غزل

آخر میں زندگی نے منظر نیا لکھا ہے
اک نظم کھو گئی ہے اک ہجر جاگتا ہے

نہ شعر ہے نہ نغمہ ، نہ رقص وبت تراشی
افسردہ خاطری کا آخر علاج کیا ہے

حاصل محبتوں کا کرتا ہے ذہن سازی
ہر شخص دشمنِ جاں، ہر شخص دلربا ہے

سادا وجود گم سم اور خوش کلام آنکھیں
الفاظ سال خوردہ لہجہ نیانیا ہے

یکسوئی اک طرف ہے ، بکھراﺅ ایک جانب
نہ اس کی انتہا ہے نہ اس کی انتہا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*