شاہ لطیف،سندھی کلاسیک کابیٹا

ادب کی دنیا میں خلیل جبران،شیخ سعدی،مولاناروم اور ڈی میلو کی تمثیلی اخلاقی کہانیاں بہت مقبول ہیں ۔ کہیں دیکھیے تو شیر اورلومڑی کی کہانی ہے ، کہیں طوطااور تاجر کی ……..وہ عام فہم اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں اس لیے مقبول ہیں کہ وہ ایک سبق دیتی ہیں ۔
شاہ لطیف بھی کچھ ایسے ہی رنگین قصے بیان کرتا ہے۔مگر یہ قصے وہ خود نہیں بناتا وہ انہیں بلکہ وہ انہیں اپنے خطے کے کلا سیک سے چنتا ہے……سسی پنوں، مومل میندھرو، نو ری جام ، لیلاچنیسر……..اس کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ یہ قصہ پورا نہیں کرتا بلکہ عموماً اُس کا سبق آموز حصہ بیان کرتا ہے۔(1)۔
شاہ لطیف تصور سے بھی بڑادانشوراور عظیم شاعرہے۔ اس لیے کہ اس نے بڑی سماجی تبدیلی کی اپنی تعلیمات کے ابلاغ کے لیے ایک بہت بڑا ایر پورٹ ، ایک بڑا براڈکا سٹنگ ہاؤس اور ایک عظیم الشان و مضبوط فائٹنگ گراؤنڈ منتخب کر لیا۔ اور وہ زمین تھی مقامی قومی سندھی تہذیب اور لوک کہانیوں اور سندھ سرائیکی پنجاب و بلوچ مشترکہ کلاسیکل داستانوں کی زمین ۔ شاہ نے اس مضبوط زمین پر پیر جما ئے رکھنے کا فیصلہ کیا۔
کلاسیک نے نہ صرف شاہ کو اپنے ماضی اور کلچر سے جوڑ دیا بلکہ ذخیرہِ الفاظ ، استعارات اور تشبیہات کے بیش بہااور رنگین ہار اُس کے ذہن کے ذخیرے کے گلے میں ڈال دیے ۔اِن اجرکوں، لنگیوں سے ملبوس اِس تازہ دم نوجوان نے اپنے ادب وزبان میں جمالیات اور فنی اقدار کو نئے انداز سے شامل کرکے مالا مال کردیا۔ پھر اس نے اپنے پیغام میں ماضی کی ثقا فتی اور جمالیاتی روایت سے رنگ ،ذائقہ ، سونف ، الانچی شامل کردی ۔
جوشخص اپنی زبان کی کلاسیک پہ عبورنہیں رکھتا وہ بس ’’ہوائی‘‘ آدمی ہوتاہے۔ عوام کے ادبی ثقافتی شعورکی جڑیں تو اُس کی کلاسیک میں ہوتی ہیں۔ اور بالخصوص کلاسیک کا تقدس اور اس کی دولتمندی یہ ہے کہ یہ اسا طیری ہے ، اوراس میں مائتھالوجی ہے۔ بد قسمت اور مفلس ہیں وہ زبانیں جن کے پاس یہ اشرف انسانی خزانہ موجود نہیں ہوتا۔ضیاء الحق ہیں وہ لوگ جواپنی کلاسیک سے منہ موڑ لیتے ہیں…….
شاہ لطیف قسمت کا دھنی تھا۔وہ سندھی کلاسیک کا دلدادہ تھا۔ اُس نے انہی کلاسیکل داستانوں کے کرداروں کو ازسرِنودریا فت کرنا ، انہیں ازسر نوبیان کرنا ،اُن کی جدوجہد کے اہداف و مقاصد کوواضح کرنا اور پھر جدوجہد کے دوران انہیں درپیش مشکلات ومصائب کو بیان کرنااپنا مقصدحیات بنالیا۔
شاہ لطیف بہت بڑا فنکار اور بہت بڑا آرٹسٹ ہے۔کلا سیک کے ساتھ سلوک کا شاہ لطیف کا طرز بھی بہت عجیب ہے۔ وہ بہت مقبول اور عام انسان کی جانی پہچانی کلاسیکل داستان کی مکمل کہانی بیان نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس داستان میں سے جدوجہد،اور بھی عورت کی جدو جہد کے ٹکڑے الگ کرکے انہیں اپنے رنگ میں بیان کرتا ہے ۔
شاہ نے کلاسیکل داستانوں کے جست کو نہ صرف جدید و دل نشین انداز میں بیان کیا بلکہ اُس نے ان داستانوں اور خود اپنے زمانے کے ارد گرد موجود معروض کوتفصیل سے بیان کیا،اور معروض و موضوع کے باہمی عمل کے منطقی انجام کی تجزیاتی مستقبل بینی کردی۔ اور اس نے فطرت کی حسین ترین منظر کشی کرتے ہوئے ایسا کیا۔ منظرکَش شاعرو پس منظر کَش فلسفی۔۔۔۔
شاہ سپاٹ قصہ بیان نہیں کرتا۔ وہ اِس قصہ میں سے حرکت و توانائی کے ٹکڑے ڈھونڈ نکالتا ہے اور تفصیل سے اُن ٹکڑوں کی منظر کشی کرتا ہے۔……..وہ ایک ہی نتیجہ نکا لتاہے(جوکہ اس کے سارے فلسفہ کا نچوڑبھی ہے):۔۔۔۔۔۔ ’’اول آخر چلتے رہنا ہے‘‘۔
دنیا کی ہر زبان صرف دوجوہات کی بنا پر مقد س ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ اشرف المخلوقات کے ایک حصے کی زبان ہوتی ہے ۔ اور دوسری یہ کہ وہ آفاقی افکار کے ابلاغ کا میڈیم ہوتی ہے ۔ عوام زبان کو غنی بناتے رہتے ہیں اور افکار زبان کو بلند معیاراور وسعت عطا کرتے رہتے ہیں ۔یہاں،کتنی مزیدار بات ہے کہ نہ تو شاہ کے افکار نے سندھی زبان کو بہت تکلیف دی اور نہ سندھی زبان نے شاہ کے افکار کو جذب وٹرانسمنٹ کرنے میں کوئی تکلیف محسوس کی۔ سندھی زبان نے شاہ کی معراج کواو ج کی بلندی پر پہنچایا اور افکارِ شاہ نے سندھی کوغنی بنایا ، اُسے بلند مر تبہ عطا کیا ، اسے ایک بقا، ایک دوام، ایک حیاتِ جاوداں بخشی ۔ زبان و افکار یوں گھل مل گئے کہ اُن کوالگ کرنا ناممکن ہوگیا۔سندھی زبان کانام شاہ لطیف ہے اور شاہ لطیف ہی سندھی زبان ہے۔
شاہ ایک عالم تھا ۔سندھی ، عربی ، فارسی ، ہندی ، بلوچی اور سرائیکی زبانوں کے شد بد کے سبب اس کی شاعری بہت وسیع ،بہت عمیق اور رنگا رنگ ہو گئی ۔( مگر مست توکلی تو بلوچی کے علاوہ کچھ بھی نہ جانتا تھا ۔ اُس کی شاعری بھی بہت وسیع، بہت عمیق اور رنگا رنگ تھی!۔ کون عشق کی رحمتوں کے لئے کلیہ قوانین بنا سکا ہے !!)۔
فولکلور، فوک کہانیاں اور فوک شاعری شاہ کی مریدنیاں تھیں ۔ اُس کا مجموعہ کلام ’’ شاہ جو رسالو ‘‘اس مزاج وعادت کی مکمل مظہر ہے جس کے گردسندھ وبلوچستان کے اذہان گردش کرتے ہیں۔ ’’شاہ جورسالو‘‘ ہماری نفسیات کے عین مطابق ہے ، اورہماری ضروریات کے بھی ۔یہ ایک ایسا دستورا لعمل ہے جوعوام الناس کو عمل کی ترغیب دیتا ہے، اُسے منظم کرتا ہے اور اسے متحد کرتا ہے ۔ یہ کتاب ہماری قدروں ، معیاروں ، امیدوں، خوفوں، تعریفوں ، اورپسندناپسندکااحاطہ کرتی ہے ۔
شاہ لطیف نے سندھ کی تاریخی ، نیم تاریخی اور فوک کہانیوں سے کام لیاہے ۔ کہانیاں یوں ہیں :
۔1۔سونہٹریں میہر
۔2 ۔سسی پنوں
۔3۔سورٹھ رائے ڈیاچ
۔۔4۔لیلاں چنیسر
۔5۔ نوری جام تماچی
۔6۔مومل رانڑو
۔7۔مورڑواور شارک
۔8۔عمرماروی
ہر داستان کی طرح شاہ کی بیان کردہ کلاسیکی داستانوں بھی میں تنوع بہت ہے۔ہرجغرافیائی علاقے میں اِن کا ورژن اَورہوجاتاہے۔میں اُس بھول بھلیوں سے بچنے کے لیے اُسی وژرن پہ اکتفاکرتاہوں جوشیخ ایاز،اور درشہوار کی کتابوں میں بیان ہواہے، یا جسے سوبھوگیا نچندانی ،ابراہیم جویو،ڈاکٹر فہمیدہ حسین، یوسف سندھی اور ننگر چنا کی زبانی میرے کانوں نے چُناہے۔۔۔۔۔۔۔’’ سسی پنوں‘‘ تو خیر،میرے جینز میں شامل ہے۔
میں اپنے غیر سندھی قارئین کے لئے کلاسیک کے اِن نمونوں کو یہاں مختصراً بیان کرتا ہوں۔

