کراچی میں بلوچ و مکرانی کے قصے

کیچ مکران سے آئے ہمارے ایک بہت ہی باذوق۔ باادب اور پیارے دوست نے کافی عرصہ یہاں رہنے کے بعد کراچی کی ادبی فضا سے متاثر ہوکر اردو شاعری میں طبع آزمائی شروع کی۔ تب انہیں ایک عدد "تخلص” کی ضرورت پڑگئی۔ دوستوں سے مشورہ کیا۔ بہت سے آہ و بکاہ سے بھرپور پردرد اور کہیں کہیں پرشور قسم کے تخلص تجویز ہوئے جو انہیں پسند نہیں آئے۔ بعد میں یہ” بھاری بوجھ” انہوں نے بذات خود اپنے کندھے پر لے کر معاملہ کو حل تک پہنچایا۔ بہرحال ان کا اپنا رکھا ہوا منفرد اور یکتا تخلص تو ان کا کچھ بگاڑ نہ سکا لیکن جگہ جگہ نام کے ساتھ مکران سے وابستگی کی گرہ لگانی جو شروع کی تو یہ "قوم پرستی” کا جذبہ ان کے لئے عذابٍ جاں بن گیا۔
ہوا یہ کہ ان ہی دنوں میں ایک مرتبہ انہیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے میرپورخاص جانا پڑا۔ اتفاق سے ٹرین میں ان کے ہمسفر ٹکسالی اردو زبان کے ایک منجھے ہوئے شاعر تھے۔ پورا سفر شعروشاعری اور ادب و آداب ہی میں گزرجاتا اگر بزرگ شاعر کی نظر سیٹ پر رکھے ہمارے دوست کے سفری بیگ پر نہ پڑتی جس پر مارکنگ پین سے لکھا تھا "فلاں فلاں مکرانی!” ‘فلاں فلاں’ تو ان کی سمجھ میں فوراً آگیا لیکن ‘مکرانی’ پر وہ اٹک گئے۔ بولے "میاں! آپ لگتے تو بلوچ ہیں یہ مکرانی کی دم کیوں لگا رکھی ہے!” پورے سفر میں ہمارے دوست ان محترم کو وضاحت دیتے رہے کہ مکرانی اور بلوچ کی کوئی الگ الگ شناخت نہیں بلکہ وہ ایک ہی قوم کے فرد ہیں۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ کراچی میں مکرانی کی اس اصطلاح نے یہاں کے سنیما گھروں میں "جنم” لیا تھا۔ ہوا یوں کہ سنیماو¿ں کو کسی زمانے میں شہر کی بہت ہی سستی تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے تینوں شوز میں تماشبینوں کا بڑا رش رہتا تھا۔ اس رش کو قابو پانے کے لئے سنیما مالکوں نے نظم و ضبط قائم کرنے اور ٹکٹ خریدنے ،قطاروں کی لائنیں سیدھا کرنے کے واسطے لیاری کے علاقہ سے کچھ سیاہ فام اور کچھ سانولے "مکرانی جمعداروں” کی خدمات حاصل کی ہوئی تھیں جن کے ہاتھوں میں اس دور کا سب سے بڑا "ہتھیار” یعنی ایک چھڑی ہوتی تھی جس کا استعمال وہ بے دریغ کرتے تھے۔ چھڑی کے "متاثرین” میں زیادہ تر قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے شمالی علاقوں سے آئے مہاجر لڑکے شامل ہوتے تھے۔ جمعداروں سے وہ اس حد تک خوفزدہ رہتے تھے کہ دور سے دیکھتے تو ایک دوسرے سے کہتے ” ابے بھاگ! مکرانی آرہا ہے۔”
کراچی دراصل شروع سے مختلف مذہبی رواداری اور متنوع ثقافتی اقدار پر مبنی ایک پرامن کاسموپولیٹن شہر رہا ہے۔ اکثریت بہرکیف یہاں سندھی ہندو برادری کی تھی۔ تعلیمی۔ تجارتی۔ سیاسی اور سماجی لحاظ سے انہیں برتری حاصل تھی۔ تقسیم ہند کے بعد 7 جنوری 1948 کو رتن تلاو¿ گردوارے کے اندر بدقسمتی اور انتظامیہ کی غفلت سے پیش آنیوالے سینکڑوں سکھ خاندانوں کے افراد کی ہلاکت کے بعد یہاں سراسیمگی پھیل گئی اور نتیجتاً پوری ہندو برادری ہندوستان منتقل ہوگئی۔ اس تعلیمی۔ تجارتی۔ سیاسی اور سماجی خلا کو ہندوستان سے آئے مسلمان مہاجر برادری نے پر کیا۔ ثقافتی میدان میں بھی یہی طبقہ حاوی رہا جس سے یہاں اردو زبان اور ادب کی خوب نشوونما ہوئی۔ بعد کے دنوں میں یہیں سے دانشور حلقے بھی سرگرم ہوئے جن میں زیادہ تر چھڑی سے متاثر شدہ ماضی کے وہ "سنیما والے لڑکے” بھی شامل تھے جو آخر تک رعب دار سرخ و سفید واجہ ٹائپ افراد کو "بلوچ” جبکہ جنگجو لڑنے بھڑنے اور سر سے ٹکر مارنے والوں کو کم تر نسل کے لوگ قرار دے کر "مکرانی” سمجھتے اور کہتے رہے۔
