زور کل جھیل پر اڑتے پرندے

قندھار کی زمین پر
نادیہ انجمن کی روح
امن کی تلاش میں
گم ہو گئی ہے
محبت پر لکھے گئے
اس کے گیت
زورکل جھیل پر
پرندوں کی طرح اڑ رہے ہیں
ایک نوجوان افغان لڑکی سوچتی ہے
اس کا محبوب کہاں ہوگا؟
وہ یہ سمجھ چکی ہے
کہ پستے کا پودا
اکیلا نہیں اگتا
وہ سوچتی ہے
میں زورکل جھیل میں
چاند کا عکس کیسے ڈھونڈوں
نوشاق کی چوٹی پر چڑھ کر
چاند کو اتار بھی لائوں
پر رابعہ خضداری کی زمین پر
اب کسی کو بھی
چاند میں محبوب کی شبیہہ نظر نہیں آتی
آج نازو کے لکھے گیت
بین الاقوامی سیاست کا شکار ہوچکے ہیں
ھرات یونیورسٹی کے سب کیمپس
خاموش ہیں
رباب پر بجتی
قدیم افغانی لوک داستانیں
بارود کے دھماکوں میں
دب گئی ہیں
اور پہاڑوں پر گرتی
سورج کی کرنیں
اب امن کا پیغام نہیں دیتیں
کابل پر کالی رات
مزید طویل ہوتی رہتی ہے
افغانستان کی ہوائیں
پیار کی قیمت میں
خون کی بو وصول کر چکی ہیں
سرخ رنگ اس زمین پر
اب ویلنٹائن کی نشانی نہیں رہا
کیونکہ جوانی کی کھیتی
پکنے سے پہلے ہی
کاٹ دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(نادیہ انجمن۔۔۔۔۔۔ افغان شاعرہ جو صرف 25 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ان کی موت سے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا۔ جبکہ عدالت نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا۔)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*