سنگت شونگال۔۔ مئی 2024

یکم مئی ، مزدوروں کا تہوار

یکم مئی ، مزدوروں کا ”تہوار“ ہوتا ہے۔ اُس دن ایک دو مزدور نہیں بلکہ سارے مزدور کام پر نہیں جاتے۔ وہ ملیں ، فیکٹریاں ، اور ورکشاپ بند کردیتے ہیں۔ اور سڑکوں پہ نکل کر جشن مناتے ہیں۔ اب تو سوائے سعودی عرب اور قطر کے باقی ساری دنیا کے ممالک اِس دن کو پبلک چُھٹی کے بطور مناتے ہیں۔ حکومتی دفاتر بند ہوتے ہیں۔ سکول ، کالج اور یونیورسٹیوں میں چھٹی ہوتی ہے اور تقریباً سارا کاروبار بند ہوتا ہے۔

دراصل مزدور جدوجہد کا یہ طریقہ 19ویں صدی میں اختیار کیا گیا ۔ یہ دلچسپ تصور پہلی بار 1856میں آسٹریلیا کے مزدوروں نے دیا تھا۔
اُس زمانے میں سرمایہ دار، مزدوروں سے سارا سارا دن کام لیتے تھے ۔ کوئی فکس ٹائمنگ نہیں ہوا کرتی تھی۔ سولہ سولہ، اٹھارہ اٹھارہ، حتیٰ کہ بیس بیس گھنٹے تک اُن سے مشقت لی جاتی تھی۔ مزدور چاہتے تھے کہ دن کا مطلب ”آٹھ گھنٹہ“ ہو۔
اس تحریک میں دلچسپ موڑ اُس وقت پیدا ہوا جب آسٹریلیا کے مزدوروں نے سوچا کہ اس مطالبے کے حق میں ایک دن کے لیے سارے مزدور مل کر کام پہ نہ جائیں۔ اور سیدھا سڑکوں گلیوں کا رُخ کریں۔ وہاں وہ” آٹھ گھنٹے کام کا دن“ کے مطالبے پہ جلسے جلوس کریں، ڈھول بتاشے بجائیں، رقص کریں۔ ۔۔۔ اور اپنے اس مطالبہ کے حق میں نعرے ، گانے اور ترانے گائیں اور تقاریر کریں۔

اس کے لیے انہوں نے 21اپریل کا دن مقرر کیا ۔ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ آئیڈیا بہت مقبول ہوجائے گا، اس لیے انہوں نے ہر سال یہ دن منانے کا فیصلہ ہی نہیں کیا۔ بس 1856والے سال کا 21اپریل طے ہوگیا۔

مگراس اولین جشن نے آسٹریلیا کے مزدوروں پر اس قدر زبردست اثر ڈالا ، اُن میں ایسی جان ڈال دی، اور انہیں ایجی ٹیشن کا یہ حسین اور نیا طرز اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے اسے ہر سال منانے کا فیصلہ کرلیا۔

