خالق داد آریا

بلوچی زبان و ادب کے آسمان پر جلوہ افروز ستارہ سرباز کے علاقہ کشدر (کجدر) میں 1939میں پیدا ہوا ۔
اس زمانے میں کشدر میں ایک پرائمری سکول تھا جہاں پر صرف چوتھی کلاس تک تعلیم دی جاتی تھی ۔ اس کے بعد اس نے مغربی بلوچستان کے سب سے بڑے شہرایران شہر میں ہائی سکول سے کلاس ششم تک تعلیم حاصل کی اور سکول ماسٹر کے طور پر ملازمت کی ابتدا کی ۔اُس زمانے میں کلاس ششم سرکاری طور پر سکول ماسٹر کےلئے لازمی تھی۔
راسک اور کسر کند میں تدریس کے دوران اور کراچی کے سر چمگ کے نمائندہ کے طور پر سید ظہور شاہ ہاشمی اور عبدالصمد امیری کے دورے کے بعد آپ نے قلبی اور ذہنی طور پر محسوس کیا کہ وہ ابھی تشنہ علم ہیں۔اسی عرض سے آپ نے محکمہ تعلیم کی نوکری سے استعفیٰ دیا اور مزید تعلیم کی جستجو میں تہران چلے گئے اور جلد ہی وزارت انتظامی امور یعنی وزارت داخلہ میں ملازم ہوگئے اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔اور تہران یونیورسٹی سے زبان اور ادبیات فارسی میں ماسٹرز کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کر لی اور میر جاوہ میں تحصیلدار مقرر ہوگئے ۔
وہاں سے پھر گزوین میں تحصیلداری کی ۔ دوران ملازمت ان کی کارگردی قابل تعریف تھی وہاں سے ترقی پاکر بندر عباس میں صوبہ ہر مزگان کے گور نر کے سکریٹری نامزد ہوگئے ۔
تہران میں تعلیم اور انتظامی امور کی ملازمت کے دوران اُن کی ملاقات مختلف طائفوں کے بلوچوں سے ہوتی رہی جو تھران اور اس کے اطراف میں رہائش پریز تھے یا دوسرے صوبوں سے کام معاش یا دیگر ضروری امور کے سلسے میں آتے رہتے ۔ان لوگوں میں ایک نمایاں شخص ڈاکٹر محمد بلوچ تھے ۔
خالق داد آریا کو عالم و فاضل لوگوں سے حد سے زیادہ اُنسیت تھی ۔اس کے علاوہ پروفیسر صاحب کو علمی تحقیق اور جستجو کا بہت شوق تھا ۔انہوں نے اُن علاقوں میں بسنے والے بلوچ طائفہ کے لوگوں کو تلاش کرنے اور ان کو نزدیک لانے میں خاصا کام کیا جن میں سے ایک اہم خاندان کے لائق اور ہونہار فرزند ڈاکٹر محمد بلوچ ولد حسین بلوچ تھے جو تہران یونیورسٹی کے انتہائی قابل پروفیسر اور ماہر حیوانیات تھے ۔ وہ تہران یونیورسٹی کے شعبہ حیوانات کے اولین سربراہ تھے ۔
بھٹو دور حکومت میں مشرقی بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو صاحب گورنر بلوچستان تھے سردار عطاءاللہ خان مینگل کی حکومت تھی ۔جب میر غوث بخش بزنجو ایران کے سرکاری دورہ پر آئے تو میر کریم بخش سعیدی پارلیمنٹ کے ممبر سے انہوں نے راہنمائی کےلئے پروفیسر خالقداد آریا سے مدد لی ۔ اور میر غوث بخش بزنجو کے دورے کے ابتدا سے لے کر الوداعی وقت تک پروفیسر خالقداد آریا کو ساتھ رکھا۔ کیونکہ پروفیسر آریا ہی واحد شخص تھے جن کی سوچ بوجھ اور دانش سب سے سوا تھی ۔انہوں نے بلوچستان کے دونوں اطراف کے لوگوں کی بہتری کےلئے بہت ساری تجاویز میر غوث بخش بزنجوکے مشورہ پر حکومت ایران کو دی لیکن بھٹو حکومت کی غلط پالیسیوں اور عسکری حلقے کی مداخلت کے سبب پروفیسر آریا کی تجاویزات پر عمل نہ ہوسکا۔
خمینی انقلاب کے بعد پروفیسر خالقداد آریا زاہدان کے کمشنر(فرماندار ) اور بندر عباس کے گورنر رہ چکے اور ریٹائرمنٹ کے بعد تہران میں مقیم رہے ۔
تھران میں قیام کے دوران اپنے دیرینہ دوست پیر محمد ملازہی اور کچھ دوسرے بلوچوں کے مشورہ سے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کا نام انجمن بلوچاں تھران رکھا۔
جناب پروفیسر خالقداد آریا کی ادبی خدمات قاچاربادشاہوں کے دور کے کتب کو کنگھال کر بلوچ اور بلوچستان کے متعلق تمام مواد جمع کر کے ان کو کتب کی صورت میں قلمبند کرکے چھپوایا
جغرافیہ و تاریخ بلوچستان
رسالہ غفاری
جغرافیہ بلوچستان تحریر افضل الملک
ان کو ضحیم رسالہ کی شکل میں چھپوایا ۔ رسالہ کا نام فرہنگ ایران زمین 29,28.
