عوامی ادبی سنگت کراچی

عوامی ادبی سنگت کراچی کا چوتھا اجلاس ، بدھ دس (10) جنوری 2024کو کراچی آرٹس کونسل میں منعقد ہوا۔
اجلاس کا موضوع تھا “ کارونجھر پہاڑ اور ادب” ، جس کے تحت کارونجھر جبل کی کٹائی کر کے اس کی تاریخی، تفریحی، مذہبی حیثیت کی پامالی پر تحریریں پیش کی گئیں.
سندھو پیرزادہ نے اپنی سندھی غزل پیش کی اس غزل کا اردو ترجمہ سندھو پیر زادہ نے کیا ہے :
غزل
سندھو پیرزادہ

دل کی سسکی ساون بن کر آنکھوں کو بھی رولے ہے
کارونجھر پر مور اڑا ہے مورنی بھی سنگ ہولے ہے

پتھر پتھر آگ بھری ہے دل دل میں اک نعرہ ہے
ویرانے میں تنہا بوڑھا اپنے آپ سے بولے ہے

ایک کہانی پوشیدہ ہے اک تاریخ پرانی میں
روپلو کولھی جیسا کوئی جس کے بھید کو کھولے ہے

کیسی ر±ت ہے کارونجھر کے گھانس کی رنگت سرخ ہوئی
کوئی تو ہو جو تقدیروں کے بند دروازے کھولے ہے

آنسو آنسو روز گرے ہیں عشق کے اس آئینے پر
دل میں اک طوفان بسا ہے لہر لہر ہچکولے ہے

باجے گھنٹی ،پھول بھی رکھے مندر کے دروازے پر
تھر کے اس ویرانے میں جو مہک فضا میں گھولے ہے

ڈاکٹر سحر امداد نے کارونجھر کے پس منظر میں سائیں امداد حسینی کا گیت اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا اور اپنی نظم بھی پیش کی جو کارونجھر کی تباہی پر شدید احتجاج تھی:

امداد حسینی
گیت
کارونجھر کی کور ہو !
مور اڑا اک مور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

پربت پہ بدری چھائی ہے
من مورے نے لی انگڑائی ہے

مورا پِیا گیا کس اور ہو !
جور کرے وہ جور ہو!

سانولا سَلونا میرا پِیا
تم ہو باٹی میں ہوں دِیا

برسے گھٹا گھنگھور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

کارونجھر کی کور ہو !
مور اڑا اک مور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

کارونجھر کی کور ہو !
مور اڑا اک مور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

پربت پہ بدری چھائی ہے
من مورے نے لی انگڑائی ہے

مورا پِیا گیا کس اور ہو !
جور کرے وہ جور ہو!

سانولا سَلونا میرا پِیا
تم ہو باٹی میں ہوں دِیا

برسے گھٹا گھنگھور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

کارونجھر کی کور ہو !
مور اڑا اک مور ہو!
جور کرے وہ جور ہو!

ڈاکٹر سحر امداد حسینی
کارونجھر کا قتل
————————
برستی
تیز بارش میں
امنڈتی گونجتی اودی گھٹاﺅں میں
حسیں پربت کے دامن میں کبھی اپنا بسیرا تھا
وہاں کچھ مور تھے اور مورنی
ان کے” ٹہوکے “تھے
اور قلانچیں بھرتی ہرنیں تھیں
تھر کی سرخ گائے تھی
کاموری بکریاں
اور ڈاچی تھی اور گونرے تھے
اور “عاج کی بانہی” پہنے ایک لاڈی تھی
اور اس کا ایک لاڈا تھا
کارونجھر کی حسیں وادی کو ہم نے ہی بسایا تھا
تپتی دھوپ میں
شعلے اگلتے
تھر کے صحراﺅں کے بیچوں بیچ
ان پہاڑی وادیوں میں
برستی بارشوں میں
کارونجھر کے دامن
پانی سے بھرے
”بھوڈیسر“ کے کناروں پر
“چرمیرو”گیت بھی پہلے پہل
ہم نے ہی گایا تھا!
مگر اب ان پہاڑوں کو مشینیں کاٹتی رہتی ہیں ہردم
اور
بس اک شور پرپا ہے
نہ جانے کون ہیں یہ لوگ ؟!
جو اچانک سے
گھسے ہیں میری وادی میں

اسٹون کٹنگ مشینیں
اسٹون سائنگ مشینیں
ماربل، اسٹون اور گرینائیٹ کٹنگ مشینیں
بھاری بھاری سی ساری مشینیں
کیا آسمانوں سے کہیں ٹپکی ہیں
اس خاموش وادی میں؟!