اس تصور میں کمال بات یہ تھی کہ بجائے اس کے کہ مالک اُنہیں کام پہ جانے سے روکیں ، وہ خود کام پر نہ جانے کا فیصلہ کر بیٹھے ۔ اپنی مرضی سے ایک دن کام بند کرنے کے اجتماعی فیصلہ سے ان کی جرات میں اضافہ ہوا۔ انہیں اپنی ایکتا پہ بہت اعتماد ہوا، اور دل سے بے بسی اور کمزوری والا خیال نکل گیا۔ فیکٹریوں اور ورکشاپوں کے دائمی غلاموں کو زیادہ جرات اور کیا چیز دے سکتی تھی جو ان کی اپنی سپاہ کو مجتمع کرنے سے مل سکتی تھی!۔
چنانچہ پرولتاریہ کے جشن کا تصور یکدم تسلیم ہوا اور یہ آسٹریلیا کے بعد دوسرے ملکوں میں پھیلنے لگا ، اور پھر بالآخر اس نے پوری پرولتاری دنیا کو فتح کر لیا۔
سب سے پہلے جن لوگوں نے آسٹریلیا کے مزدوروں کی مثال کی پیروی کی وہ امریکی تھے ۔ 1886میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ یکم مئی عالمگیر کام بند ش کا دن ہونا چاہیے ۔اُس روز ان کے دو لاکھ افراد نے اپنے کام چھوڑے اور آٹھ گھنٹے کا دن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی دوران ، یورپ میں مزدوروں کی تحریک مضبوط اور پر جوش ہوچکی تھی۔ اس تحریک کا سب سے طاقتور اظہار 1889میں انٹرنیشنل ورکرز کا نگریس میں ہوا۔ اس کانگریس میں400ڈیلیگیٹ شریک ہوئے ۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ آٹھ گھنٹے کا دن مقرر کرنا اولین مطالبہ ہوگا۔ قرار داد پیش ہوئی کہ یہ مطالبہ عالمی پیمانے پہ کام بند ہونے کے ذریعے سارے ملکوں میں کیا جائے ۔یوں کانگریس نے یکم مئی کو عالمی پرولتاری جشن قرار دیا ۔ کانگریس نے فیصلہ کیا کہ یکم مئی 1890کو دنیا کے ہر خطے میں مزدور آٹھ گھنٹہ کا دن مقرر کرنے کے لیے مل کر جلوس نکالیں گے ۔

اس ہڑتال نے مزدوروں کو اتحاد کی قوت دکھا دی ، انہیں پلٹ کے لڑنے کا سبق دیا، یہ بتایا کہ آرگنائزڈ لیبر کس طرح سرمایہ کے لیے ڈراﺅنا ہوسکتا ہے ۔ مزدور متحدہ سٹرگل کے سپرٹ سے ، آزادی اور سوشلزم کے لیے آرزو بہت گنا بڑھ گئی ۔ انہوں نے تو بورژوا زی اور ان کی ریاست کو انتہائی سیاہ اور شیطانی قوت کے بطور دیکھ رکھا تھا ۔ مزدوروں کو اپنی سٹرگل کے لیے آزادی چاہیے تھی مگر بورژوا ریاست ان کے ہاتھ پیر باندھے رکھتی تھی ۔ مزدور اجتماع کی آزادی چاہتے تھے ، آرگنائز ہونے کی آزادی چاہتے تھے ، مگر بورژوا ریاست ہر طرح کی آزادی کے لیے جدوجہد کو کوڑوں ، جیلوںاور سنگینوں سے کچل ڈالتی تھے۔
اب جدوجہد کے اس نئے طرز نے مزدوروں کے مطالبات اور نعروں کو اُن کے اپنے بڑے اجتماعات میں بلند تر کردیا۔ گلیوں سڑکوں میں رقص و موسیقی کی لے میں مزدور مطالبات ایک اور ہی ولولہ پیدا کر رہے تھے۔ بورژوازی اور حکومت پہ مزدوروں کی خوفناک فوج کی کپکپی طاری ہوئی جنہوں نے ایک ہی جھٹکے میں بڑے شہروں کی صنعتی زندگی کو جام کر کے رکھ دیا۔
واضح رہے کہ دنیا کی اولین ٹریڈ یونین فلیڈ یلفیا میں 1827میں بنی تھی، اور اس نے اوقاتِ کار کم کر کے دس گھنٹے کا دن مقرر کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ 1834میں نیویارک کے بیکری مزدوروں کی ہڑتال کے زمانے میں کسی نے لکھا تھا:
”ڈبل روٹیوں کی صنعت میں ملازم ہم وطن سالہاسال سے مصری غلاموں سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں 24گھنٹوں میں سے اوسطاً 18گھنٹے سے لے کر 20گھنٹے تک مزدوری کرنی پڑتی ہے “۔

20اگست 1866کو امریکہ کی تمام مزدور تنظیموں نے ایک متحدہ ”نیشنل یونین لیبر“ قائم کی۔ اس میں منظور کردہ قرار دادیوں تھی: ”محنت کشوں کو سرمایہ داری کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے اس دور کا سب سے اول اور اہم ترین تقاضا یہی ہے کہ ایک ایسا قانون پاس کرایا جائے جس کی رو سے امریکہ کی تمام ریاستوں میں آٹھ گھنٹے کا دن تعین ہو۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم اپنی ساری طاقت لگا دیں گے “۔