بہرحال یہ سب پرانے وقتوں کی باتیں تھیں۔ اب تو پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ مہاجر برادری کی آج تیسری نوجوان نسل بلوچوں کے ساتھ زیادہ گھل مل کر ہمارے قومی معاملہ کی طے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ بات اچھی طرح ان کے ذہنوں میں بیٹھ گئی ہے کہ بلوچ ثقافت سے وابستہ اور بلوچی زبان بولنے والے تمام لوگ بلوچ ہی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان میں نسلی لحاظ سے بھی کوئی اعلیٰ یا ادنیٰ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں اب "مکرانی” کا لفظ منفی معنوں میں استعمال ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اب یہ معاملہ قصہ پارینہ ہوچکا ہے اگرچہ کبھی کبھی کہیں کہیں سے کچھ ہلکی سی آوازٍ باگشت سنائی ضرور دیتی ہے۔
علم و ادب سے وابستہ ڈاکٹر احمد سہیل صاحب ہماری طرح لاابالی قسم کے کوئی گمنام، علم سے بے بہرہ عام آدمی ہیں اور نہ آگے بڑھتی دنیا کی تیز رفتاری سے بے خبر کسی پرانے اور شکستہ کنویں میں مینڈکوں کی طرح کے ہم جیسے باسی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ماشا اللہ اردو زبان کے معروف شاعر۔ ادبی و ثقافتی نقاد۔ مقالہ نگار۔ مترجم اور ماہر عمرانیات ہیں اور غالباً آجکل ان کی مستقل رہائش امریکہ کی کسی خوشحال ریاست میں ہے۔
ہمارے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم۔ پروین شاکر۔ عبدالقدیر خان۔ نصرت جاوید (معروف سینئر صحافی)۔ سابق کمشنر کراچی جی۔ اے۔ مدنی و دیگر معزز شخصیات کی طرح احمد سہیل صاحب بھی کراچی کی قدیم ترین عوامی بستی لیاری میں ابتدائی زندگی گزارچکے ہیں۔ ابھی تک یہاں کے دو دوست رشید اور شریف ان کی یادوں میں شامل ہیں۔
ہم سے ان کا "غائبانہ تعارف” چند دن پہلے اس وقت ہوا جب فیس بک پر ان کی ایک پوسٹ یا مقالہ بعنوان "شیدی اور مکرانی کون ہیں۔۔۔ان کی تاریخ۔ معاشرت اور ثقافت کا مختصر احوال” ہماری نظر سے گزرا اور وہیں ہم ٹھٹھک کر رہ گئے تھے کہ "مکمل مکرانی” تو ہم بھی ہیں لیکن ہماری تاریخ۔ معاشرت۔ اور ثقافت کا جو نقشہ انہوں نے کھینچا ہے اس میں نہ ہم نظر آتے ہیں اور نہ ہماری تاریخ۔ معاشرت اور ثقافت کا کوئی رنگ اس میں شامل ہے۔
اس تجسس میں ہمیں ان کا یہ مقالہ دوتین مرتبہ پڑھنا پڑا تب کہیں جاکر ہم پر منکشف ہوا کہ مقالہ نگار کی تحریر جو بظاہر "خیالی صورت گری” لگتی ہے وہ حقیقت میں کافی عرصہ "وطن سے دوری” کی وجہ سے ظہور پذیر ہوئی ہے مگر ساتھ ساتھ ہمیں اس تحریر میں بلاشبہ اپنائیت اور نیک نیتی کا جذبہ بھی کارفرما محسوس ہوا۔
ہم اسی نتیجے پر پہنچے کہ صاحبٍ قدر تک شاید یہ "خبر” نہیں پہنچی تھی کہ ان کے مقالہ کے اہم اور بنیادی کردار "مکرانی” تو کب کے صدیوں پہلے بلوچ ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب جو مکرانی ان کے ذہن میں ہیں ان کی کوئی الگ لسانی یا ثقافتی شناخت ہے اور نہ ان کی پہچان۔ زبان۔ ادب اور طرز زندگی مختلف ہے جیسا کہ احمد سہیل صاحب رقمطراز ہیں۔
جن موضوعات کو مقالہ میں جگہ دی گئی ہے ان پر تاریخ کے طالبعلموں کی رہنمائی کے لئے کئی بلوچ اسکالرز اور رائٹرز نے تاریخی حوالوں کے ساتھ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ان میں ڈاکٹر پروفیسر حفیظ جمالی اور ڈاکٹر حمید بلوچ شامل ہیں جنہوں نے انگریزی اور اردو زبانوں میں اس موضوع پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔
