سنگت پوہ زانت

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ماہانہ ادبی نشست "پوہ زانت” 25 فروری 2024 کو العابد ہوٹل پرنس روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ کراچی سے ہمارے سنگت عیسی بلوچ بھی کوئٹہ آئے ہوئے تھے
ہزارہ سیاسی کارکنان کا وفد ضامن چنگیزی کی قیادت میں پوہ زانت میں شریک ہوا اور لیاری سے شاعر عیسی بلوچ صاحب بھی پروگرام میں شامل رہے۔
پو ہ زانت اور بلوچستان سنڈے پارٹی کے بارے میں نئے دوستوں کو آگاہ کیا گیا کہ پوہ زانت سنگت اکیڈمی کی ماہانہ عملی و ادبی نشست ہے جس میں دوست مختلف مضوعات پر اپنی تحریریں پیش کرتے ہیں ان پر بحث ہوتی ہے اور یہ ہر ماہ کے آخری اتوار کو منعقد ہوتی ہے ۔جبکہ بلوچستان سنڈے پارٹی ایک اوپن پلیٹ فارم ہے جس میں دوست مختلف سماجی و سیاسی بحث مباحثہ کرتے ہیں اور ایک نتیجے پر پہنچتے ہیں ۔ بلوچستان سنڈے پارٹی ہر ماہ کے پہلے اتوار کو منعقد ہوتی ہے۔ مذکورہ نشستیں دو دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ منعقد ہورہی ہیں۔

اس کے بعد جاوید اختر کو دعوت دی گئی کہ وہ زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنا مضمون پیش کریں۔ اس نے کہا کہ زبان انسان کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے، ہمارے ہاں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن پاکستان کے بورژوا طبقات ایک ہی زبان اردو کو سرکاری زبان دینے پر زور دیتے ہیں۔
اردو زبان کی حاکمیت کے خلاف جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں احتجاج کیا گیا کہ بنگلہ زبان کو وہاں کا قومی زبان کا درجہ دیا جائے تو نہتے اور معصوم بنگالی طالب علموں کو قتل کیا گیا۔ یہ اکیس فروری کا دن تھا جس میں انتیس بنگالی طالب علموں کو بے دردی سے قتل کیاگیا۔ جس کے بعد یونیسکو نے اس دن کو ماردری زبان کا عالمی دن قرار دیا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سکولوں کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں ذریعہ تعلیم یہاں کی ساری قومی زبانوں میں ہوں۔ جبکہ اردو اور دیگر غیر ملکی زبانوں کو بحیثیت اختیاری مضامین میں پڑھایا جائے۔ ایک قوم کی زبان اور ثقافت دیگر قوموں کی زبانوں اور ثقافتوں پر مسلط کرناناجائز ہے تاکہ تمام اقوام کی زبانیں ثقافتیں بھی ارتقا پزیر ہوں اور آگے بڑھیں۔
اس کے بعد کریم نواز کیسرانڑیں کو دعوت دی گئی کہ وہ آسٹریلیا کے بلوچوں پر اپنی تحقیق سے آگاہ کریں۔ ان کے مطابق آسٹریلیا یہاں سے 12 سے 14 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ پورے براعظم کی آبادی بہت کم ہے کراچی سے بھی کم ۔ انگریز جب آسٹریلیا آئے تو کوسٹل پر آباد رہے کہ اس کے جیوگرافی سخت تھی اس لیے وہ آگے نہیں جا سکتے تھے۔ پھر انگریز اونٹ اور اونٹ والوں کو ہندوستان سے لایا ۔اس میں افغانستان کے پشتون اور بلوچستان سے بلوچ تھے۔ انہی شتر بانوں کے ذریعے پھر وہ آسٹریلیا میں داخل ہوئے۔ انہوں نے وہاں مقامی لوگوں کے ساتھ شادیاں کیں۔ پہلے یہ شادیاں خفیہ تھیں۔ آسٹریلیا میں اونٹوں کو جنگل میں چھوڑا گیا جہاں ان کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی تو ان کو دوسرے ممالک بھیجا جانے لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ آسٹریلیا میں ایک پروگرام کے دوران ان کی ملاقات ایک 60 سال کے مری بلوچ سے ہوئی جن کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ ان کے مطابق زیادہ تر بلوچ آسٹریلیا کے ویسٹ اور ڈیزرٹ ایریا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ 1973 میں جب آسٹریلین گورنمنٹ نے سعودی گورنمنٹ کو اونٹ تحفے میں دیے تو یوسف بلوچ اور اس کی فیملی بھی ان کے ساتھ سعودی چلے گئے۔ ابھی بھی آسٹریلیا میں بلوچ ، پختون اور دوسرے سیٹلر ز موجود ہیں۔
اس پر عیسی بلوچ نے پوچھا کہ بلاشبہ بہت معلوماتی لیکچر رہا وہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہاں کون کون سی زبانیں بولتے ہیں جس پر کریم نواز نے جواب دیا کہ ابرجونیز اور انگریزی زیادہ بولتے ہیں کچھ لوگ ہیں جو بلوچی بول لیتے ہیں جو بعد میں آئے۔
شاہ محمد مری نے پوچھا کہ کیا انہوں نے مذہب رکھا ہوا ہے جس کے جواب میں کریم نواز نے کہا کہ وہاں بہت پہلے ایک مسجد بنائی گئی جو آج بھی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہاں کے بلوچ کسی کے ملازم نہیں ہیں۔ ان کے وہاں بہت چھوٹے چھوٹے بزنس ہیں۔
