سائنس

سائنس اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود سماج بنیاد یا base نہیں ہے۔ یہ بالائی ڈھانچے سے تعلق رکھتی ہے۔

سائنسی علم کی طاقت اس کے معروضی سچ میں ہے۔ سائنس کی سچائی کی تصدیق سماج کے عملی تجربے کے دوران ہوتی جاتی ہے اور یوں یہ مسلسل ایکوریٹ ہوتی رہتی ہے۔

آرٹ کے برعکس جو کہ دنیا کو آرٹسٹک عکسوں میں منعکس کرتا ہے، سائنس دنیا کو منطقی غور و فکر کے ذریعے،concepts میں پہچانتی ہے۔

سائنس کا کمال اس کی جنر لائزیشن میں ہے ۔سائنس فلسفیانہ عالمی نکتہِ نظر سے قریبی طور پر جڑی ہوئی ہوتی ہے ، جو اُسے معروضی دنیا کی نشو ونما کو کنٹرول کرنے والے عمومی قوانین سے ، اور علم کی تھیوری اور تفتیش کے ایک طریقے کے علم سے مسلح کرتا ہے ۔ صرف جدلیاتی مادیت کا فلسفہ حقیقت کے درست اپروچ کو یقنی بنانے اور وسیع اور با ثمر جنرلائزیشن کی راہ کھولنے کو یقینی بنانے کا اہل ہے ۔
سائنس حادثوں اور بد نظمی کے پیچھےمعروضی قوانین کو تلاش کرتی ہے اور ان کا مطالعہ کرتی ہے۔ معروضی قوانین کے علم کے بغیر شعوری اور بامقصد عملی سرگرمی نا ممکن ہے۔
مادی پیداوار ، اور سماج کی ترقی کی ضروریات سائنس کا قوت ِمحرکہ ہیں۔

سائنس سماج کی پیداواری سرگرمی کی ضروریات سے ابھرتی ہے۔ یہ سماج کی ترقی کے راستے کو بڑے پیمانے پر متاثر کرتی ہے ۔ سائنس کے بغیر آج کی پیداوار کا تصور تک نہیں کیاجاسکتا ، جس کا رول مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔

سائنس بہت بڑی نعمت ہے ۔ انسان کے ہاتھ ایک ایسا وسیلہ جو اُس کی زندگی کو با سہولت بناتی ہے۔

مگر اس سب کے باوجود سائنس سماج کی بنیاد نہیں، اس کا بالائی سٹرکچر ہے۔ بنیاد جیسی ہو بالائی ڈھانچہ ویسا ہوگا۔ اور بنیاد تو کیپٹلزم ہے، لہذا سائنس کپٹلسٹ کے ہاتھ میں ہے ۔اس لیے وہ کیپٹلزم کے حریف یعنی محنت کش عوام کے خلاف لڑائی میں ایک ہتھیار کے بطور استعمال ہوتی ہے ۔ کپٹلسٹ کے ہاتھ میں سائنس زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتی ہے ۔

فلسفہ، مذہب اور اخلاقیات کے ذریعے مختلف طبقات اور پارٹیوں کا نظریہ سائنس میں داخل ہوتا ہے ۔ جو نظریہ کسی سماج پہ بالادستی پاتا ہے وہی مختلف طریقوں سے سائنس دانوں پہ بھی مسلط ہوجاتا ہے : روایات کے ذریعے سے ، نظام تعلیم کے ذریعے سے اور براہِ راست نظریاتی اور سیاسی اثر سے۔ سائنس دانوں کی سوچ کا عمومی ٹرینڈ بورژوا سماج کے حالات سے متاثر ہوتا ہے ۔ سائنس دان جدید کپٹلسٹ سماج میں آئیڈیلزم اور میٹا فزکس کی بالادستی سے متاثر ہوتا ہے ۔
بورژوا سماجی سائنس براہِ راست کپٹلزم کے دفاع ، کپٹلزم کے دم توڑتے ہوئے نظام کی لیپاپوتی اور کمیونزم اور ترقی کے خلاف شدیدحملوں کے لیے وقف ہوتی ہے ۔

مگر جب سماج کی نجی ملکیت والی معاشی بنیاد ڈھے جاتی ہے تو یہی سائنس عوام الناس کی بن جاتی ہے ۔ جہاں یہ بغیر رکاوٹ ترقی کرتی جائے گی ، نکھرتی جائے گی ۔۔۔۔ نجی ملکیت کی خدمت کرنے کی شرط جو ہٹ گئی ۔ تب یہ سماج کی ایک ڈائریکٹ پیداواری قوت بنتی جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*