ایک سال بعد 1867میں کارل مارکس نے اپنی کتاب ”کپٹل “ میں یومیہ اوقاتِ کار میں کمی کی اس جدوجہد کے سیاسی پہلو کو اس طرح اجا گر کیا: ” یونائیڈ سٹیٹ آف امریکہ میں کسی قسم کی آزادانہ مزدور تحریک اس وقت تک معطل رہی جب تک کہ ، جمہوریہ کے ایک حصے سے غلامی غائب نہیں ہوگئی ۔جہاں کالی چمڑی والا مزدور جکڑا ہوا ہو وہاں گوری چمڑی والا مزدور بھی اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتا ۔لیکن غلامی کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک نئی اور سخت زندگی نے جنم لیا۔ آٹھ گھنٹے یومیہ کام کے لیے جدوجہد کا آغاز ہی خانہ جنگی کا اولین ثمر تھا۔ ایک تحریک ابھری اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اٹلانٹک سمندر سے لے کر پیسفک اوشن اور نیو انگلینڈ سے لے کر کیلیفورنیا تک پھیل گئی “۔

1875میں مزدوروں کی تنظیم اور متحدہ انجمن سے خوفزدہ ہو کر کانوں کے مالکوں نے اس انجمن کے دس سرگرم کارکنوں کو پھانسی دے کر شہید کردیا۔

بہر حال 1877میں اس مطالبے کے لیے جدوجہد نے آہستہ آہستہ مکمل اور ہمہ گیر تحریک کا روپ دھار لیا۔ ریلوے اور فولاد کے کارخانوں کے لاکھوں مزدوروں کے ابھرتے ہوئے جذبات کو کچلنے کے لیے سرمایہ داروں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا اور انتہائی ظلم وجور کے بعد وقتی کامیابی حاصل کرلی۔ سیاہ فام مزدوروں پر ظلم ڈھانے کے لیے پولیس اور فوج کو استعمال کیا گیا۔

مطلب یہ ہے کہ مزدور طبقہ جدوجہد کی شکل کوئی بھی رکھے سرمایہ دار اور اُس کی ریاست اسے چھوڑے گی نہیں۔آٹھ گھنٹے کام کا دن مقرر کرنے کی اتنی بڑی،طبقاتی اور عالمگیر تحریک کو تاریخ کی طوالت کے ساتھ ساتھ بڑی قربانیاں دینی تھیں۔ دو ہزار سال قبل روم میں سپارٹیکس کی قیادت میں غلاموں کی بغاوت ہوئی تھی ۔ہمیں معلوم ہے کہ غلاموں نے اُس بغاوت کی کیا قیمت دی تھی ۔ پیرس کمیون بھی ہمیں بتاتا ہے کہ ایک جینوئن طبقاتی انقلاب میں کتنا خون دینا پڑتا ہے ۔

چنانچہ شکاگو (جو کہ امریکی انڈسٹری کا مرکز تھا ) کے مزدوروں نے پورے جوش سے یکم مئی کو 8گھنٹے کام کا دن مقرر کرنے کے سلسلے میں ہڑتال کی تھی۔ پہلی مئی 1886کو شکاگو کے ایک مزدور اخبار میں تاریخی بصیرت اور طبقاتی شعور رکھنے والے صحافی کے یہ لافانی الفاظ چھپ چکے تھے ۔
”بہادری سے آگے بڑھے چلو۔لڑائی شروع ہوچکی ہے ۔
”مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے ۔ سرمایہ داری کے خونی پنجے قانون اور بے جان امن کے کھوکھلے پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں“!۔
” محنت کشو! پہلی مئی کی تاریخی اہمیت تو آنے والے زمانے میں تسلیم کی جائے گی ۔ یہ تمھارے حقوق طلب کرنے کا دن ہے ۔ یہ بات اچھی طرح جان لو کہ سرمایہ دار بغیر لڑے کام کے گھنٹے کبھی کم نہیں کریں گے “۔

