مزدور عورت

تغاری سر پہ دھرے تر بتر پسینے سے
اٹھا ئے مامتا کا بو جھ نو مہینے سے
دھکتی ریت پہ اپنے قدم جما ئے ہو ئے
مشقتوں کی نظر سے نظر ملا ئے ہو ئے
رتو ں کے قہر کو یہ امتحان لگتی ہے
یہ چا ند نی سے بنی اک چٹان لگتی ہے
ہنر کے اطلس و کمخواب کی ردا ﺅں میں ہے
معا شیات کی پا زیب اس کے پا ﺅں میں ہے
پھٹے لباس پہ محنت کی شال ڈا لے ہے
بدن کے شیشے پہ لو ہے کا جال ڈالے ہے
وہ جس کلا ءپہ بے ہمتی کے طعنے ہیں
اسی کے پنجے میں ہمت کے تا نے بانے ہیں
مچان باندھ کے جب چھت بنا ئی جا ئے گی
تغاری گارے کی سر پہ یہی اٹھا ئے گی
چڑھے گی زینہ بہ زینہ سمیٹتی ساری
اگر چہ بو جھ بھی بھا ری ہے پا ﺅں بھی بھاری
کبھی کدال چلا تی ہے ، بو جھ ڈھوتی ہے
تو ہل چلا کے کبھی یہ زمین بوتی ہے
کبھی یہ گھر کی گو ا ہی میں جان دیتی ہے
حویلیوں کو اطا عت کا مان دیتی ہے
غریب ہے سو بدن کا خراج دیتی ہے
یہ خود کو پیس کے گھر کو اناج دیتی ہے
یہ بے بساط ہے لیکن یہ غمگسار بھی ہے
وفا شعار بھی ہے جان روزگار بھی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*