مزدور طبقے کا دانشور

بلوچستان کا ہسٹورین ہو یا سیاسی رائٹر، فکشن والا ہو یاسوشل موضوعات کا لکھاری، وہ ہمارے سماج کے اندرون کی طرف جھانکنا سیاہ گناہ تصور کرتا رہا ہے ۔ آپ کو زبردست سامراج دشمنی ، مارشل لا مخالفت، اور ون یونٹ دشمنی پہ جلدوں کی جلدیں ملیں گی مگر ہمارے اپنے سماج کی داخلی معاشی سیاسی اور سماجی صورت کیا ہے ، اس پہ مکمل خاموشی نظر آئے گی ۔ ایسے جیسے کوئی بدصورتی چھپائی جارہی ہو۔ اور جونہی ہمارے سماج کے داخل کی بات کا موقع آجاتا ہے ہمارا لکھاری فٹ سے چاکر اور گوئہرام کی دستیاب ایور لاسٹنگ ضمانت کو استعمال کرے گا۔یا پھر ، دوچار شعر بالاچ گور گیژ کے ، ایک آدھ مصرع رحم علی کا ۔۔۔ اور بس کام بن گیا۔
بلوچستان کے نہری زرعی علاقے کی حالت تو اور ابتررہی۔ یہ علاقہ انگریز کے خلاف 1857میں ذرا سی جنبش کرنے کے بعد بہت عرصہ کے لیے عوامی ہلچل اور تحرک و جنبش سے محروم پس منظر میں رہا۔ کوئی بڑی جمہوری عوامی تحریک یہاں اُگ نہ سکی۔ اس علاقے نے کوئی بڑا عوامی لیڈر بھی نہیں جنا ۔ امین کھوسہ کی سیاسی بہار بھی 1935تک ہی رہی جس کے بعد وہ ”سرداروں کی سرداروں کے ساتھ “، اور ”سرداروں کی سرکار کے ساتھ “مصالحت کرنے والا بن کر رہ گیا۔ سرداروں کے بیچ مصالحت کے لیے تو سردار والی سماجی سٹیٹس چاہیے ہوتی ہے ۔ وہ نہ ہو تو انسان نیم پاگل بن جاتا ہے ۔ تب سوڈان ، سربیا ، موزمبیق اور پاپو آنیو گنی میں باہم جھگڑے ہوﺅں میں مصالحت کی بلند بانگی رہ جاتی ہے ۔ بہر حال ،اُس غنیمت امین کھوسہ کے بعد تو عوامی حقوق کا داعی کوئی شاعر، کوئی دانشور اور کوئی سیاستدان سامنے نہ آیا۔ بس دیوالیہ نکلے ہوئے جاگیردار ہی رہ گئے ۔ وہی وائسرائے کی رضا مندی سے سرکاری بڑے عہدوں اور بڑے کرپشن کے انچارج بنے رہے ۔ یہ اندھا فیوڈلزم خود بھی بے حرکت نظام رہا اور اس نے عوام کی بھی ہر حرکت اور تحریک کو سختی سے دبائے رکھا۔
آس پاس جہاں عوامی حرکت کی سکراتی چنگاری سلامت رہی تو وہاں بھی دانشوروں کی سہل پرستی اتنی بڑی تھی کہ بقیہ بلوچستان کو فیوڈلزم کی اس شکل کے بارے میں جانکاری ہی نہ ہوسکی ۔معلومات نہیں ہیں کہ جاگیردار کیا ہوتا ہے، راہک، بزگر، کسان، سرف ڈم اور بے زمین کسان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس فیوڈلزم کو سہارا دینے میں ساہوکار کے قرضوں کا کتنا رول رہا ہے۔ ۔۔۔ہم بقیہ بلوچستان کو نہ تو پتہ چلا اور نہ اُس نے جاننے کی کوشش کی ۔
ابھی حال میں کچھ کوششیں ہوئیں۔ مگر وہ بھی پیداواری قوتوں اور ذرائع پیداوار کے مالکوں کے بیچ توازن و چپقلش ، امن و جنگ ، اور فرق و امتیاز وغیرہ کی تحقیق پہ مبنی نہ تھا۔ آج تک بلوچستان کے جاگیرداری زرعی علاقے کے اندر مستیاں مارتی بھوک، گونگی ننگ، عمیق ناخواندگی اور بے حجاب غیر انسانیت پہ ایک لفظ تک نہیں لکھا گیا۔ آبادی کی اکثریت کی سماجی معاشی حالت توجہ میں رہی ہی نہیں ۔ بس کچھ سیاسی واقعات بیان ہوئے اور اُن واقعات کے اندر خود کو ڈال کر اپنی حاضری لگوائی گئی۔
ابھی ایک درجن برس قبل بلوچستان میں دانشوروں کا ایک گروپ پیدا ہوا جس نے تاریخ کو سرداروں کے نقطہِ نظر سے لکھنے کو مسترد کیا گیا اور ہسٹری میںپہلی بار ،ہسٹری کو عوام کی حرکت و تحریک سے جوڑ کر دیکھنے کی ابتداکی ۔نیم کچائی اور نیم پکائی میں نواز کھوسہ بھی اس آئیڈیا سے متفق ہوا اور اس نے یہ کتاب لکھی۔