ظاہر ہے مزدوروں کے اس جوش خروش سے خوفزدہ اور اُن کے خون کے پیاسے سرمایہ دار ایسے وقت میں کیسے چین سے بیٹھ سکتے تھے ۔ لہذا انہوں نے ہڑتال کو توڑنے اور جلسے کو درہم برہم کرنے کے لیے ضابطے بنائے ۔مزدوروں نے 3مئی کو پھر جلوس نکالا۔ لیکن محنت کشوں کے دشمن نے پولیس کے ذریعے ان پر حملہ کردیا۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے مظاہرین کی حمایت میں مزدوروں نے 4مئی کو ایک اور جلوس نکالنے کا پروگرام بنایا اور وہ سب چوک پر بڑی تعداد میں جمع ہوگئے ۔ وہ بالکل پر امن تھے مگر ظالموں کی پیاس ابھی بجھی نہیں تھی۔ انہیں ابھی معصوم مزدوروں کا اور خون پینا تھا۔ لہذا پولیس اور فوج نے دھاوا بول دیا۔ سڑکیں دیواریں اور نالیاں محنت کشوں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ ان کا اپنا پرچم ۔۔۔۔مطالبات کا سفید پرچم ۔۔۔۔۔بھی اُن کے اپنے خون سے لال ہوگیا۔

اُنہی ماٹرڈز ( شہیدوں) کے بہے ہوئے خون کے احترام میں اُس دن سے آج تک یوم مئی کے جلوسوں میں مزدور سرخ پرچم اٹھاتے ہیں۔یہ سرخ جھنڈے محنت کش عوام کے جھنڈے کی حیثیت سے تمام دنیا میں بلند کیے جاتے رہے ہیں۔
4مئی کے قتل عام کے بعد بھی سرمایہ داروں اور مل مالکوں کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا ۔ اب انہوں نے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کردیا: پارسنز ، اینجل ، سپائیز اور فشر جیسے جیالے رہنماﺅں کو پھانسی دی گئی۔ ڈیڑھ لاکھ مزدوروں نے اُن کی تدفین میں حصہ لیا۔
یکم مئی 1890میں اس پوری تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے اینگلز نے لکھا تھا:
” اس وقت جبکہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں یورپ اور امریکہ کے پرولتاری اپنی قوت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ ایک پرچم کے تلے تاریخ میں پہلی دفعہ ایک فوج کی طرح منظم ہوئے ہیں اور ایک فوری مقصد آٹھ گھنٹے یومیہ کام کے لیے “۔

روس میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد یومِ مئی کو ریاستی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد دیگر سوشلسٹ ملکوں میں یہ دن سرکاری طور پر منایا جانے لگا۔
محنت کشوں کی طرف سے دولتمندوں اور استحصال کرنے والوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔ سارے ممالک کے مزدور مزدوروں کو اجرتی غلامی سے ،غربت اور محتاجی سے آزاد کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ ایک ایسے نظام کے لیے لڑ رہے ہیں جہاں مشترکہ محنت سے پیدا کردہ دولت مٹھی بھر امیروں کو نہیں بلکہ سب محنت کرنے والوں کو فائدہ دے ۔ وہ زمین اور فیکٹریوں ، ملوں اور مشینوں کو سارے محنت کرنے والوں کی مشترکہ ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ وہ امیر اور غریب کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، محنت کے ثمرات خود مزدوروں کو دلانا چاہتے ہیں، اور انسانی دماغ کی ساری حاصلات ، اور محنت کے طریقوں میں ساری امپروومنٹس کو اُس آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے پر لگانا چاہتے ہیں ،جو محنت کرتا ہے۔