سونہٹریں میہر

وسطی ایشیا کا ایک امیرنوجوان سوداگراِس خطے میںآیا (ہماری کہانیوں میں سارے سوداگر وسطی ایشیا سے ہی آتے ہیں!!)۔اس نے نوکر کو کمہارسے کچھ خوبصورت برتن خرید نے روانہ کیا ۔ نوکر کمہار کی بیٹی سونہٹریں کی تعر یفوں کے ساتھ واپس آیا۔ نوجوان سوداگر برتن خرید نے کے بہانے خود سونہٹریں کے باپ کی دکان گیا۔ سونہٹریں کودیکھا توخرید کے بجائے فروخت ہوا۔روح وہیں بیچ آیا۔ اب، وہ روزانہ برتن خرید نے کے بہانے اس کی دید کی بھیک دل کے کچکول میں ڈال کرلوٹتا ۔برتن ختم نہ ہوئے مگرپیسہ ختم، اور کمہار کامقر وض یہ سود اگربالآخر اُسی کے ہاں نوکر ہوگیا۔ کمہارنے اُسے اپنی بھینسوں کی نگہداشت پر لگا دیا۔اسی لیے تو یہ نوجوان میہریامیہی وال کے نام سے مشہور ہوا۔اور بعد میں ’’ی ‘‘ گم ہو ا اور مہی وال یعنی مہیوال رہ گیا۔ با لکل اُسی طرح جس طرح سو نہٹریں کا ’’ن‘‘ اور ’’ڑ ‘‘کٹ کراُسے سوہنی بنادیا گیا ۔ذرادیکھیے تو سونہٹریں کو سو ہنی بناکر لفظ کا بھاری پن اورمعنویت کس قدر کم ہوگئے……..الفاظ میں حروف کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔
ایک لاابالی سوداگرکو’’ میہی وال‘‘ بنانے والی سونہڑیں نے کب تک بچ کے رہنا تھا۔ چنانچہ،عشق کے مدہم سروں نے اس کے رقصاں پیروں کی جواں چاپ بھی اپنی سمت کھینچ لی۔اِسے ’’کچھ نہیں‘‘سے ’’سب کچھ‘‘ کی نعمت بھری وادی میں داخلے کی سعادت نصیب ہوئی۔……..
اوراب کیا ہوناتھا؟۔ وہ دونوں چھپ چھپ کے ملنے لگے۔سونہٹریں کے باپ کوپتہ چل جاتا ہے ۔ اس نے میہی وال کوملازمت سے فارغ کردیا ،اور سونہڑیں کو کسی اور سے شادی کے نام پہ ڈسپوزآف کردیا۔مگر ایسا کیسے ہوگارے؟۔چنانچہ دودلوں نے بلند آواز سے کہا’’ریجیکٹ‘‘!۔ میہی وال بنا جوگی اور دریا کے اُس پار سونہٹریں کے گاؤں کے مقابل بس گیا۔یوں شبینہ ملا قاتیں جاری کہ سونہڑیں ہر رات گھڑے کے سہارے دریاعبورکرکے آتی۔
مگر تابہ کئے ؟ ۔یہ رازبھی معلوم ہوناہی تھاہو گیا۔رات کی تاریکی میں اُس بے چاری عشق زدہ کے پکے گھڑے کوبد ل کر ایک کچا گھڑا رکھ دیاگیا(جوآگ میں جل کرپکا نہیں ہواتھا)۔اس ہلاکت خیز سازش سے بے خبر سونہٹریں کچے گھڑے کو حسبِ معمول والا پکا گھڑا سمجھ کر اُس کے سہارے تھوڑی ہی دور گئی تو کچا گھڑا پانی میں حل ہوکر ٹوٹ گیا ۔۔۔۔۔۔ سونہٹریں ہاتھ پاؤں مارمار کرتھک گئی ۔ ڈوبنے لگی تو مدد کے لیے چیخی۔ میہی وال پانی میں کو دگیا، سونہٹریں نے آخری سانسیں اس کی بانہوں میں لیں، دونوں وہیں ڈوب کے مرگئے۔
شاہ لطیف نے اس کلاسیک کواپنے استعاروں، تبصروں ،ا ور نتیجوں کے ساتھ اپنی آفاقی شاعری میں شامل کردیااور ڈوبے ہوؤں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ شاہ نے بہت سے ڈوبے ہوؤں کے ساتھ ایسا کیا۔شاہ بہت سے ڈوبے ہوؤں کے ساتھ ایسا کرتا رہے گا۔

