غزل

خواب تصورچاند اور راتیں
خود سے باتیں تم سے باتیں

خوشی ہے اک معصوم پرندہ
جس کے چاروں اورہیں گھاتیں

آس امید بساط سے باہر
کیسی چالیں کیسی ماتیں

تم بن موسم ایک ہی جیسے
سردی ،گرمی خزاں برساتیں

ساتھ تمہارے کٹ جاتے تھے
لمبے دن اور چھوٹی راتیں

ریت پہ جاکر لکھ آﺅنگی
اپنے دل کی ساری باتیں

دوطبقے میں بٹی ہوئی ہیں
اعلی ‘ذاتیں۔اد نی’ ذاتیں

ہجرت کرگئی چاند کی بڑھیا
گوگل پہ اب چرخا کاتیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*