سرمایہ کے خلاف محنت کی یہ عظیم سٹرگل سارے ممالک کے مزدوروں کو لامحدود قربانیوں پہ لے گیا۔ انہوں نے ایک بہتر زندگی اور اصل آزادی کے اپنے حق کے لیے خون کے دریا بہا دیے۔ یوں، یوم مئی مزدور حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا دن بن چکا ہے ۔ یہ موجودہ سرمایہ دارانہ معاشی اور سماجی نا انصافیوں پہ احتجاج کا دن ہے۔ اس روز استحصال ، کم اجرتوں، ابتر حالات کار، اور امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے ۔

مگر، ایک بات ہے ۔صرف طبقاتی شعور رکھنے والا اور تنظیم میں پرویا ہوا پرولتاریہ ہی سرمایہ داری نظام کو اپنا قاتل مُکہ مارسکتا ہے ۔ صرف طبقاتی شعور رکھنے والا اور تنظیم میں پرویا ہوا پرولتاریہ ہی عوام کے لیے اصلی آزادی حاصل کرسکتا ہے ۔ صرف طبقاتی شعور رکھنے والا اور تنظیم میں پرویا ہوا پرولتاریہ ہی عوام کو دھوکہ دینے ، ان کے حقوق کم کرنے ، اور بورژوازی کے ہاتھوں میں آلہِ کار بنانے کی ہر کوشش کو ناکام بنا سکتاہے ۔

محنت ایک ماتم ، ایک بدصورتی کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو انسان کی ، انسانیت کی علامت ہے ۔ جو انسان محنت نہیں کرتا اور دوسروں کی محنت پر زندہ رہتا ہے وہ اشرف انسان نہیں بلکہ جونک ہے ، درندہ ہے ۔ صرف معذور ، بیمار ، بوڑھے اور بچے کام کرنے سے مبرا زندگی گزار سکتے ہیں اور یہ استحقاق رکھتے ہیں کہ ہم ان کے لیے کام کریں اور ان کا خیال رکھیں ۔ہم سب کی ڈیوٹی ہے کہ ہم بچوں، بوڑھوں ، معذوروں اور بیماروں کے لیے کام کریں۔ ۔۔۔مگر، دنیا میں کوئی بھی اخلاقی نظام و قانون اس بات کا جواز نہیں بتا سکتا کہ عوام ”جونکوں “کے لیے ، سرمایہ داروں کے لیے کام کریں۔

آج ایک طرف خون چوسنے والے مٹھی بھر امیر ہیں۔ انہوں نے فیکٹریوں اور ملوں، اوزار اور مشینری پہ قبضہ جمایا ہوا ہے ، ہزاروں ایکڑ زمین اور پیسہ کے پہاڑ اپنی نجی جائیداد بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور فوج کو اپنا خادم بنا رکھا ہے ، انہوں نے دولت کے فرمانبردار رکھوالوں اور چوکیداروں کے ڈھیر جمع کر رکھے ہیں۔ ۔
دوسری طرف ملینوں کی تعداد میں بے جائیداد لوگ ہیں۔ انہیں مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ دولتمندوں سے اُن کے لیے مزدوری کرنے کی اجازت کے لیے بھیک مانگیں۔ اپنی محنت سے وہ ساری دولت پیدا کرتے ہیں، مگر اپنی پوری زندگی انہیں روٹی کے محض ایک ٹکڑے کے لیے سٹرگل کرنا پڑتا ہے ، کمر توڑ محنت سے اپنی توانائی اور صحت تباہ کرنی پڑتی ہے ، اور گاﺅں میں جھونپڑوں کے اندر یا بڑے شہروں میں تہہ خانوں اور بالا خانوں کے اندر فاقے کرنے پڑتے ہیں ۔

یہ تعطیل ہماری بین الاقوامی تحریک کی سب سے مضبوط ستون ہے ۔چونکہ کپٹل ایک انٹرنیشنل قوت ہے ۔ اسے فتح کرنے کے لیے ایک انٹرنیشنل مزدوروں کی الائنس ، ایک انٹرنیشنل مزدور بھائی چارہ کی ضرورت ہے ۔ یہی یومِ مئی کا اصل پیغام ہے۔

