اخلاقیات

اخلاقیات سماج کے بالائی ڈھانچے سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس لیے کہ اس کو سماج کا بیس یعنی معاشی نظام متعین کرتا ہے ۔ ایک طبقاتی سماج میں ایک سے زیادہ اخلاقیات وجود رکھتی ہیں، اس لیے کہ وہاں معاشی طبقات ایک سے زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر سماج پر حاوی اخلاقیات حاوی طبقے کی ہی ہوتی ہے ۔
اخلاقیات انسانی سماج کے نمودار ہوتے ہی ظاہر ہوتی تھی، یعنی ریاست کی آمد سے قبل ۔ پھر یہ ارتقا کے طویل تاریخی پراسیس سے گزری ۔ اس میں موڈ آف پروڈکشن میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ چنانچہ اخلاقی معیار اور رشتے قطعی، حتمی اور ناقابلِ تغیر بالکل نہیں ہوتے ۔
بورژوا اخلاقیات پرائیویٹ پراپرٹی کے ساتھ بندھی ہوتی ہے اور اسی کا ترجمان ہوتی ہے ۔ چنانچہ بورژوا اخلاقیات کے اصول اورڈھب خود غرض اور انفرادیت پسندی والے ہوتے ہیں۔ بورژوازی کا طرزِ حیات فاسق اور ضرررساں ہوتا ہے اس لیے کہ یہ انسانیت اور تاریخ کے مارچ کے مفادات کے خلاف چلتا ہے ۔ بورژوازی کی اخلاقیات فاشزم کے اندر رہائش رکھتی ہے ۔
پرولتاری اخلاقیات بورژوا حکمرانی کے دور میں تشکیل پاگئی تھی۔ اُس وقت جب محنت کش عوام سماجی ظلم اور نا انصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ۔ یوں ظالم و استحصال کرنے والوں کے خلاف جدوجہد کے دوران عوام الناس کی اخلاقیات جمع ہوتی رہی ۔ اس کے بڑے بڑے ستون بین الاقوامیت پسندی ، حب الوطنی اور انسان دوستی ہیں۔
سوشلزم سے کمیونزم کی طرف عبور کے زمانے میں اخلاقیات اور اخلاقی اصول شاندار اہمیت حاصل کر لیتے ہیں۔ کیونکہ اب ریاست اخلاقیات کو اپنے انتظامی احکامات و اقدامات سے ریگولیٹ کرنا رفتہ رفتہ کم کرتی جاتی ہے ۔ تب انسانوں کے درمیان رشتے اور انسانوں کے سماج کے ساتھ رشتے زیادہ سے زیادہ اخلاقی اصولوں سے ریگولیٹ ہونے لگتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*