جہاں پہ سویرا ہو۔۔۔!

ہڑپا نے میری دو دن کی چھٹیوں کو ہڑپ کر لیا ہے۔ اب میری روح چین سے ٹیلے کے اوپر واقع نو گزے پیر کی قبر کے پاس منوں مٹی تلے دب کر سو رہی ہے۔ اس کے ارد گرد جو مہیب خاموشی طاری ہے اس میں ڈاکٹر طاہرہ اقبال کی تحریر کی قلم کاری کا عمل دخل ہے۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے اپنے تبصرے میں بھی ہڑپا پر ناول نگار کی تحریر کے بارے میں بارہا کہا ہے، "کمال”، "کمال”، "کمال”— ہڑپا سے ذرا آگے کمال کا ایک شہر بھی ہے جس کا نام ہے کمالیہ۔ ہڑپا کی طرح کا قدیم۔ کمالیہ سے آگے تلمبہ، تلمبہ سے آگے مرکزی شہر ملتان اور ملتان سے آگے چھوٹی بڑی مردہ آبادیوں کے اسی سلسلے کا آخری متمدن شہر موہنجوڈارو۔
مذہب اور زبانیں قدیم ہیں مگر انسانی رویے اور کردار قدیم ترین ہیں۔ انہی رویوں اور کرداروں سے گندھی کہانیوں سے بھرا پرا ناول دراصل ایک رچا بسا شہر ہے۔ اس کے سبھی کردار جانے مانے ہیں۔ حاکم و محکوم، امیر و غریب، جذبات و احساسات، قانون اور رسمیں، عادات و اطوار، آفاقی سچائیاں، خانہ بدوشی اور زرعی معاشرت، غرض لاتعداد زندگیوں کی کہانیوں کا ایک سلسلہ ہائے دراز ہے جو پانچ ہزار سال سے آج کے زمانے تک پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ کی مہربانی کہ انہوں نے اس طوالت کو 430 صفحات پر ایک کمرشل بریک کی صورت میں روک دیا ہے۔ حالانکہ پنجاب کی ہموار زمینوں پر ان کا قلم روانی سے کہانیوں کے ان گنت بیج بوتا چلا جاتا ہے۔
ہڑپا زندہ ہے۔ ہڑپا اگر کہانیاں ہڑپ کر لیتا ہے تو انہیں جنم بھی دیتا ہے۔ جہاں ہڑپا ہے وہیں ڈاکٹر طاہرہ اقبال ہیں۔ کہانی کی تلاش میں کھدائی جاری ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*