سینے میں سیاہ ہیرا جڑے
ڈسک کٹر سے وہ
ان حسیں و خوبصورت سے پہاڑوں کو
توڑتے ہیں
کاٹتے ہیں
اور مرے دل پر بھی وہ چیرا لگاتے ہیں

سندر سے پروں والے
چہکتے -چہچہاتے
سب پرندے اڑگئے ہیں
ہرن اور مور سارے ڈر گئے ہیں
اور اب تو یہ عالم ہے
نا میں ہوں
نہ تو ہے
اور نہ وہ ہے !
اور ۔۔۔۔
”رانی بھٹیانی “ کے اِس بہتے پانی میں
نہیں کوئی عکس باقی ہے پہاڑوں کا!

ڈاکٹر فاطمہ حسن نے بھارو مل امرانی کی تازہ شائع ہونے والی دو کتب پر اظہار خیال کیا۔
اور کتاب سے منتخب کارونجھر پر لکھے لوک مزاحمتی دوہوں کے منظوم تراجم اور چندی رام کاایک شعر پیش کیا:
کارو نجھر پر جنگ چھڑ ی ہے اونچا باجے ڈھول
کولہی روپلوللکارے تو گونجے اس کے بول
دیکھ فرنگی فوج پریشاں مت ہو کارونجھر
جب تک رانا کرن ہے زندہ اونچا رکھیو سر
۔۔۔
کارونجھر نہ چھوڑکے جانا جب تک سانس بدن میں آئے
مور جو بولے اس کے اوپر دیپک سا روشن ہوجائے (چندی رام)
۔۔۔۔

کارونجھر پہاڑ:  ادبی و ثقافتی اہمیت
ڈاکٹر فاطمہ حسن

کارو نجھر پر جنگ چھڑ ی ہے اونچا باجے ڈھول
کولہی روپلوللکارے تو گونجے  ا س  کے  بول