سورٹھ رائے ڈیاچ

ریاست جو نا گڑھ کے راجہ ڈیاچ کی بے اولاد بہن نے ایک بزرگ سے نرینہ اولاد ہونے کی دعا کروائی تو بزرگ نے بتایا کہ ایسا ہوگا تو سہی ،مگر تمہارا وہ بیٹابڑا ہوکر تمہارے اپنے بھائی کو قتل کرڈالے گا ۔
جب لڑکا پیدا ہوا تو اولاد کے لئے ترستی بہن نے بھائی کی جان بچانے کی خاطر انوکھی قربانی دی۔ اُس نے اپنے بچے کو لکڑی کے صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیا ۔(دلچسپ بات دیکھیے کہ دریاؤں کی سرزمین کی کلاسیک میں دریابردی کس قدرزیادہ ہے۔)
انّی رائے کی ساتھ والی ریاست کا ایک گلوکار اس بچے کو اپنا بیٹا بنا لیتا ہے اور بیجل نام رکھتا ہے ۔
تربیت پاکر،بیجل بڑاہوکر ایسا موسیقار بنا کہ اُس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔
اِدھر بیجل کی پیدائش کے وقت ہی اِس ریاست کے راجہ انی رائے کی بیوی نے آٹھویں بیٹی کو جنم دیا تھا ۔ اُسے صندوق میں رکھ کر دریا برد کیا گیا ۔ وہ بچی رائے ڈیاچ کی ریاست کے لاولد کمہار کے ہاتھ لگی۔ جس نے بیٹی بنا کراسے پالا۔ سورٹھ نام رکھا۔وہ بڑی ہوکر بلا کی حسین نکلی۔
اِس کے حسن کی شہرت اس کے اپنے باپ انی رائے نے بھی سنی اور اس بات سے بے خبر کہ وہ اس کی اپنی بیٹی تھی اُس سے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ مگر ادھر رائے ڈیاچ بھی اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کمہاردوسری ریاست کے راجہ کے بجائے اپنے ہی ریاست کے راجہ ڈیاچ سے بیٹی بیا ہنے پر راضی ہوگیا۔ جس پر راجہ انی رقابت میں آکر جو نا گڑھ پر حملہ کرتا ہے۔ ایک سال محاصرہ رکھنے کے بعد بھی وہ کامیاب نہ ہوا ۔ تب واپسی پر اس نے اعلان کیا کہ جو ڈیاچ کا سرکاٹ کر لائے گا اشرفیوں سے بھرا طشت انعام پائے گا۔
پتہ ہے کو ن تیا ر ہوا اس کام کے لیے ؟ جی ہاں،بیجل تیار ہوگیا ۔ڈیاچ کااپنا بھانجابیجل ۔یہ عمدہ مو سیقار بیجل جب ڈیاچ کے محل کے قریب آیا توموسیقی سے ڈیاچ کی بے پناہ رغبت سے باخبربیجل نے ایسی خوبصورت موسیقی بجائی کہ راجہ نے سونا ، جواہرات ، حتیٰ کہ اپنی مملکت اُسے پیش کردی ۔ مگر بیجل نے سخی راجہ کا ہر انعام ٹھکرا دیا ۔ راجہ تو موسیقی سے مسحور ہر چیز اُسے دینے پر آمادہ تھا۔ بیجل نے اُس سخی سے اُس کا سر مانگا ۔ موسیقی پہ عاشق سخی راجہ نے خوداپنی تلوار سے اپنا سر قلم کردیا۔
مگر، وہ سراُسے نہ انعام دلوا سکا نہ عزت۔ بلکہ راجہ انی رائے نے الٹااُسے اپنی ریاست سے بھی جلا وطن کردیا۔ریاست بدر بیجل تیزی سے واپس جونا گڑھ پہنچاتو دیکھا کہ اس کے قتل کردہ راجہ ڈیاچ سے منسوب سورٹھ ستّی ہورہی تھی۔اپنے کیے پر پشیمان بیجل اُسی آگ میں کو دا‘ اورسورٹھ کے ساتھ جل کراپنی زندگی ختم کی ۔

