پتلی تماشا

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح گائوں میں پھیل گئی کہ شام کو پتلی تماشہ ہوگا، سب ہی بچے جوان، عورتیں اس تفریح سے خوش تھیں۔ گو کہ یہ پتلی تماشہ وقتاً فوقتاً گائوں میں ہوتا تھا اور پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی کہانی ہوتی، اور اب تو لوگوں کو پتلیوں کی ایک ایک حرکت اور ڈائیلاگ ازبر ہوچکے تھے مگر پھر بھی لوگ ہمیشہ اسی شوق و ذوق سے آتے جیسے یہ پتلی تماشہ پہلی بار ہو رہا ہے۔سب جانتے تھے کہ وہی پرانی کہانی ہوگی، پہلے پتلیوں کا رقص اور پھر ایک بادشاہ کی آمد جسکا نام مرشد شاہ تھا، بھدا، زرق برق لباس میں ملبوس، گلے میں موتیوں کے ہار اور سر پر تاج، اسکا وزیر لمبا پتلی نوکدار مونچھوں والا جسکا نام منمنا وزیر تھا، چند درباری اور دیگر کچھ لوگ۔اور بادشاہ کی آمد کا اعلان کہ ہوشیار گائوں کے بادشاہ تشریف لاتے ہیں۔ جونہی بادشاہ کی آمد کا اعلان ہوتا وہ جھپاک سے اپنے منمنے وزیر کے ہمراہ لوگوں کی تالیوں میں نمودار ہوتا۔ دربار لگتا اور درباری بادشاہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے، نذرانے پیش کرتے اور اپنی اپنی جگہ ایستادہ ہو جاتے۔بادشاہ اپنے درباریوں سے اپنے گائوں کے حالات معلوم کرتا۔ سارے درباری یک زبان ہو کر بتاتے کہ گائوں کا کونہ کونہ چمک رہا ہے، لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں۔ ایسے میں اچانک ایک فریادی روتا ہوا کہیں سے نمودار ہوتا اور چلاتا ”مرشد شاہ پورا گائوں مشکلوں میں گھرا ہے، کہیں کھیت اجڑ گئے، کہیں آگ نے گھر جلا دئیے، کہیں بھیڑیوں نے حملہ کرکے لوگوں کو زخمی کردیا اور کہیں لوگوں کے جانور چوری ہوگئے”۔ بادشاہ پوچھتا یہ کون ہے اور درباری اس فریادی پر پل پڑتے اور بادشاہ کو یقین دلاتے کہ یہ آدمی ہمارے دشمنوں سے تعلق رکھتا ہے۔ بادشاہ فریادی کی بات سے اتنا مکدر ہو چکا ہوتا کہ اپنے منمنے وزیر کو لیکر باہر نکل جاتا اور اعلان ہوتا کہ بادشاہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اس لئے وہ باغیچے میں ٹھنڈی ہوا کھانے چلا گیااور پردہ گر جاتا جب دوبارہ پردہ اٹھتا تو سارے درباری گیت کی دھن پر رقص کرتے نظر آتے اور اس طرح یہ پتلی تماشہ اپنے اختتام کو پہنچتا اور لوگ آپس میں ہنستے کھیلتے گھروں کو چلے جاتے۔
رگھو پتلی باز برسوں سے یہ تماشہ کرتا آرہا تھا، وہ مورتیاں بناتا اور ساتھ ساتھ پتلیاں بھی۔ انہیں بناتا سنوارتا انکا ایسے ہی خیال رکھتا جیسے کوئی باپ اپنی اولاد کا۔اسکے آگے پیچھے کوئی نہ تھا اور اسکی کل کائنات یہی پتلیاں تھیں، مرنے سے پہلے وہ اس پتلی گھر کو اپنے دوست بالے کو سونپ گیا تھا۔ بالا بھی اس دنیا سے جا چکا تھا اور اب یہ کام اسکے بیٹے فیکا اور شالو کر رہے تھے۔ اتنے برسوں میں نہ کوئی نئی پتلی بنی اور نہ ہی نئی کہانی۔ فیکے اور شالو نے جب یہ کام شروع کیا تو انہیں سمجھ میں نہیں آیا کہ رگھو اور بالا کس طرح ہر بار ایک نئی کہانی لے کر آتے تھے اور پھر انہوں نے سوچا کہ لوگوں کو بادشاہوں کی کہانیاں اچھی لگتی ہیں سو اپنی سمجھ کے مطابق ایک کہانی گڑھ ڈالی اور اب برسوں سے یہی کہانی اس گائوں کا حصہ بن چکی تھی،پتلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھیں مگر دونوں بھائی دھاگوں سے باندھ کر، لئی سے انکے بازو چپکا کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔
شام ڈھلنے لگی تھی، لوگ دھیرے دھیرے برگد کے درخت کے گرد جمع ہونے لگے تھے جہاں یہ تماشہ ہونا تھا۔ پتلی گھر بنایا جا چکا تھا، ہمیشہ کی طرح اس بار لوگوں کو گائوں کا حوالدار نظر نہیں آرہا تھا، جو ہر پتلی تماشے میں آتا خاموشی سے تماشہ دیکھتا اور اسی طرح چپ چاپ اٹھ کر چلا جاتا۔ مگر اس کے آنے سے یہ ضرور ہوتا کہ لوگ کچھ منظم ہو جاتے خاص طور پر اس کی پیٹی سے بندھی پستول سے لوگ سہم سے جاتے تھے اور کھل کر اپنی خوشی کا اظہار بھی نہیں کر سکتے تھے۔تماشہ شروع ہوچکا تھا بوسیدہ پتلیاں رقص دکھا چکی تھیں اور بادشاہ کی آمد کا اعلان ہوچکا تھا۔لوگ چونکے اس وقت جب انہوں نے ایک ٹانگ کا بادشاہ دیکھا، نہ اسکے سر پر تاج تھا اور نہ ہی گلے میں ہار۔ درباری اسی طرح سجدہ ریز ہوئے ،اور اس سے پہلے کہ بادشاہ درباریوں سے ”سب ٹھیک ہے” کی رپورٹ لیتا اچانک روتا ہوا فریادی دہائی دینے لگا، بادشاہ اپنی اکلوتی ٹانگ پر کھڑا ہو کر دہاڑنے لگا، درباریوں کو لعن طعن کرنے لگا۔۔۔اور لوگوں کاجوش اور حیرت اس لعن طعن کا ساتھ دینے لگی اور تو اور منمنا وزیر بھی آج سینہ تان کر درباریوں کے خلاف بول رہا تھا۔درباری رو رہے تھے اور بادشاہ انہیں اپنی اکلوتی ٹانگ سے اچھل اچھل کر مار رہا تھا، گائوں والے آوازیں لگا رہے تھے اور مارو سالوں کو اور مارو۔ اور اچانک بادشاہ منظر سے غائب ہو گیا۔ لوگوں کا جوش ٹھنڈا پڑنے لگا انہیں پتہ تھا کہ اب اعلان ہوگا کہ بادشاہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے باغ کی سیر کو جا چکا ہے۔۔۔مگر یہ کیا؟ وزیر تو اپنی جگہ پر تھا، درباری ادھر ادھر پڑے تھے وزیر کا سر اسکے سینے سے لگ گیا تھا۔” میرے دوستوں، آپ سب برسوں سے یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں اور آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس تماشے میں کوئی نئی بات کیوں نہیں آتی۔۔۔آج کے بعد آپکو نئی پتلیاں اور نئی کہانیاں ملیں گی،“ پتلی گھر کے سٹیج پر کپڑے کا گڈا نہ جانے کہاں سے آگیا تھا اور جھوم جھوم کر اعلان کررہا تھا، جس کی آواز بھی بدلی ہوئی تھی اور ہاتھوں کے اشارے بھی۔ اور آج بغیر درباریوں کے رقص کے پردہ گرگیا۔لوگ متجسس تھے کہ یہ کیا ہوگیا، اور ایکدم ایک آدمی بول اٹھا ارے فیکا اور شالو تو یہ بیٹھے ہیں! کیوں کیا ہوا؟ تم دونوں ایسے ڈرے ہوئے کیوں بیٹھے ہو اور یہ تماشہ کون کر رہا ہے؟ ۔تم خود ہی دیکھ لو جاکر اب ہم اگلی بار اس کے ساتھ مل کر یہ تماشہ کریں گے، شالو کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ جب کچھ لوگ پتلی گھر کے پیچھے پہنچے تو دیکھا انکا خاموش طبع پستول والا حوالدار پتلیاں سمیٹ رہا تھا!!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*