دیکھ فرنگی فوج پریشاں مت ہو  کارونجھر
جب تک رانا کرن ہے زندہ اونچا رکھیو سر
فوک شاعری سے ان دو دوہوں اور چندی رام کے مندرجہ ذیل شعر جس کے لئے شیخ ایاز نے لکھا ہے کہ یہ شعر نہیں ہے بلکہ پتھر پہ کھنچی وہ لکیریں ہیں جو کبھی نہیں مٹ سکیں گی۔
کارونجھر نہ چھوڑکے جانا جب تک سانس بدن میں آئے
مور جو بولے اس کے اوپر  دیپک سا   روشن  ہوجائے   (چندری رام)
اس شاعری کا انتخاب میں نے حال ہی میں شائع ہونے والی بھارو مل امرانی سونہڑکی تحقیق اور ترجمے پر مشتمل دوکتابوں ”گیتوں بھرا ریگستان“  اور ”صحرا کے دوہے“ سے کیا ہے ۔محکمہ ثقافت سندھ کی شائع کردہ یہ دونوں کتابیں تھرپارکر اورننگر پارکر ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لوک گیتوں اور دوہوں پر مشتمل ہیں جس میں راجھستان اور کچَھ کا علاقہ شامل ہے۔ہمارے کان ان گیتوں سے مانوس ہیں۔مارواڑی، کچھی اور گجراتی میں صدیوں کا یہ لوک ورثہ سینہ بہ سینہ اجتماعی یادداشت کا حصہ رہا ہے۔اس کا مرتب کیا جانا اور انہیں ترجمہ کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کتابی صورت میں محفوظ ہوکر یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں خصوصاً اگلی نسل تک پہنچ سکے۔بھارومل نے ان کو تلاش کیا،  مرتب کیا اور ان کا صرف ترجمہ ہی نہیں کیا شرح بھی لکھی، جس سے پس منظر میں موجود واقعات اور ان میں مذکور ناموں سے شناسائی بھی ہوئی ہے جو اپنے کارناموں کی وجہ سے لوک ادب میں عوام کی محبت اور عقیدت کااظہار بنے ہیں۔اس طرح اس شاعری کو خطے کی تاریخی اور انتھراپولجیکل حوالے کے طور پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ویسے بھی تاریخ کی گواہی ادب ہی دیتاہے اور عوامی ادب تو غیر جانب دار ہوتاہے۔
ان کتابوں پر عرضِ ناشر کے عنوان سے معتبر دانشور اور تاریخ دان مدد علی سندھی نے جو پیش لفظ لکھا ہے اس میں بتایا ہے کہ بھارومل نے یہ اہم کام سیّد سردار علی شاہ کی ایما پر انجام دیا۔سیّد سردار علی شاہ، جو ا±س وقت صوبائی وزیرثقافت و تعلیم تھے خود بھی ادب اور تاریخ پر دسترس رکھنے کے ساتھ دانشورانہ فکر اور اس کے اظہار پر قدرت کی وجہ سے نہ صرف پہچانے جاتے ہیں بلکہ صوبہ سندھ میں ادب وثقافت کے شعبے میں ان کی خدمات،  اشاعت سے اداروں کو مستحکم بنانے تک غیر معمولی رہی ہیں۔
آج کے حالات میں ان کتابوں کی اشاعت اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس وقت ننگر پارکر کے عوام جن خدشات اور جدوجہد سے گزررہے ہیں، اس میں ان کی آواز اور فکر کو سامنے لانا بہت ضروری ہے۔ان کے تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت پر شب خون مارنے والوں نے سازشوں کی ایک ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس میں انہیں اپنے ماضی کے سورماو¿ں،  دانشوروں اور فنکاروں کی یادیں سہارا دے رہی ہیں اور عملی اقدام پر متحد بھی کررہی ہیں۔
آج کے دور میں حملہ آور جنگ کے لئے تلوار لے کر نہیں آتے نہ للکارتے ہیں،آج کے حملہ آور وہ سرمایہ دار اور سامراجی قوتیں ہیں جو مقامی میر جعفروں سے سازباز کرتی ہیں،انہیں خریدتی ہیں اور پھر بے مول ہماری زمین،دریا،پہاڑ،معدنیات،زراعت،صنعت غرض سب کچھ لے جاتی ہیں۔ان کے ساتھ ہماری شناخت بھی چلی جاتی ہے۔ثقافت جو ادب اور جغرافیہ سے جڑی ہوئی ہے،ماحول جو ادب اور ثقافت کا منبع ہے جب وہی تبدیل کردیا جائے تو پھرکیا بچے گا۔زبان ثقافت کا مظہر ہے۔ہمارے لباس،رسم ورواج وماحولیات پر مشتمل ثقافت صدیوں سے ادب میں یوں محفوظ ہوتی ہیں کہ پہاڑوں دریائوں،پیڑوں پرندوں کے نام صرف نام نہیں رہتے بلکہ علامت بن جاتے ہیں۔ایسی علامات اور استعارے جن میں ہماری تاریخ ایک لفظ یا ایک جملے میں بیان ہوجاتی ہے۔
کارونجھر صر ف ایک پہاڑ نہیں،خطے کی ثقافت کا ایک منبع ہے۔اس سے لوک ادب تخلیق ہوا ہے۔اس میں سورمائوں کی تاریخ بسی ہوئی ہے۔اس کا حسن و جمالیات عشق کے باب رقم کرواتا ہے۔اس کی محبت دھرتی سے وفاداری پیداکرتی ہے۔اس کی عقیدت پرستش کی راہ سجھاتی ہے۔یہ ایک ایسی جہت ہے جسے صحیح معنوں میں یکجہتی کا مظہر کہا جاسکتاہے۔اس کی محبت میں مبتلا صرف مقامی لوگ ہی نہیں پوری پاکستانی قوم بلکہ نوع انسانی ہے۔اسے بچانا اپنے ادبی سرمائے کو بچانا ہے،اپنی تاریخ کو محفوظ کرنا ہے،ثقافت کو دوام دینا ہے اور علم کے کئی شعبوں کو وہ مواد فراہم کرنا ہے جس سے فکر وفن کو تحریک مل سکے۔
سندھ کوئی محدود خطہ نہیں پورا برصغیر ہے۔تہذیب جو سندھو دریا کے کنارے پروان چڑھی ہے۔ا س میں جو اہمیت موہنجودڑو، ہڑپا، گندھارا، مہرگڑھ کو حاصل ہے وہی مقام کارونجھر کا بھی ہے۔ہمیں اپنا صدیوں کا تہذیبی سفر انہی مقامات پرنصب سنگِ میل پر نظر آتاہے جنہیں محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،خصوصاً دانشوروں اور اہلِ قلم کو اس باب میں متحد ہوکراپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔سرمائے کی قوت قلم سے زیادہ تو نہیں۔بھارومل نے اپنی تحقیق سے جو دریچے کھولے ہیں ان کی روشنی میں مزید کام کی گنجائش پیداہوگئی ہے۔مجھے امید ہے کہ وہ خود بھی اپنی اس تحقیقی سفر کو آگے بڑھائیں گے۔  

انجلاءہمیش نے ناہید سلطان مرزا کے ناول “تھر کی سرگوشی “کے پہلا باب کارونجھر پہاڑ وں پر ایک لڑکی “پیش کیا۔
۔۔۔
اجلاس میں انتظامی امور پہ بات ہوئی جس میں طے کیا گیا کہ آئندہ ہونے والے اجلاسوں کی خبر گروپ پہ دے دی جائے تو اراکین اپنے آنے کی تصدیق کریں اور اگر نہ آسکیں تو وجہ لکھ دیں۔یہ بھی طے ہوا کہ اجلاس ہر مہینے کے پہلے ہفتے میں ہوگا ، مزید یہ کہ وقت کی پابندی کا خیال رکھا جائے۔
۔اس اجلاس میں مندرجہ ذیل ممبران نے شرکت کی :
ڈاکٹرسحر امداد حسینی
ڈاکٹر فاطمہ حسن
سندھو پیرزادہ
انجلاءہمیش
یوسف سندھی
شاہ زمان بھنگر
ملوک بگٹی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*