لِیلاں چنیسر

دیبل کے راجہ چنیسر کی خوبصورت رانی،لیلاں ہیرے جواہرات کی بڑی شائق تھی۔ راجہ اس سے بے پناہ پیار کرتا تھا۔ اُدھر لکھپت کے راجہ کنگھار اور رانی مرکھی کی واحد اولاد اُن کی حسین و جمیل مگربگڑی بیٹی کو ؔ نرو تھی جسے اپنے حسن پہ بہت ناز تھا۔ وہ اپنی ہم زاد ’’ اتھادی‘‘ کی منسوب تھی۔ اتھادی کی بہن اور کونرو کی سہیلی جمنیؔ نے اس کے طرزِ عمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اُس کے انداز سے لگتا ہے جیسے وہ اتھادؔ ی سے نہیں بلکہ راجہ چنیسر کی ملکہ بننے والی ہو۔ خود سر کو نرؔ و نے اس طعنے کا برامنایااور عہد کیا کہ یا تو وہ چنیسر کی ملکہ بن کر دکھائے گی یاپھر مر جائے گی۔
والدین پریشان ،اس لیے کہ شادی شدہ چنیسر اپنی رانی لیلاں سے بے حد محبت کرتا ہے ۔ مگر وہ اپنی بیٹی کو مرتا بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ۔چنا نچہ ماں بیٹی ( مرکھی اور کو نر و) دیبل پہنچ گئیں ۔ کوششیں ہوئیں،مگر چنیسرنے لیلاں کی موجود گی میں کسی دوسری عورت سے شادی کا تصور تک مستر دکر دیا۔تب وہ مفلسی کا لباس پہن کر، خود کو غریب جتلا کر،لیلاں کی ملاز مائیں بننے میں کامیاب ہو گئیں ۔اور ایک روز کو نر وؔ نے اپنی مامکن لیلاں کو بتا یا کہ وہ تو ایک وقت خود شہزاد ی تھی اور نولکھے ہار(نولا کھ روپے والی قیمتی ہار)کی مالکن تھی ۔
زیورات کی حریصہ لیلاں نے ہار دیکھنے کے لیے اصرار کیا اور جب نو لکھاہار اُسے دکھا یا گیا تو اس نے اُسے ہر قیمت پر خرید ناچاہا۔ مگر کو نروؔ نے اس کی قیمت پیسوں میں نہ رکھی۔اس نے تو اس کی قیمت چنیسر کے ساتھ محض ایک شب بسر کرنارکھی۔لیلاں راضی ہوئی۔اس نے بہت کو ششیں کیں مگر چنیسر ایسا کرنے پر کبھی تیارنہ ہوا۔ تب ایک رات جب وہ ایک دعوت میں بہت پی کرآیا تو لیلاں نے د ھوکے سے کو نروؔ کواس کے بستر میں سلادیا۔
صبح جب چنیسر نے لیلاں کے بجائے کو نروکواپنا ہم بستر یایا تو غصے سے پاگل ہوگیا ۔مگر جب اُسے بتایاگیا کہ لیلاں نے اسے نولکھا ہار کے عوض فروخت کردیاتو چنیسر کوبہت تذلیل و تو ہین محسوس ہوئی ۔ اس نے لیلاں کو چھوڑ دیاا ور کونروؔ سے شادی کرلی۔لیلاں کے تاسف اور معافیا ں مانگنے کے باوجود اُسے معافی نہ ملی کہ اس نے چنیسر کی محبت کو معمولی ہار کیلئے روند ڈالاتھا۔(آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ شاہ لطیف نے کہانی کے اس حصے کو کس کس طرح بیان کیاہوگا!)
خود اپنے حرص کے ہاتھوں دھتکاری ہوئی لیلاں اپنے والدین کے علاقے چلی گئی جہاں کی ایک لڑکی چنیسر کے وزیر سے منگنی شدہ تھی ۔ مگر لیلاں کاانجام اور اُس کی بد قسمتی دیکھ کر لڑکی والوں نے منگنی توڑدی۔لیلاں بیچ میں پڑی اور اور اس شرط پر ان لوگوں کو راضی کر لیاکہ اس شادی کی برات میں چنیسر خودبھی آئے گا۔
جب اپنے وزیر کی برات کے ساتھ چنیسر بھی آیا تو حسین وجمیل لیلاں نقاب پہن کر گانے والیوں کے ساتھ برات کے خیرمقدم میں موجود تھی۔ چنیسر کو وہ رقص بہت پسند آیا بالخصوص نقاب پوش کا ۔ اس کی اداؤں ،قد کا ٹھ اور خوبصورت رقص نے اُسے مکمل طورپر اپنی گرفت میں لے لیا اور جب برداشت سے باہر ہوا تو اس نے اس سے نقاب اٹھانے کی درخواست کی ۔ نقاب اٹھا تو وہ حسینہ تواُس کی اپنی دھتکا ری ہوئی محبوبہ بیوی،لیلاں تھی ۔ چنیسر فرش پہ گرا اوروہیں جان دیدی ۔ لیلاں نے یہ دیکھا تو اس کی روح بھی پر وازکرگئی ۔

نوری جام تماچی

کینجھر جھیل کے پاس مہانڑاؤں( محنت کش ماہی گیروں ) کی بدبوبھری گند ی میلی بستی تھی۔فیوڈل دور میں دوسرے محنت کشوں کی طرح مچھیر ے کمّی کمینے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں،دوسرے درجے کے شہری ۔ مگر اسی گدڑی میں ا یک لعل تھی نوریؔ ۔حسن وجمال میں بے مثال ، رکھ رکھاؤ میں شہزادی۔
حکمران جام تماچی کو جب مچھلی کے شکارکی سوجھی تو وہاں اس کی نظر نزاکت و شائستگی کی مجسم، نوری پرپڑی ۔ وہ کام سے گیا کہ حسین ومنکسر نوری نے حکمران کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ اس کے والدین سے اس کا ہاتھ مانگا۔ مچھیروں کی تو گویا قسمت جاگی، انکار کی گنجائش تھی نہ جرات ۔ جام تماچی نے بستی کو انعام واکرام سے گویا لاد ڈالا۔
بہت سی بیویوں والے جام تماچی نے ایک روز اپنی ساری رانیوں سے بہترین لبا س پہننے کو کہا۔ جو سب سے زیادہ پر کشش لباس میں ہوگی وہی اس کے ساتھ تفریحی دورے پر جائے گی۔ سوکنوں والی مسابقت لفظوں کی محتاج تھوڑی ہوتی ہے ۔ چنانچہ پوری انسانی قابلیت سے ہر ایک نے خود کو بنایا سنگھارا۔ مگر نوری اپنے ماقبل شادی والے عام لباس میں تھی ۔ سوکنوں کے قہقہوں کا مرکز۔
مگر اس انکساری کو جام تماچی نے سب پر تر جیح دی کہ ملکہ بننے کے باوجود وہ اپنی اوقات میں رہی۔ ٹھہرا ؤ بھری نوری۔ وہی ملکہ عالیہ بنی ، وہی جام تماچی کے سفر کی رفیقہ رہی اور اپنی بر دباری سے محبت پاگئی۔
شاہ لطیف نے نوری کے حسن سلوک اور حب الوطنی پر اپنی شاعری کے صفحوں کے صفحے وقت کردیے۔

