راشن

باجی جی! مجھے بھی راشن دیں۔
بٹ صاحب نے یہ راشن فقیروں میں صدقہ خیرات کرنے کے لیے تھیلے بنا کر رکھا ہے۔
”باجی جی ! میں آپ کے گھر کا سارا کام کرتی ہوں۔ کھانا بناتی ہوں۔ کپڑے دھوتی ہوں۔ برتن دھوتی ہوں۔ روزانہ صفائی کرتی ہوں۔ چھٹی بھی نہیں کرتی“۔
”اسی لیے تو ماہانہ پندرہ ہزار باقاعدگی سے دیتی ہوں “
مالکن نے فخریہ کہا
”مگر محنت کرنے والے کا حق زیادہ ہوتا ہے۔ فقیروں کو بنا کام کے سب کچھ مل جاتا ہے۔ یہ روزوں کا مہینہ ہے۔ میرا بھی تو حق بنتا ہے۔ میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کے لیے میں دن بھر سات گھروں میں کام کرتی ہوں“۔
”اچھا اچھا میں شیخ صاب سے پوچھ کے تمہیں بتاوں گی۔ کل مجھے یاد کروا دینا“
محنت کش خاتون کے سانولے چہرے پر قدرے اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
دوسرے دن صبح صبح ہی وہ مالکن کو یاددہانی کے لئے پہنچ گئی۔
”باجی جی !
راشن کے لئے صاب سے کیا بات ہوئی؟“
مالکن کو اس کی بے صبری اچھی نہ لگی۔ ( بھوکی کہیں کی )
مالکن کے چہرے پر لکھا تھا۔
شیخ صاحب نے مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھا تھا کہ کیا کرسچن کو رمضان کا راشن دے سکتے ہیں ؟
پھر مولبی صاب نے کیا کہا ؟
مولوی صاحب کہتے ہیں
( بھوک ننگ بھی ڈھیٹ بنا دیتی ہے )
رمضان کا راشن عیسائیوں کو نہیں دے سکتے
سانولا چہرہ سیاہ پڑ گیا ۔مایوسی کی پیلاہٹ نے اس کی آنکھوں میں امر بیل بچھا دی۔ پھر جیسے اس کی اس بھڑک اٹھی
باجی جی ! رمضان کا راشن نہ دیں۔ ہمارے بھی روزے چل رہے ہیں۔ 31 مارچ کو ہمارا ایسٹر ہے۔ اپ مجھے ایسٹر ہی کا راشن دے دیں۔
مالکن اس دلیل پر سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔۔ نہ کرنے کی صورت میں کام والی ہاتھ سے نکل سکتی تھی .
سارا کام کاج سنبھال رکھا تھا . . . . اگر چھوڑ گئی تو سکون غارت ہو جائے گا
مالکن نے اسے راشن کا ایک بڑا تھیلا اسکے پھیلے ہوئے ہاتھوں میں تھما دیا
کسی کو بتانا نہیں . . سب میرے پیچھے پڑ جائیں گے کہ عسین کو رمضان کا راشن دے دیا“۔
”نہ جی مجھے کیا چٹی پڑی ہے کسی کو بتانے کی۔ خدا آپ کو جھولیاں بھر بھر کے رزق دے“۔
وہ خوشی سے نہال ہو گئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*