آرٹ

ادب و آرٹ صداقت کا انعکاس تصورات میں نہیں کرتا، بلکہ ایسی ٹھوس شکل میں کرتا ہے جس کا حواس کے ذریعے ادراک کیا جاسکتا ہے ۔

آرٹسٹ جن مقاصد اور آئیڈیلز کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ سماج اور عہد ہی سے آتے ہیں۔ آرٹسٹ تو خود ہی مخصوص سماجی رشتوں کی پیداوار ہوتا ہے ۔ اُس کے جمالیاتی خیالات سماجی حالات کا عکس ہوتے ہیں۔

آرٹ سماج کے بالائی ڈھانچے کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس طرح یہ اس بنیاد (base) کو تقویت پہنچاتا ہے جس نے اسے وجود بخشا اور جس پر یہ فروغ پارہا ہے ۔

ایک طبقاتی سماج میں آرٹ پیداوار کی سطح کی ڈائریکٹ عکاسی نہیں کرتا بلکہ سماجی حالات ، کلاس سٹرگل کے راستے اور دورانیے کا مجموعہ پیش کرتا ہے ۔

عالمی آرٹ کی عظیم کلاسیکل تخلیقات جن سماجی حالات میں تخلیق کی گئی تھیں ، اُن حالات کے غائب ہوجانے سے مر نہیں جاتیں، بلکہ سماجی انسانی جذبات اور مُوڈز کا اظہار کرتی ہوئی ایک نئی زندگی جینا جاری رکھتی ہیں۔

محنت آرٹسٹک تخلیق کا سرچشمہ ہے ۔ یہی محنت ابتدائی انسان کے جمالیاتی جذبات اور ضروریات کو شکل دینے کے پراسیس کا سرچشمہ تھی ۔ قدیم انسانوں میں آرٹ کا محنت کے ساتھ ایک فوری ، براہِ راست اور سادہ تعلق رہا۔ بعد میں یہ تعلق پیچیدہ بنتا گیا۔

آرٹ سماج کی روحانی زندگی کے دوسرے شعبوں (سائنس ، ٹکنالوجی اور سیاسی نظریہ ) سے بہت سی باتوں کا اشتراک رکھتا ہے ۔ لیکن بہ یک وقت آرٹ کے ایسے خصوصی فیچر بھی ہوتے ہیں جو اُسے سماجی شعور کے دوسرے تمام فارموں سے ممتاز بناتے ہیں۔

حقیقت کے ساتھ انسان کا جمالیاتی تعلق آرٹ کا مخصوص موضوع ہے ۔ دنیا کی آرٹسٹک صورت گری آرٹ کا معینہ کام ہے ۔
۔
آرٹسٹک امیجز آرٹسٹ کی طرف سے زندگی کے بارے میں اُس کے علم اور مہارت کی بنیاد پر تخلیق کیے جاتے ہیں۔ آرٹ کی تاریخ دراصل ،حقیقت ، جمالیاتی آگاہی کی توسیع ، اور اسے امیر بنانے ، اور انسان کی طرف سے دنیا کی تبدیلی کی گہری آرٹسٹک عکاسی ، کی تاریخ ہے ۔ آرٹ کی ترقی سماج کی ترقی ، اور اس کے طبقاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے ۔
کپٹلسٹ طرز ِپیداور آرٹ کا مخالف ہے اس لیے کہ یہ اعلیٰ سماجی اور روحانی آئیڈیلز سے نفرت کرتا ہے ۔
کپٹلسٹ سماج میں پروگریسو آرٹ یا تو کپٹلزم کے ظہور کے دور میں موجود تھا ،جب بورژوازی ابھی تک ایک پروگریسو طبقہ ہوا کرتی تھی، یا ،آرٹسٹوں کی سرگرمی سے جو کہ اس نظام کے ناقد ہیں۔

آرٹ کا تعلق عوام سے ہے ۔ اس کی جڑوں کو محنت کش عوام کے درمیان گہرائی کے ساتھ پیوست ہونا چاہیے۔ یہ آرٹ ایسا ہونا چاہیے کہ عوام اُسے سمجھیں اور اُس سے محبت کریں ۔ ضروری ہے کہ یہ اُن کے احساسات ،خیالات اور عزائم کو متحد کرے اور انہیں بلندی عطاکرے۔

سوشلسٹ انقلاب معاشی اور روحانی غلامی کی زنجیریں توڑ کر کلچر پہ استحصالی طبقے کی اجارہ داری ختم کردیتا ہے اور ساری کلچرل امارت اور علم کو عوام کی ملکیت بنا دیتا ہے ۔

بلاشبہ آرٹ عوام کی ملکیت ہوتا ہے ، عوام کے لیے ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ اُسے اس کی ضرورت ہے ۔ عظیم موسیقی ، نفیس رقص، فائن پینٹنگ ، اور عظیم ڈرامہ کو محض چند ”مہذب “لوگوں کی مسرت کے لیے نہیں رکھنا چاہیے ، اسے عوام الناس کو بلاقیمت دینا چاہیے ۔ یہ اُن کے لیے اتنا ضروری ہے جتنی کہ ہوا اور روٹی ضروری ہے.

آرٹ کو صندوق میں بند کر کے محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ اسے تو عوامی سرگرمی کے چوک پہ رکھا جائے تا کہ وہ لین بھی کرسکے اور دَین بھی ۔ تبھی آرٹ اور کلچر محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے کہ آرٹ کو سیاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*