مومل رانڑو

راجہ نند کی نو بیٹیاں تھیں۔ موملؔ سب سے خوبصورت تھی ۔ مگر فہم وفراست میں سب سے چھوٹی سوملؔ دوسروں سے آگے تھی ۔ شکاری بادشاہ نے ایک جنگلی سور کاشکار کرلیا جس کے دانت میںیہ جادوئی قوت تھی کہ اس سے پورے دریاکا پانی خشک ہو جاتا تھا۔ بادشاہ نے اس دانت سے کام لیا۔ دریاسوکھ گیاا ور بادشاہ نے خفیہ طور پر اپنا پورا خزانہ اس میں دفن کردیا۔
ایک جادوگر کو اس راز کا پتہ چلاتو وہ جوگی کاروپ دھارے ایک ایسے دن محل کے پاس جاکر آہ وزاری کرنے لگا جب بادشاہ باہر گیا ہواتھا۔ گریہ نے رحم دل موملؔ کو پگھلادیا، جوگی کو محل میں بلایااوررونے دھونے کی غرض پوچھی۔ جوگی نے اپنے لاعلاج مرض کا علا ج سور کادانت بتایا۔ سوردانت کی جادوئی طاقت سے بے خبرمومل نے باپ کے پاس رکھا سور کادانت جوگی کو تھمادیا۔
ایک روزبادشاہ نے دانت تلاش کیا تو نہ ملنے پر مومل نے ساری رودادسنائی ۔غصے سے بپھرا بادشاہ اُسے قتل کرنے ہی والاتھا کہ سوملؔ کی ذہانت نے اسے روک دیا کہ وہ اتنی ہی دولت اُسے پیدا کرکے دے گی۔ وہ ایک ماہر جادوگرنی بھی تھی۔ چنانچہ باقی بہنوں کوساتھ لے کردور ‘دریائے کا ک کے کنارے ایک جادوئی محل کھڑا کردیا۔ جس کی سب چیز یں جادوئی تھیں۔ کاک محل کے دروازے پر خوفناک جادوئی شیر تھے جو مسافر کے داخل ہونے پر دھاڑتے تھے ۔ محل کے گردپانی بھر ی خند ق تھی جوبہت گہری لگتی تھی ۔ محل کے اندر بھی حسین مومل کے کمرے کاراستہ انتہائی پر پیچ تھا۔
سومل نے اعلان کیا کہ خوبصورت مومل سے شادی کا خواہش مند کاک محل میں داخل ہوکر اُس کے کمرے تک جائے اور اُسے اپنا جیون ساتھی بنالے ۔سینکڑوں نوجوان قسمت آزمائی میں ناکام ونا مرادلوٹے، اس لیے کہ ’’ناتر‘‘ نامی چالاک خادمہ پُر پیچ راستے میں اچانک مسافر کوچھو ڑکر غائب ہوجاتی ۔ مومل کے ڈاکو مسافر کو لوٹ لیتے اور مسافر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا۔ یوں لڑکیوں نے بے تحاشادولت جمع کی ۔
ایک دن تھر کاراجہ حمیر سومرو اپنے تین وزیروں سمیت سیر وشکار پر تھا کہ ایک درخت کے نیچے ایک جوگی کو بیٹھا پایا۔ جوگی نے انہیں بتایا کہ ایک وقت وہ بھی بادشاہ تھا مگر مومل کے حسن وجمال نے اس کی یہ حالت بنارکھی ہے ۔ چنانچہ راجہ کو بھی مومل کے حصول کا اشتیاق ہوا۔ شاہ حمیرا وراس کے دوساتھی تو ناکام رہے مگر عقلمند’’رانڑو میندھرو‘‘ اس سارے جادوئی کھیل کو بھا نپ گیا۔ وہ مومل کے کمرے میں کامیابی سے داخل ہوا جہاں ایک جیسے سات پلنگ بچھے تھے ۔ا سے معلوم ہوا کہ چھ تو ایسے ہیں جن پر بیٹھ جاؤ تو سید ھا نیچے تلوار وں بھری خند ق میں قتل ہوجانا مقدرہے ۔ وہ ساتویں پر بیٹھ گیا۔ مومل نے اس کی عقلمند ی پر اُسے پسند کیا اورشادی پر تیار ہوگئی۔
رانڑومیندھرو کے دوست اورراجہ حمیر سومرونے اُس سے مومل کا دیدار کر وانے کی خواہش کا اظہار کیاتو رانڑ ونے راجہ کو گوالا کا روپ دھارنے کا مشورہ دیا تاکہ مومل اُسے پہچان نہ پائے۔
مگر مومل نے گوالے کی اصلیت جان لی اوراس سے کہا کہ اس کے لیے گائے کا دود ھ دوہے ۔ بادشاہ اپنی اس بے عزتی کارانڑ وسے بدلہ لینے کا عزم لیے اپنے بقیہ وزیر وں کے ساتھ واپس ہوا۔
اس نے اپنے وزیر کے لیے اداس ہونے کا کہلوا کر رانڑو کوبلوالیااور پھر جیل میں ڈال دیا۔رہائی اس شرط پر کہ وہ مومل سے نہیں ملے گا۔ مگر وہ راتوں کو اونٹ پر سوار ہوجا تااور مومل کا وصال پاتا۔ رازمعلوم ہوا، پابندی لگ گئی ۔ اُدھر رانڑو کی طویل غیر حاضری سے ملول مومل کو خوش رکھنے کا طریقہ سومل نے یہ نکالا کہ خودرانڑو کابھیس بنا کر اس کے ساتھ سونے لگی۔ ایک رات جب رانڑوآیا، مومل کے ساتھ ایک مرد کو سوتے دیکھا تو دونوں کو قتل کرنے کے بجائے اپنی چھڑی وہاں رکھ کرواپس چلاگیا۔
جب مومل کو اپنی غلطی کا اندازہ ہواتو اس نے بہت پیغام بھیجے مگر رانڑ ومڑکرنہ آیا۔ محبور ہوکر مومل نے تاجر کا بھیس بدلااور رانڑوکے مکان کے مقابل ایک مکان لے کر بالآخررانڑو سے دوستی بنالی۔
دونوں دوست شطر نج کے دلدادہ کھلاڑی تھے ۔ وہ دیر تک شطر نج کھیلتے تھے۔ ایک روزرانڑونے مومل کے ہاتھ کاتل دیکھ کراسے پہچان لیااور اسے دھتکا رلیا۔
مومل ہر کوشش میں ناکام بالآخرچتاتیار کرواکر اس میں کو دگئی۔ رانڑونے ماجر ادیکھا تو وہ بھی آگ میں۔ دونوں عشاق دائمی وصال سے ہمکنار۔

شارک کے شکاری
(سُر گھاتو)

ابھایونامی ماہی گیر کے سات بیٹے تھے ۔ ساتواں بیٹا مورؔ ڑوکمزوروناتواں تھا۔اس لیے اُس کے چھ بھائی ماہی گیری کرنے جاتے اوروہ گھر میں رہتا۔
ایک روزجب بھائی گھر نہیں پہنچے تو مورڑؔ واُن کی تلاش میں چل پڑا۔ اسے معلوم ہواکہ وہ بھنورمیں پھنس کر ڈوب گئے اورا نہیں شارک مچھلی نے نگل لیا۔
معذورمگر ذہین مورڑ وؔ نے لوہاروں سے اتنابڑا پنجرہ بنانے کی فرمائش کی جس میں وہ بخوبی سماجاتا۔ اور پنجر ے کے بیرونی کناروں پر تلوار کی دھا روالے پھل اور تیز کنڈیاں نصب کرنے کی ہدایت کی ۔ وہ اس پنجر ے میں بیٹھ گیا اور ملاحوں نے مضبوط رسی کی مدد سے اسے شارک والے علاقے میں پانی میں ڈال دیا۔ شارک نے اسے ہڑپنے کو منہ کھولااور مورڑوکونگل لیا۔مگر اس کے تو جبڑے چھل گئے ۔ مورڑونے ساتھی ملاحوں کو رسی ہلاہلا کرڈور کھینچے کا اشارہ کیا۔ چنانچہ پنجر ہ مع شارک ساحل پر …… سب نے ہتھیاروں سے دیو ہیکل مچھلی کو ماردیااور مورڑ وکو پنجر ے میں سے صحیح سلامت نکال لیا۔
مورڑونے مچھلی کاپیٹ چیرا۔ چھ بھائیوں کی ہڈیاں بر آمدکیں انہیں پہاڑ کے قریب دفن کیااور وہیں قیام پذیر ہوا۔

