہ کے لیے پٹرول کے اتنے ہی وفادار محافظ ہیں جتنا کہ صیہونی اسرائیل۔ امریکہ ان دونوں کو کبھی بھی تکلیف میں دیکھ نہیں سکتا۔ عرب بادشاہ اور اسرائیلی اس کی آنکھیں ہیں۔
فلسطینی نکبہ ایک جاری پراسیس ہے ۔ہم نے دیکھا تھا کہ فلسطین کی قومی اور پروگریسو تحریک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر عربی بادشاہوں نے مذہبی انتشاری تحریک میں بدل دیا تھا۔
نکبہ ایک جاری پراسیس ہے ۔ 1947میں جو فلسطین تھا، آج اس کا محض 23فیصد رہ گیا ہے اور وہ 23فیصد بھی مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہے ۔اس نے وہاں چھ لاکھ غیر قانونی سیٹلرز آباد رکر رکھے ہیں۔ جگہ جگہ اسرائیلی چیک پوسٹیں ہیں۔
اسرائیل کی ہٹ دھرمی، خونریزی، فلسطین پہ ناجائز تسلط اور امریکہ کی اسرائیل کے شانے پہ ”بلینک چیک“ کی تھپکی۔۔۔ یہ ہے معاملے کی جڑ ۔ وہ چاہے ڈیموکریٹ ہو یا ری پبلیکن، بائیڈن سے لے کے، ٹرمپ، اوباما اور دوسرے حکمران، سب ہی نے امریکی مفادات اور قدروں کو اسرائیل کے مماثل قرار دیا۔ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کو اپنے پارٹنر اور اس کی قدروں کو اپنی قدروں سے قریب جانا اور ہر موقع پہ اپنے مفت اور غیر مشروط تعاون نچھاور کر دیا۔
اس (تا حال جاری )جنگ کا نتیجہ اب تک بڑے پیمانے کی فلسطینی ہلاکت کی صورت میں نکلا۔ عورتوں بچوں کو زندہ جلادیا گیا۔شہری انفر اسٹرکچر تباہ کردیا۔ اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پوری دنیا میں بدنام اور رسوا ہوا ہے ۔اس کی بربریت عروج پر ہے ۔
اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین میں حالیہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کی تباہ کاریوں کے واقعات اور اعداد و شمار دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔ یہ تازہ نکبہ تو تذلیل میں بھی سب سے بڑھ کر ہے ۔ اسرائیل یہاں حملہ کرتا ہے تو نہتے فلسطینی شہری بھاگ کر دوسری طرف جاتے ہیں۔ تب اسرائیل وہاں حملہ کرتا ہے اور فلسطینی پھر اِس طرف آتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر شکاری کتے فلسطینی آبادیوں کے پیچھے پڑتے ہیں۔اور انہیں ہزاروں کی تعداد میں جان بچانے کے لیے آگے پیچھے دوڑاتے رہتے ہیں۔
اس بار اسرائیل اس قدر وحشی اور سفاک بن گیا ، اُس کے مظالم اتنے دلخراش ہوگئے ،اور فلسطینیوں کی یہ نسل کشی اور جینو سائڈ اتنی طویل اور شدید ہوگئی کہ انسانیت کانپ اٹھی ۔ ریاستوں اور اُن پہ براجمان حکومتیں تو حسبِ معمول سفاک اور خودغرض رہیں ۔ مگر عام انسان اس بڑے جھٹکے اور صدمے سے ہر طرح کی رو رعایت اور اگر مگر سے آزاد ہوا۔ انسان ،سراسر انسان بنا، مکمل اشرف المخلوقات بنا۔ہر جگہ کے عوام اپنی اپنی حکومتوں کی پالیسیوںسے اختلاف کرنے لگے۔ اور اسرائیل کی لگڑ بھگڑی کا سامنا کرنے کے لیے فلسطین کے شانہ بشانہ ہولیے ۔ ہر ملک کا دار الحکومت اور شہری مراکز فلسطین کے پرچموں کے حیران کردینے والے پُر ہجوم اور لمبے لمبے جلوسوں والے شہروں میں بدل گئے ۔ پاک انسان ،پاک نعرے اور مطالبے لیے اپنے اپنے انداز میں ظالم کا ہاتھ روکنے امڈ آئے۔ اس عوامی پاپولر ردعمل کا اصل علاقہ تو صنعتی مغربی دنیا تھی ۔ کیا مرد کیا عورت ، بچہ، بوڑھا، معذور ، پہلوان ، زبان، رنگ ، نسل سب کچھ کی تفریق بھاڑ میں ڈالے گلی میں سینہ سپر ہوگیا۔
اور لیڈ کون کر رہا ہے ؟۔ یونیورسٹی سٹوڈنٹ لیڈ کر رہا ہے ۔ احتجاجی تحریک وہاں کی یونیورسٹیوں نے شروع کردی ۔وہ دو باتوں کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف ، اور اپنی اپنی حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کی مدد کرنے کے خلاف۔ ہم نے ٹی وی چینلوں پر دیکھا کہ کس طرح نام نہاد جمہوری ممالک اِن جلوسوں جلسوں اور دھرنوں پر تشدد کر رہے ہیں۔ ایسی مار پیٹ تو ہمارے جیسے ملکوں کی وحوش پولیس بھی نہیں کرتی۔
بنی نوعِ انسان کے اِس رد عمل سے بیسیوں برس کی ساری بے روح مایوسیاں چھٹ گئیں ۔ ایک بار پھر یقین ہوا کہ انسان زندہ ہے ، کہ انسانیت زندہ ہے۔ اشراف المخلوقاتیت زندہ ہے ۔پھر یقین ہو چلا کہ جب بھی ناروائی درندگی کی سرحدوں میں داخل ہوئی، بشر بشر دوستی کا پرچم اٹھا کر مزاحمت میں نکل پڑا ۔ دیکھتے دیکھتے پوری نوعِ انسانی رنگ، نسل، جنس اور مذہب کی تفریق کو گھر میں چھوڑ کر میدان عملِ میں نکل آیا۔ مقبول مطالبہ ہے کہ یونیورسٹیز اپنے سرمائے سے براہ راست یا بلاواسطہ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری بالکل ختم کر دیں کہ جس سے اسرائیل کو فوجی ایکشن میں مدد مل رہی ہے۔ اس معاشی منافع کو اسرائیل، جنگ کے لیے ہتھیاروں کی خرید، ملٹری ٹیکنالوجی کی سروسز ،یہودی آبادکاری اور فلسطین نسل کشی میں بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔
اب تک پچاس ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ جن میں سے ستر فی صد بچے اور عورتیں ہیں، تین چوتھائی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ہسپتال اور یونیورسٹیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ قحط، بھوک اور بیماریاں ہیں۔
دنیا کے عوام امریکہ سے فوری طور پہ جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں خونخوار اسرائیل کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور فوجی معاہدے اب اچھے نہیں لگ رہے ہیں۔ اقوامِ عالم اسرائیل ،امریکہ اور برطانیہ کو جنگی مجرم قرار دینے کے حق میں ہیں۔
آج انسان کی واضح اکثریت خود کو درد مندوں میں شمار کرنا چاہتی ہے ۔ بالخصوص صنعتی دنیا کا یونیورسٹی سٹوڈنٹ اُن ” بے دردوں“ میں سے نہیں ہونا چاہتا جن سے ” درد“ بے زار ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*