آج ساری دنیا میں رجعت کی قوتیں متشدد ہو رہی ہیں۔ دنیا اسرائیل کی طرف سے غزہ میں نسل کشی کے تسلسل کو حیرت و دہشت سے دیکھ رہی ہے ۔امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں ۔اُدھر نیٹو ممالک یوکرین کی جنگ کو وسیع کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔اسی طرح لاطینی امریکہ میں دیکھیے تو امریکہ کیوبا کا گلا گھونٹنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے ۔

اس ساری تاریک صورتحال میں مزدوروں کا دن ہمیں انٹرنیشنل ورکنگ کلاس کی قوت کی یاد دلا تا ہے۔ سامراج اور رجعت کی قوتیں طاقتور ہیں مگر جس وقت ورکنگ کلاس باہم متحد کھڑی ہوتی ہے تو وہ ایک بہتر مستقبل ، ایک پر امن مستقبل ، ایک جمہوری مستقبل ،اور ایک سوشلسٹ مستقبل کی تعمیر کی نوید بن جاتی ہے ۔

یہ بات تو حتمی ہے کہ اپنے حقوق کی جدوجہد میں مختلف عقیدوں اور مختلف قومیتوں کے مزدوروں کے بیچ کوئی دشمنی نہیں رہ جاتی ۔ اس لیے کہ باشعور اور منظم مزدوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی دشمنی صرف ظالموں کو فائدہ دیتی ہے جو پرولتاریہ کی بے شعوری اور بے اتفاقی پر زندہ رہتے ہیں۔ اس لیے ساری قومیتوں اور عقائد سے تعلق رکھنے والے مزدور سوشلزم کے مشترکہ پرچم تلے مارچ کرتے ہیں۔ سارے مزدور کا ٹھوس اتحاد سارے مزدوروں اور محکوم انسانیت کی بہبود اور مسرت کی واحد ضمانت ہے ۔ یکم مئی کو سارے ممالک کے مزدوروں کا یہ اتحاد آزادی ، مساوات اور سوشلزم کے لیے اپنی قوتوں کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے اور اپنی قوت کو آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کے لیے کم نہ ہونے اور سست نہ پڑنے والے سڑگل کے لیے مجتمع کرتا ہے ۔

انفرادی ممالک کے اندر،مزدوربورژوا حب الوطنی سے ہمہ وقت خبردار رہتے ہیں ۔ہر وطن اصل میں دو وطن ہوتے ہیں۔ ایک وطن مراعات یافتہ لوگوں کا ہوتا ہے ، اُس شخص کی جس کی شاندار کوٹھیاں ، بے شمار مہنگی کاریں ہوں، جبکہ اسی وطن میں ہزاروں لاکھوں دوسرے جھونپڑوں میں رہتے ہیں۔ ایک سرزمین اُن مٹھی بھر لوگوں کی ہوتی ہے جو دوسروں کی محنت پر زندہ رہتے ہیں۔اور ، ایک سرزمین اُس برہنہ بچے کی ہوتی ہے جو گلیوں میں بھیک مانگتا پھر رہا ہوتا ہے ۔ ایک وطن وہ جس میں مزدور اپنی محنت سے امیروں اور اشرافیہ کو پالتے ہیں، جو معمولی اجرتوں کے لیے کمر توڑ محنت سے اپنی زندگیاں بتا دیتے ہیں ، وہ اپنے ہی محنت کی ثمر سے کبھی لطف اندوز نہیں ہوسکتے ، وہ ہماری سولائزیشن کے لگژری اور طمطراق کے بیچ بوجھ ڈھونے والے جانوروں طرح رہتے ہیں ۔۔۔۔
مزدور کو تو ایسی سرزمین چاہیے جہاںوہ اپنی تقدیر کو متعین کرنے کا حق رکھتے ہوں، جہاں وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرسکیں ۔ایسی سرزمین جو ہر شخص کی بہبود کے لیے ہو ۔ جہاں نا انصافیوں کا خاتمہ ہو۔ انسان ایسی زمین کے لیے مر مٹنے کے لیے تیار ہوتا ہے جو اُس سرزمین کے سارے انسانوں کی ہو۔ اسی لیے تو استحصالی طبقات مادروطن کے اصل تصور سے آشنا نہیں ہوسکتے ۔ ان کے لیے مادرو طن ایک مراعات ہے جس کا انہوں نے دوسروں کی محنت ہڑپ کرکے فائدہ لیا۔