ہم نے جنوبی پنجاب کے جاگیرداری نظام میں ایک عجب بات محسوس کی۔ بجائے اس کے کہ وہاں پہ بدترین فیوڈلزم کی تباہ کاریوں پہ دانشوری اور سیاست کی جائے ، وہاں کے کسانوں کی عصمتوں، ڈھوروں اور دستاروں کی دھجیاں ہوجانے پہ ناول افسانہ اور شاعری کی جائے ، انہیں منظم کرنے کے ترانے لکھے جائیں،وہاں کے موقع پرست دانشور اور شاعر ،لپک کر قوم پرست بن گئے ۔ یوں انہوں نے ، جی ہاں پیٹی بورژوا دانشور وں نے ،ایک متحرک و سرگرم کسان تحریک کو سبوتاژ کیا۔
یہی بات خیبر پشتونخوا میں فیوڈلزم کے گڑھ یعنی ہشت نگر کے علاقے میں ہوئی ۔ مورچہ مشکل دیکھ کر عام طور پر پیٹی بورژوا دانشور بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور شہرت و دولت و ایوارڈبٹورنے کی کوئی آسان راہ ڈھونڈتا ہے ۔ اندرونِ سندھ کی تو خیر بات ہی نہ کی جائے تو بہتر، جہاں فیوڈلزم اور ” سید “ گردی آبِ حیات پیے ہوئے ہیں۔
گوکہ نواز کھوسہ کی کتاب میں فیلڈ ریسرچ بہت ہی کم ہے اور سرکاری ”جھوٹ موٹ “کے اعداد و شمار ہی سہی، سے بھی کم استفادہ کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ کیا کم ہے کہ کسان علاقے میں کسان کے حوالے سے بات کی گئی؟۔ یہ کتاب اپنے مقصد کے گرد ہی گھومتی رہی ہے ۔ یہاں وہاں جمپیں مارنے کی کوششیں نہ کی گئیں۔ یقین ہے کہ اگلے ایڈیشنوں میں وہ مزید تفصیل اور مزید مرکوز طور پر کسان کے سماجی، اور معاشی حالات پہ زیادہ توجہ سے لکھے گا۔
ایک اور بات کی خوشی ہوئی کہ مصنف نے اپنی بہت زیادہ تعریف نہیںکی ۔ وگر نہ ایسی کتابوں میں ہر صفحے پر مصنف کسی کونے سے جھانک کر اپنا درشن ضرور کرواتا ہے ۔ وہ خواہ فیوڈل کی پارٹی میں ہی رہ کر عوام دشمن نعرے ہی کیوں نہ مارتا رہا ہو۔ لیکن وہ اسے بھی افتخار کا ذریعہ گردانتا ہے اور یوں اپنے ماضی کو مسترد کرنے کے بجائے اُن عوام دشمن برسوں کو بھی اپنی سیاسی گُروگیری، سیاسی ٹیچری کے کمبل میں چھپاتا ہے ۔
یہ ” ریڈیبل “ کتاب اس لیے ہے کہ اس کی زبان آسان ،اور روان ہے ۔
کتاب میںکسان آرگنائزیشن کے بارے میں ، یا اُس کے آرگنائز ہونے کے امکانات کے بارے میں بہت بات نہیں کی گئی۔ اسی طرح وہاں کے کسانوں پہ پیپلز پارٹی کے فیوڈل نواز بد بخت اثرات پہ تفصیل سے نہیں لکھا گیا۔ وہاں کی عورت کی غیر انسانی حالت کے بارے میں بھی بہت کم بات کی گئی۔۔۔ یہ سب باتیں آئندہ ایڈیشن پر قرض ہیں۔
امکانات زیادہ ہیں کہ نواز کھوسہ بورژوا سیاسی پارٹیوں اور فیوڈل قیادتوں سے اجتناب کرتے ہوئے مندرجہ بالا کام کرے گا۔ گوکہ وہاں کسانوں کی کوئی نظریاتی فکری تنظیم نہیں ہے اس لیے دانشور کے بہک کر بورژوا دانشوری کی طرف جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ زیرو سے شروع کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف ساری بورژوا پارٹیاں ، سیاسی ورکرکی قحط کا بری طرح شکار ہیں۔ اس لیے مجھے محمد نواز کھوسہ کے مستقبل سے بہت ڈر لگتا ہے ۔ فکری اور سیاسی طور پر اِدھر اُدھر جھانکتا بہت ہے وہ ۔ اور شہرت جیسے شیطان کی کشش اور چمک تواندھا کر دیتی ہےں!۔ ہر معاملے پہ قلم اٹھانا اور کتاب لکھ مارنا منزل سے نگاہیں ہٹانا ہوتا ہے ۔ نواز جان نے ماضی قریب میں اسی طرح کے کچھ بے سرو پیرکام کیے بھی ہیں۔ تمنا ہے کہ ہمارا یہ نچلے طبقے کا قلمکار خود کو پیٹی بورژوا ذہنیت سے بچا پائے ۔ دوست اس سلسلے میں اُس کی مدد کرتے رہیں تو ایمان سلامت رکھنا اُس کے لیے مزید آسان ہوجائے گا۔
نواز کھوسہ کے لیے نچلے طبقات اور محکوم قوموں کے ایک مستقل مزاج ”کلاس دانشور“ہی بنے رہنے کے توقعات لیے :

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*