سسی پنوں

آپ بس دل میں یہ طے کرلیں کہ سسی پنوں کی داستان شاہ کی اپنی داستانِ عشق ہے۔وہ بہت پیار ،توجہ یکسوئی خلوص اور ساون کے بارشوں کی طرح بسیرا کر کے بڑی تفصیل سے اِس داستان میں سے اپنے کام کی چیزوں کو الگ کرکے برتتا ہے۔ شاہ خود داستان پہ زیادہ بات نہیں کرتا ۔ اس نے اس داستان کے کرداروں پہ گزشت کی سرگزشت بیان کی ۔
بے اولاد برہمنوں نے اپنی نوزائیدہ بیٹی کواس خوف سے صندوق میں ڈال کر دریا برد کردیا کہ نجومیوں نے کہا تھاکہ وہ بڑی ہوکرکسی مسلمان سے شادی کرے گی ۔دریا کے بہاؤ میں بہتی پیٹی دور بھنبھور کے بے اولاد اور امیر مسلمان کے دھوبی گھاٹ پر لنگر انداز ہوئی۔بھنبھور کا قصبہ کوٹری اور کراچی کے درمیان موجود ہ جنگشاہی سٹیشن کے قریب واقع تھا۔ ماہ رُخ بچی کوسسی یعنی چاند کا نام دیا گیا۔ بے اولاد میاں بیوی نے اس پرنازو نعم کی بارشیں برسادیں۔ بچی اُن میں ایسے پلی کہ حسن و جمال کی تمثیل بن کر جوان ہوئی۔ایسے جیسے تاریک رات میں کہکشاں۔ بدرِ کامل۔ ابرو جیسے مہینے کا نیا نیا نکلا چاند، فسوں ساز حسن، آہو چشم، سرمگیں نگاہ، عارض روشن تر ازماہ، تابانِ سحر گاہ کی طرح پُر نور۔(2)۔
بھنبھورکا حسن‘ رابعہ خضداری کی شاعری کی طرح مشہور ہوا۔ اس زمانے کے تجارتی کاروانوں کے شتر بان ’’رودؔ کیوں ‘‘نے سسی کودیکھا، آنکھیں چندھیاگئیں، اورزبانیں گویا ہوئیں۔اور خلقِ خدا کی گویائی توبرا عظمیں پھلانگتی ہے۔اُسے دریاکیا روکیں گے اور صحرا کیا تھکائیں گے۔چنانچہ پہاڑوں کے بیچ بل کھاتی ہوئی یہ آوازیں بلوچستان واردہوگئیں۔
کیچ کے حاکم زادے پنہوں کے کانوں کے بھاگ میں عشق کا رسیونگ سٹیشن ہونا لکھا گیاتھا۔آیئے بلوچوں کو کسی نہ کسی صورت کھینچ تان کے عرب بنانے والے ’’عرب سازوں‘‘ کی بات کاحوالہ دیتے ہیں ‘‘پنہوں خلیفہ بغداد، ولید کی طرف سے کیچ میں مقرر کردہ حاکم ہارون کی آل اولاد تھا۔ پنہوں کا والد آری جام تھا جسے اُس کے دادا ہوتؔ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے‘‘۔(3) ۔
بہر حال حاکم زادہ نے سوداگر کا روپ دھار لیا،ایک عطر فروش قافلہ تشکیل دیا اور دل کے ریڈسکوائر بھنبھور کوعشق کا دارالحکومت بنانے چل پڑا ۔(سندھ بلوچستان کے بیچ عطر فروشی، تاریخ دانوں کے لئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگی)۔بہرحال طُور، تجلی کھانے، خود بھنبھور چلاآیا ۔ اس جادو نگری نے سردار زادہ کوآنکھ کی سرخ ڈوریوں سے باندھ لیا۔دھوبن نے سردار زادے کے ’’ پیشے ‘‘ کو ایک دھوبی کے پیشے میں ڈھال دیا۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ انگلینڈ کا ایک بادشاہ اپنی محبوبہ سے شادی کی خاطرتخت کو لات مار کر ایک عام آدمی بن جاتا ہے۔ہمارا سردار پنہوں تو عام آدمی بھی نہیں رہ جاتا۔ وہ تو دھوبی بن جاتا ہے ، مقدس بن جاتا ہے ۔
مگراس کھیل میں صرف طُور بھسم نہیں ہوتا، خود تجلی بھی جل کر خاکستر ہوگئی۔خاکستر خاکستر سے ملی، سارے تضاد تحلیل ہوگئے ۔سسی پنہوں میں ڈھل جاتی ہے، پنہوں سسی بن جاتا ہے، ہر طرح کی دوئی ختم۔عشق تو اپنے ساتھ مساوات بھی لاتا ہے۔
پہلے دھوبی دھوبن کا بن چکا تھا اب دھوبن دھوبی کی بن گئی۔ شادی ہوگئی۔اسباب و علل کو ضدین کا اجتماع جومقصود تھا۔
مگر، بڑے فنکار کی صناعی دیکھناتو ابھی باقی ہے کہ اس نے وصل وفصل کے درمیان ایک باریک لکیر تو قائم رکھنی تھی، حصولِ محبت اور تلاشِ محبت کے مکاتیب کو الگ الگ تو رکھنا تھا، منزل اور جدوجہد میں بالشت بھر کا فاصلہ تو رکھنا تھا۔ چنانچہ عطر کا قافلہ پنہوں کی شکل میں مکران کی ساری خوشبو بھنبھور کے قدموں میں انڈیل کربِن سردارزادے کے کیچ واپس پہنچا۔ سردار زادے کے دھوبی میں ڈھلنے کا معجزہ سنایا تو ردِ انقلاب سردار کو بچانے،اورسرداریت کو بازیاب کرنے غراتی و بڑبڑاتی تیز رفتار مہاریوں پہ بیٹھ کر بھنبھور پہنچا۔انہوں نے سسی پنہوں کو بظاہر شادی کے جشن میں مشغول رکھا اور رات کے آخری پہر تک ناؤنوش چلایا۔ اِدھرپنہوں کا انتظار کرتے کرتے سسی کی آنکھ لگ گئی ، اُدھر دھوکے بازوں نے نشے میں دُھت پنہوں کو مہاری پہ باندھ لیا اورکیچ کی جانب یہ جاوہ جا۔
سسی کی آنکھ کھلی تو پنہوں نا موجود۔ نہ کیچی نہ کارواں ۔ اچانک پجاری کا مندر ڈھے جاتا ہے ،کمیونسٹ کا سوویت یونین ٹوٹ جاتا ہے، پتھروں کو ناطق بنا نے والی سمو گُنگ ہوجاتی ہے کہ بُرفت اور بروہی اس کے دوپٹے، یعنی پنہوں کو اغواء کرکے اُس کاپاک سر ننگا کرچکے تھے،اُس کی دنیا اندھیر کرچکے تھے۔ بس ایک، خوابِ گراں کے خلش کی حکمرانی رہ جاتی ہے، فراق کی ازلی ابدی سلگ قائم ہوجاتی ہے۔