بلوچی اور پہلوی کے ہم آہنگ الفاظ کو آمنا سامنا کر کے لغت کی شکل میں ترتیب دیا جس کے ایک حصے کو جناب استاد اشرف سربازی نے بلوچی فارسی میں ماہتاک بلوچی شائع کروایا۔
بلوچی زبان کے شعر ا، ادبا،دانشور اور دیگر استادان گرامی نے جتنے بھی خطوط ارسال کیے ۔ ان خطوط کے اہم حصے کو کتابی شکل میں تیار کر رکھا ہے (چھپائی کےلئے تیار ہے ۔) حانی و مرید،شہداد و مہناراور دیگر کئی اشعار عرق ریزی سے جمع کیے ۔اس کے علاوہ قدیم اشعار کی تلاش اور باز یافت کےلئے سینکڑوں میل کی مسافرت کرتے رہے ۔ اس شخص تک پہنچنے کےلئے وہ اپنی انتھک کوشش کرتے اور مطلوبہ گوہر مراد حاصل کر لیتے۔ایک مشہور شعر جو ”تولگ شعر “ کے نام سے معروف ہے اس کی تلاش میں رہے ۔ لیکن کسی طرز پر بھی ایسا شخص نہیں ملا جسے یہ شعر اصلی لفظوں میں یاد ہو ۔بہت تلاش اور جستجو کے بعد معلوم ہوا کہ ایک شخص بنام دلمراد کو یہ شعر حفظ ہے ۔وہ اس کی ٹوہ میں رہے ۔آخر معلوم ہوا کہ وہ شخص جیل میں قید سزا کاٹ رہا ہے۔ پروفیسر خالقداد آریا نے عدالت سے خصوصی اجازت نامہ لے کر جیل میں اُس سے ملاقات کی اور اُس کی آواز شعر کے قالب بذریعہ ٹیپ ریکاڈر محفوظ کیا۔
خمینی انقلاب 1979کے بعدانہوں نے ایک رسالہ بنام ”ماہتاک مکران “شائع کیا۔ ابھی صرف دو ہی شمارے چھپ چکے تھے کہ حکومت نے بندش لگادی۔ انہوں نے وزارت اطلاعات کو عرضی دی حتیٰ کہ نام تبدیل کر کے ماہنامہ بلوچی کا ڈیکلیریشن مانگا لیکن وزارت اطلاعات نے اجازت نہیں دی ۔انہوں نے رسالہ کےلئے عمر کے آخری دنوں تک جدوجہد کی تاکہ اس خطے میں اپنی قومی زبان کے رسالہ کا اجرا ہو مگر وہ اپنی کوشش میں نامراد رہے ۔ فارسی ادب کے خرمنگستان اور مرکز دارت المعارف بزرگ اسلامی ایران میں بلوچی ادب اور زبان کے تمام مواد کو صحیح کرنے میں مدد گار رہے اور بلا معاوضہ کام کرتے رہے۔ اسی مرکز میں انہوں نے بلوچی ادب کو یکجا کر کے ان سے کہا کہ اس کا نام تاریخ بلوچستان رکھ دی جائے لیکن ادارہ کے دیگر فارسی ادیب جو کہ سرکاری پالیسی کے تحت کام کر رہے تھے انہوں نے تاریخ بلوچستان کا نام رد کر کے فیصلہ کیا کہ اس کا نام بلوچ تاریخ فرہنگ رکھ دیں ۔ اب تک یہ کتاب شائع نہیں ہوئی۔
پروفیسر خالقداد آریا تحقیق اور جستجو بلوچی ادب تاریخ ثقافت کے لیے مشرقی بلوچستان بھی تشریف لے گئے۔ کوئٹہ میں عبداللہ جان جمالدینی ، عطا شاد، عبداللہ بلوچ اور دیگر ادباﺅ شعر تاریخ دان اور دانشوروں سے ملاقات کی اور تبادلہ خیالات کیا۔
کراچی میں بھی تشریف لے گئے اور وہاں زبان و ادب سے وابستہ لوگوں سے ملے۔ بقول پروفیسر خالقداد آریا یہ دور ے علم وادب کےلئے انتہائی اہم رہے ۔تھران میں بلوچی ادب تاریخ جغرافیہ سے تہذیب ثقافت اور موسیقی سے متعلق جتنے بھی لوگ آتے آریا ان لوگوں کی ہر طرح سے رہنمائی خدمت اور مہمان نوازی کا فرض احسن طریقے سے سرانجام دیتے ۔ان کی خوش اخلاقی اس حد تک ہوتی کہ آنے والا یوں محسوس کرتا جیسے وہ اپنے گھر اور احباب کے درمیان ہے ۔
تھران میں بلوچی زبان کی ہر محفل میں وہ روز اول سے شامل رہے گویا ان کے بغیر دیوان نا تکمیل ہے ۔قومی خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ ایک وفادار بلوچ تھے جو اپنے فرض سے کوتاہی یا غفلت کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بلوچستان میں زبان و ادب کی کسی بھی مجلس کے بارے میں انہیں اطلاع ملتی وہ ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرتے۔ بلوچی ادب کی آبیاری میں ان کا اہم مقام رہا ہے ۔اُسی کی بےکراں محبت اور حوصلہ افزائی کے سبب مغربی بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ادبی جنبش کی آبیاری ہوئی ۔اُن کے دوست اور رفقاءکی بڑی تعداد اپنی اپنی استعداد کے مطابق زبان و ادب کی خدمت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
پروفیسر خالقداد آریا کا تعلق مغربی بلوچستان کے زرخیز اور شاداب خطہ سرباز سے تھا۔ یہ خطہ ہمیشہ سے علم وادب کا گہوارہ رہا ہے۔پروفیسر نے اپنی زندگی کے آخری لمحات بھی سرباز میں گزارے۔وفات کے وقت وہ اپنے آبائی گھر کجدر سرباز میں تھے۔بہانہ حرکت قلب بند ہو جانا ہوا ۔ آپ کی وفات 3اپریل 2011کو ہوئی۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ اپریل 2024

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*