ہمارے جیسے ممالک میں تو مزدور تحریک کے خلاف پابندیاں ہی پابندیاں مسلط ہیں۔ یہاں آزادانہ جلسے نہیں ہوتے ۔ عوامی اخبارات کی آزادانہ سرکولیشن والے اخبار موجود نہیں ہیں۔ محنت کش کاز کے لیے جدوجہد کرنے والے جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں ۔ فیوڈل حکومت ہمہ وقت ایک قوم کو دوسری قوم کے مقابل، ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے خلاف لاکھڑا کرنے کی کوشش کر تی رہتی ہے ۔

توکیا کرنا چاہیے ؟۔دیہاتوں میں آزاد کسان کمیٹیاں بنائی جائیں تاکہ غلام کسان رکھنے والے جاگیرداروں کی طاقت الٹ دی جائے ۔ عوام کو حکام کے نفرت انگیز جبر و تشدد سے آزادی دلانے کا کام کیا جائے ، جاگیرداروں سے فاضل زمین چھین کر کسانوں میں تقسیم کی جائے ۔وقت مکمل آزادی کے لیے ، ایک ڈیموکریٹک رپبلک کے لیے، کسان کمیٹیوں ، ٹریڈ یونینوں ، طلبا اور خواتین تنظیموں کے لیے اور سب سے بڑھ کر انقلابی سیاسی پارٹی کے قیام کے لیے محنت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔شریف لوگوں کا فکری و تنظیمی اتحاد جو کہ غریب کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ ہر مزدورپیشہ ،خواہ وہ ہاتھ سے کام کرنے والا مزدور ہو یا دانش کا مزدور،سب مل کر آگے بڑھ رہے ہیں، رائٹر، آرٹسٹ ، ایکٹر، اناﺅنسر، ڈاکٹر، نرس سب ا س کارواں میں شامل ہیں۔ہم سب کو بڑی لڑائی کے لیے بھر پور تیاری کرنی ہوگی۔

اور یوم مئی ؟۔ یہ تو جشن منانے کا موقع ہوتا ہے ، اتحاد کے جشن کادن ، کمیونٹی کی اہمیت جاننے کے جشن کا دن۔ یہ دن بہ یک وقت مزدوروں کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے جاری جدوجہد کی یاد بھی دلاتا ہے ۔

یوم مئی ”عالمی یک جہتی “ کا سب سے بڑا اور غیر مصنوعی ایونٹ ہوتا ہے ۔اُس پوری دنیا کے اندر، اصل پالن ہار طبقہ انسانی بہبود کا منشور لے کر باہر نکلتا ہے ۔ دنیا بھر سے مختلف کلچروں ‘زبانوں ، اور پس منظروں سے وابستہ ہر طرح کے تعصبات سے پاک مزدور دنیا کو بالکل ہی الگ راستہ دکھاتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات کی طرف بھی توجہ لازمی ہے ۔ ہم سب نے دیکھا کہ یکم مئی نے آٹھ گھنٹے کا دن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ مگر جب جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ مطالبہ منوایا گیا تب بھی یوم مئی منانا ترک نہ کیا گیا۔
جب تک بورژوازی اور حکمران طبقات کے خلاف مزدوروں کی جدوجہد جاری رہے گی، جب تک سارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ، یوم مئی ان مطالبات کا سالانہ اظہار ہوگا۔

اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جب بہتر دن طلوع ہوں گے ، جب دنیا بھر کا مزدور طبقہ اپنی نجات جیت چکا ہوگا تب بھی شاید انسانیت ماضی کی تلخ جدوجہد اوربہت ساری اذیتوں کے اعزاز میں یوم مئی کا جشن مناتی رہے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*