مگرپنہوں تو سسی کے رگ رگ میں نغمہ زن ہے۔ وہ بھلا ’’اور ‘‘ کیا دیکھے گی ،و ہ بھلا ’’ اور کو‘‘ کیا دیکھے گی ۔دید بیکار کہ اُس میں منظر یعنی پنہوں کے جلوے نہیں ہیں۔ حسن و جمال کی ملکہ کو چاہنے والے تو بے شمارمگر اُسے پنہوں سا کوئی کہاں ملے گا۔ پنہوں تو اُس کے لیے چراغِ زیر داماں ہے۔سسی کی افسردہ حال تنہائی پیٹر اور پال قلعے کی قید بامشقت سے زیادہ اذیت ناک بن جاتی ہے۔البیلا پنہوں،سسی کی سعیِ پیہم کی منتہا ہے ۔وہ اس کے سوگ ا ور روگ میں دن رین روتی ہے۔بھنبھور کی رنگینی تو بلوچ کے دم سے تھی، بے رنگ دنیا شاہ لطیف کی سسی کو ہر گز قبول نہ تھی۔ بھنبھور کی صبا میں جب بوئے پنہوں نہ ہو تو پھر اُس کی شام کیا صبح کیا۔ آدیسی ؔ تو اٹھ گیا تھا ،بھنبھور کا خالی پن تو موت بن چکا تھا۔بھنبھور اندھیر ہے، جہنم کی آگ ہے۔ پنہوں نہیں تو گھر گھر نہیں میت گاہ ہے، بھنبھور بھنبھور نہیں ماتمستان ہے۔۔۔۔ اور شاہ کی سسی ماتمستان کی شہری ہر گز نہ تھی ۔
اُس کا بنیادی انسانی حق چھن گیا تھا،اُس کے جذبے کوبے وقار کردیا گیا تھا، اُس کے عشق کی توہین ہوچکی تھی۔چنانچہ کیچ اوربھنبھور مقناطیس کے قطبین بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے چشمِ ترکی قسم کھاتی ہے کہ پنہوں کو نہیں بھولے گی۔ آئینِ مہرو وفا یہ ہے کہ ترکِ محبت نہیں کیا کرتے (شاہ)۔اور پھر یہی کمٹ منٹ کیچ کی آشا سے معمور،سسی کوسراسر باغی بناتی ہے ۔اب طالب اوطاق میں بیٹھ کر کیوں روئے۔وہ گھر بیٹھ کر مقدر کی کٹھ پتلی نہیں بنتی بلکہ جذبہِ الفت کا نام لے کر محبوب کی تلاش میں نکل پڑتی ہے ۔ اُ سی کی تلاش میں ہر افتاد سہنا ہے ۔ پنہوں کی خاطر اسے ساری عمر بیاباں دربیاباں سرکرنا ہے۔وہ پنہوں آشنا سے خود آشنا بن جاتی ہے اور تب یہ پنہوںآشنا ، یہ خود آشنا منزل آشنا بن جاتی ہے ، وندر آشنا بن جاتی ہے ۔فریدالدین عطار کی birds’ Conferenceکے انعقاد کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔
محبت اور وارفتگی میدان زادی کو کوہ پیمائی کے انجانے فریضے پر لا پٹختی ہے۔ اور پھر، بلوچوں کی یہ داسی، ان کے چرنوں کی دھول ، دکھی ، بے ہمدرد ، بے کس، بے سہارا انقلابن‘ بھنبھور سے کیچ چل پڑتی ہے۔محبت ،سسی سے بھنبھور کا دودھ چھڑوالیتی ہے اوریہ جو گن عزمِ بے کراں بن کر جوشِ جنون سے مسلح ہوکر، پسِ کوہِ گراں کی جانب رواں ہوجاتی ہے۔
ساری دنیا چھوڑ،جسم و جاں کی پابندی کو جھٹک ، سسی اونٹوں کے قدموں کے نشان ٹٹولتی چلی گئی۔ کیا صحرا کیا کوہ ، شاہد و مشہود کے وصل کی تانگ ہر انسانی جذبے سے قوی تر ہے۔ جان چلی جائے بس خوں بہا میں نگاہِ دوست میسر ہو۔
ذرا ساکہانی کے بہاؤسے باہرنکلتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ داستانِ سسی پنہوں ایک اور لحاظ سے بھی مختلف داستان ہے۔ ہم صدیوں سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ حسن کا دیس تو کوہستان ہے، کوہِ قاف ہے۔ مگر یہاں حسن کی رانی میدان زادی ہے،قاف کی باسی نہیں۔ دوسری بات بھی نوٹ کر لیجئے ، پراسیس کی بات ۔کہ یہاں پنہوں کی صورت میں عشق پری کی تلاش میں کوہِ قاف نہیں بلکہ اس کے برعکس اس کی تلاش میں پہاڑ سے میدان اترتا ہے ۔ کچھ ہی عرصہ بعد کیچ سے آیا ہوا rescue فوجی دستہ اِس عشق یعنی پنہوں کو حسن میں بدل دیتا ہے ۔ اور اب سابقہ حسن یعنی سسی عشق بن جاتی ہے۔ اور یہ عشق بنا ہوا حسن ،حسن بنے عشق سے وصال کی تڑپ میں پہاڑ پہ چڑھتی ہے۔ بلوچستان تُو کیا چیز ہے یار!!۔
سسی پنہوں کی داستان ایک اور طرح سے بھی اب تک کی ساری روایات کی نفی کرتی ہے۔ یہاں ایک مرد عورت کے پیچھے نہیں جارہا بلکہ ایک عورت مرد کے پیچھے جاتی ہے۔بلاشبہ سسی پنہوں کی داستان فلسفہ سے بھری داستان ہے۔
مگرکمٹ منٹ کی معراج تو genderlessہوتی ہے ۔ پھر ہم سسی پنہوں کے مقدس ومعتبرمیدان کے اندر مذکر مونث کی لکیر کیوں پیٹ رہے ہیں؟دل کرتا ہے اگلے سارے صفحے مذکر مونٹ کے پخ سے پاک بلوچی زبان میں لکھوں!۔
سسی ،بھنبھور چھوڑ جاتی ہے ۔ کیچ کی جانب خون آشام سفر جاری ہے۔سفر بھی جہاز وموٹر گھوڑے پہ نہیں سسی نے یہ سفر اپنے پیروں کے چھالوں پر کیا ، اپنے زخموں پر، بہتے خون پہ۔