ان کے علاوہ معروف مصنف۔ دانشور اور ہاورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر فیروز احمد نےAfrica on the coast of pakistanکے عنوان سے لکھے گئے اس مقالہ میں افریقہ کے غلام کئے جانے والے سیاہ فام مظلوم انسانوں کی خرید و فروخت۔ اس خطے میں ان کی برآمدگی اور انیسویں صدی میں غلامی کے خاتمہ کے بعد ان کی موجودہ طرز زندگی تک کے سفر کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ہم یہاں بی بی سی ڈاٹ کام میں 14 جولائی 2020 کو شائع ہونے والی سحر بلوچ کی ایک رپورٹ بعنوان "پاکستان کے سیاہ فام شہری:شیدی برادری کی تاریخی داستان” کا حوالہ دینگے جس کے آغاز ہی میں مظلوم انسانوں کی ایک تصویر کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ‘1875 میں کینیا کے شہر مومباسا کے نزدیک غلاموں سے بھری کشتیوں سے بازیاب کروائے گئے یہ غلام جنہیں خلیج فارس۔ گلف اور مکران کوسٹ بھیجا جارہا تھا۔’
سحر بلوچ آگے بتاتی ہیں کہ "(غلامی سے آزاد ہونے کے بعد) افریقی نڑاد افراد خطے میں جہاں جہاں آباد ہوئے ہیں انہوں نے وہیں کی تہذیب میں خود کو ضم کرلیا ہے۔ کئی جگہوں پر ان کے لئے وہاں کی روایات اپنانا آسان بنا اور وہ ان کی شناخت کا حصہ بن گئے۔ جبکہ دوسری جگہوں پر ان کی اپنی منفرد شناخت قائم رہی۔ سندھ اور گجرات میں ان روایات کو اپنانے کا تدارک ایک طرح سے ایسا ہوا کہ شیدی کہلائے جانے والے افراد ایک الگ طبقے میں شامل ہوئے اور اپنی شناخت بنا پائے۔”
محقق و پروفیسر ڈاکٹر حفیظ جمالی اپنی کتاب Shore lines of Memory and Ports of Desireمیں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "سندھ کے برعکس بلوچستان میں بجائے اپنی الگ شناخت بنانے کے شیدی برادری سے تعلق رکھنے لوگ پہلے سے موجود (بلوچ) قبائل کا حصہ بن گئے۔”
تو جناب! انگریزوں کے دور میں یا اس سے پہلے بلوچستان سے جس بلوچ آبادی نے کراچی (لیاری) میں نقل مکانی کی ان میں یہ سیاہ فام بلوچ برادری کے لوگ بھی شامل تھے۔ البتہ اس برادری میں سے کچھ گروپس موسیقی (مگرماں ڈرم)۔ لیوا رقص اور بغدادی سیفی لین میں مومباسا اسٹریٹ کے ذریعے اپنے آباواجداد کے (افریقی) Roots کی یاد کو تازہ کرتے ہیں لیکن بنیادی طور یہ سب بلوچ قوم اور کلچر کا حصہ ہیں۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے علم و ادب۔ اسپورٹس (فٹبال۔ باکسنگ۔ سائکلنگ) اور سماجی خدمات کے حوالے سے بلوچ قوم کا سربلند کیا ہے۔
تعصب۔ نسلی و مذہبی امتیاز اور کسی بھی قسم کے تحفظات کے بغیر مختلف طبقات کے درمیان پیار و محبت۔ یکجہتی اور انسان دوستی پر مبنی اولڈ کراچی کے روایتی اور خوبصورت رنگ اب بھی لیاری میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔
سینئیر صحافی حنا ماہ گل رند نے 6 مئی 2007 کو The News on Sunday کے کولاچی پیج میں اپنے آرٹیکل میں "شیدی دھمال” کی تفصیلات بتائی ہیں جس میں یہ بات واضع کی ہے کہ "لیاری کو ایک ‘مٍنی (چھوٹا) برصغیر’ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ برصغیر کی تمام قومیتیں یہاں آباد ہیں اور کچھ تو تقسیم سے پہلے کی ہیں۔ ان میں پنجابی۔ سندھی۔ کشمیری۔ ہزارہ۔ پختون۔ بلوچ۔ شیدی (پاکستان میں افروایشین کے لئے مقامی اصطلاح)۔ سرائیکی۔ میمن۔ کچھی۔ بنگالی۔ کاٹھیاواری۔ بوہری اور اسمٰعیلی یہاں آباد ہیں۔” ان میں کرسچن۔ ہندو۔ بہاری اور شمالی ہندوستان سے آئے مہاجر اور میانوالی قومیت کے لوگ بھی شامل ہیں۔ فوقیت یہاں انسانی اقدار کی ہے۔
یہ سب ایک گلدستہ میں مختلف رنگوں کے خوبصورت پھولوں کی مانند ہیں جن کی مہک سے فضا ہمیشہ معطر اور گلشن ہمیشہ پھلتا پھولتا آباد ہی رہتا ہے۔ یہی زندگی کے رنگ ہیں اور یہی زندگی کی خوبصورتی بھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*