اس کے بعد ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ماہنامہ سنگت کا ایڈیٹوریل پڑھا ، کہ الیکشن قریبا تمام کیپٹلسٹ ممالک میں یہی نتیجہ دیتے چلے آ رہے ہیں جو 8 فروری کو پاکستان میں آیا۔ الیکشن میں اپنی مرضی کے رزلٹس کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ چار طریقے اپناتا ہے اول وہ الیکشن سے قبل ماحول تیار کرتا ہے جس سے ان کے باہمی ایڈجسٹمنٹ کا مقصد پورا ہو، نمبر دو پولنگ کے دن والی ہیرا پھیری سے تین نتائج کے اعلان اور ووٹوں کے گنتی کے وقت کی ہیرا پھیری اور چوتھی صدر یا سپریم کورٹ کو استعمال کرکے اپنی ناپسندیدہ حکومت کو برطرف کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کو خوب تجربہ ہے کہ کس وقت مداخلت کرنی ہے ۔ اور کوئی الیکشن ایسا نہیںٰ گزرا جس میں مداخلت نہ کی گئی ہو۔
مجبور کیا جا رہا ہے کہ بلو چ نوجوان شہری سیاست ہی ترک کر دیں۔ قرارداد، اجتماعات ، تنظیم ، تحریک اور تقریر کا راستہ بند ہو۔ بلوچستان کے حالیہ ماحول میں شہری سیاست کو دھاندلی سے آو¿ٹ کرنے کا مقصد ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کی آواز بند کرنا ہے۔ سازش یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کو ہانک کر اپنی مرضی کے جنگی میدان میں دھکیل دیا جائے اور پھر انہیں خوب مارا جائے اٹھا لیا جائے کچلا جائے مسخ کیا جائے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ چنانچہ اب حکمران طبقات کی حکمرانی برقرار ہے اور ہم عوام اب آگے چار پانچ برس تک ان کی رعایا بنے رہیں گے ۔ سیاسی ورکرز کو سوچنا پڑے گا کہ جب تک عوام حکمران نہیں بن جاتے اور آج کے حکمران لوگ عوام کی رعایا نہیں بن جاتے، یہ کھیل اسی طرح جاری رہے گا ۔
آخر میں ڈاکٹر ولی جان نے قراردادیں پڑھیں اور سامعین سے منظوری لی۔
یہ اجلاس:
1- الیکشن کے دوران ہونے والی تاریخی دھاندلی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ الیکشن میں ہونے والے بے ضابطگیوں پر صاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور جو عناصر ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
  2- ہدایت لوہار کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ ان کی فیملی سے اظہار یکجہتی کرتاہے۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
 3- چیف جسٹس کے حالیہ فیصلے کو مذہبی رنگ دینے کی مذمت کرتا ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں جماعت اسلامی، تحریک لبیک ، تحریک انصاف کا سیاست میں مذہب کے استعمال کی گھناو¿نی حرکت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔
 4- نئی بننے والی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کو فی الفور ختم کیا جائے۔
 5- سیاست میں اسٹبلشمنٹ کا کردار ختم کیا جائے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو فیصلوں کا حق دیا جائے۔
 6- اٹھارویں ترمیم پر فی الفور عمل کیا جائے۔ صوبوں کو مکمل اور بااختیار نمائندگی دی جائے۔
 7- تعلیم سستی ہو ، عام ہو ، سائنسی ہو ، مادری زبان میں ہو اور تعلیمی ادارے معیاری ہوں 
8- جاگیر داروں پر زرعی ٹیکس لگایا جائے تمام صوبوں بشمول بلوچستان میں زرعی اصلاحات کی جائیں۔
9- اٹھارویں ترمیم کے مطابق گیس، تیل، کاپر، سونا، کرومائیٹ، جپسم ، بینک و بیمہ کمپنیاں صوبائی حکومت کے حوالے کی جائیں۔
10- سٹوڈنٹس یونینزکو بحال کیا جائے۔ ان پر پابندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے
 11- زرعی اصلاحات کا کیس 20 سال سے سپریم کورٹ میں پڑا ہوا ہے اسے کورٹ میں باقاعدہ پیش کیا جائے۔
12- عورتوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے پینے کا صاف پانی، بجلی ، گیس فراہم کی جائے۔ ان کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
13- سرداری نظام کے خاتمے کے لیے نصف صدی سے بلوچستان اسمبلی کی قرارداد قومی اسمبلی میں پڑی ہوئی ہے اسے قومی اسمبلی و سینٹ سے پاس کرا کر آئینی شکل دی جائے۔
آخر میں سیکریٹری جنرل نے اپنے ریمارکس دیئے اور کہا کہ جاوید اختر کا مضمون نہ صرف مطالعاتی و تحقیق پر مبنی مضمون تھا بلکہ جاوید صاحب نے بڑی مہارت سے انٹرنیشل واقعات سے لے کر اس کو پاکستان اور پھر بلوچستان سے جوڑا اور قومی زبانوں پر ایک بھرپور مضمون پیش کیا۔ کریم نواز بلوچ نے آسٹریلیا کے بلوچوں پر بہت مفید اور موثر معلومات ہم تک پہنچائیں ۔ انہوں نے ایڈیٹوریل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد نوجوان مایوس ہوگئے ہیں تاہم ہمیں اپنا گراو¿نڈ خالی نہیں چھوڑنا ہے ، تقریر تنظیم اور تحریر کی آزادی پر مزید زور دینا ہے۔ آخر میں انہوں نے ہزارہ وفد اور عیسی بلوچ سیمت تما م دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور امید کا اظہار کیا کہ ہم سیکھنے اور سکھانے کا یہ عمل اسی طرح جاری رکھیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*