وہ مکمل طورپر اسباب و علل کے حوالے۔ اور اسباب و علل تو اکلوتے بیٹوں جیسے نخرے کرتا ہے۔ اور انتہائی ناترسی کے ساتھ سسی کے سامنے راستے میں( لسبیلہ کے علاقے منہیار پہاڑ کے چار میل مشرق میں)ایک خیمہ ،کھڑا کرتا ہے ۔سسی خیمہ والے سے کیچی قافلے کا پوچھتی ہے۔خیمہ والے نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا ،تواُ س کا شیطان جاگ گیا ۔اس کی شہوت دھک اٹھی۔ اس نے پاکیزگی پہ دست درازی کی کوشش کی ۔ عشق پجارن شدتِ آلام والے سلسلے کے اِس بڑے وار کو اکیلی سہہ نہ سکتی تھی۔ اب کے اُس نے عشق دیوتا سے مدد مانگی۔ بلوچستان شق ہوگیا اورپورا ملک اِس مقدسہ کے پاک سر کا دوپٹہ بنا۔ سرخ دوپٹے کا پلوالبتہ سرخ پرچم بننے باہر رہا۔ہم نے عظمت دیکھی کہ شاہ نے سسی کے اس انجام کو قابلِ رشک قرار دیا۔
اس داستان کا ایک اور خوبصورت موڑ دیکھیے:اسی لمحے سے، بلوچستان سسی کی قبر نہ رہا، محبت کاویٹیکن بن گیا ۔
پوری دھرتی تھرا گئی توخیمے والے شیطان کی کیا حیثیت ؟۔ وہ عشق کے اِس معجزے سے کانپ اٹھا۔وہ اس ناقابلِ بیاں جرم کا کفارہ ہی ادا کرسکتا تھا۔ چنانچہ وہ اس قبر کے خدام کا سربراہ بنا۔ولّن عشق کے خزانے کے اولین مجاورمیں ڈھل گیا۔
اُدھر مغوی پرومی تھیس نے جب ہوش و حواس پائے تو خود کو اونٹ کے کوہان چٹان پہ بندھا پایا۔ بے بسی کے کرگس اس کی عاشق روح کا گوشت نوچتے تھے۔ دُہائیاں چیخیں صدا بہ صحرا ہوئیں۔ ہر کارے اُسے کیچ پہنچاگئے۔
مگر وہ توکام سے جا چکا تھا۔ روح تو بھنبھور کی باندی تھی اُسے کیچ میں کون بند کرسکتا تھا۔ بلوچستان کی جان تو سندھ میں تھی۔ بالآخرجبر کوجذبے کے آگے جھکنا پڑا۔ کوہِ شاشان کوشاہی زنجیریں کیا جکڑسکتی ہیں۔ رسے رسیاں توڑ’’جبل‘‘ ، ’’پٹ‘‘ کی طرف سرپٹ بھاگا ۔ آواز سے تیز ، بس بلوچی لفظ ’’شیمو ش‘‘ کی تجسیم۔ راستے میں کیچ سے بہت دور لسبیلہ میں بیت اللحم بناایک مقبرہ اس کی توجہ کا طالب ہوا ۔ معلوم ہوا انقلاب اپنی جون بدل کر زیرِ زمین چلا گیا تھا ۔ اُس نے زمین کو شگاف پڑنے کا کہا۔ اور بلوچستان کو توعشق کا ملتجی حکم ہی شق کر سکتا ہے ۔ دھرتی دوسری بار کریک ہوگئی۔ پنہوں بغیر کسی پس و پیش کے وہیں انڈرگراؤنڈ ہوگیا۔
عمرماروی
حسین وجمیل ماروی بھیڑپال معیشت سے متعلق ہے۔ عمربادشاہ اُس کاحسن دیکھ کراسے زبردستی اٹھواکراپنے محل میں لاتاہے۔ مگر ماروی تو نہ اس سے محبت کرتی ہے۔ نہ شادی پر تیارہوتی ہے۔ سونا، چاندی، جواہرات، نوکر ، چاکر اور قیمتی ملبوسات سب قابلِ نفر ت کہ دل تو اپنے وطن ، اپنے لوگوں میں ہوتاہے۔ وہ گریہ بن جاتی ہے۔ بادشاہ کا خواہشوں کاسارا محل دھڑام کہ وہ نہ نہاتی دھوتی ہے، نہ بناؤ سنگھار کرتی ہے ، نہ ہنستی بولتی ہے۔ مجبوراً بادشاہ اُسے واپس اپنے وطن ملیربھجوادیتاہے۔
مگر یہاں ملیرمیں تو ماروی کے اغواسے پیدا شدہ شکوک کاپوداتمبیل پہاڑجتنا بلندومہیب ہوچکاہوتاہے۔را م کو سیتا تک پہ شک ہوا تھا یہ تو عام ماروی تھی۔سب مشکوک کہ بھلا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ماروی باعصمت واپس آئی ہوگی؟۔باغیرت ماروی کو سیتا ہی کی طرح فیوڈل معیارپر پورا اترنے کے لیے مروج بھیانک ترین قسم اٹھانی پڑی۔وہ سلامت سلامت آگ میں سے چل کرنکلی۔ چیف جسٹس اگنی دیوی خود کوجلنے سے نہ بچاسکی مگر اگلی کو بے گناہ ثابت کردیا۔
یوں ماروی اپنی کمیونٹی میں قبول کی گئی، اورایک نارمل ازدواجی زندگی گزارنے کے شرائط پورے کرگئی۔
آئیے شاہ کی شاعری کے اس باب سے ایک ٹکڑا دیکھتے ہیں جس کا خوبصورت ترجمہ ابن اِنشا نے کیا تھا۔
نے پیامی ہے نہ پیغامِ عزیزاں کوئی
گرد صحرا سے نہ اُبھرے گا شُتر باں کوئی
میرے اللہ ! مری حسرت دیدار کو دیکھ
بھیج اس دیس میں اُس دیس کا مہماں کوئی
خوش ہوں مسرور ہوں یہ راہیں یہ قلعے یہ حصار
آئے پھر قطع مسافت کئے جولاں کوئی
دھوؤں اِن آنکھوں سے اُس کے قدمِ گرد آلود
جا ن سکتا ہے مرے شوق کا پایاں کوئی
دُور افتاد ہوں محبوس ہوں غم دیدہ ہوں
لوگ اس درد کی تسکین کا ساماں کوئی

حوالہ جات
۔1 ۔ مری ،محمد خان۔ہفت روزہ نوکیں دور،کوئٹہ۔ 13 مئی 1968 صفحہ8 ۔
۔2۔ مثنوی نامہ عشق ۔1959 ۔مرتب ڈاکٹر وحید قریشی، پنجابی ادبی اکیڈمی لاہور
۔3۔فہمیدہ حسین شاہ لطیف کی شا عری میں۔۔۔۔ ۔ صفحہ485
۔-4 نوکیں دور ، کوئٹہ۔13مئی1968 ۔ صفحہ12

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*