سنگت ایڈیٹوریل ۔۔ مارچ 2024

ہانکی جانے والی جمہوریت

2024کا آٹھ فروری ایک بار پھر مسلح ادارے کی ماتحتی میں عوام پہ حکمرانی کرنے کے معاملہ پر حکمران طبقات کے مابین باہمی ایڈجسٹمنٹ کا دن تھا۔ اسے جنرل الیکشن کا نام دیا گیا ۔ یہ جنرل الیکشن ، یعنی عوام پر حکمران طبقات کے مابین حکمرانی کرنے کے ایڈجسمنٹ کا کھیل ،ہر چار پانچ سال بعد پوری کپٹلسٹ دنیا میں کھیلا جاتا ہے ۔ایڈجسٹمنٹ کے اس کھیل میں شاذونادر ہی اِن طبقات کے علاوہ کوئی شخص دخول پاتا ہے ،یا کامیاب ہوجاتا ہے ۔یعنی الیکشنز کم و بیش ہر ملک میں یہی نتائج دیتے چلے آرہے ہیں جو نتیجہ پاکستان میں 8فروری کو دے گئے۔
پاکستان میں مسلح ادارہ پیروں ، جاگیرداروں، سرداروں ، سمگلروں ،مافیاز،ملاﺅں ، اور سرمایہ داروں پہ مشتمل طفیلی حکمران طبقات کو ایڈجسٹ کرنے کے شعبے میں کافی مہارت رکھتا ہے ۔ اس سلسلے میں وہ چار طریقے استعمال کرتا ہے :
1۔وہ الیکشن سے قبل ایساماحول تیار کرتا ہے جس میں اس کی اپنی مرضی کے لوگ ”منتخب “ ہوں۔
2۔وہ پولنگ کے دن والی ہیرا پھیری کے ذریعے اپنے سکیم کو روبہ عمل لاتا ہے ۔
3۔تیسرا مرحلہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کے وقت کی ہیرا پھیری ہے۔ اور
4۔وہ صدر یا سپریم کورٹ کو استعمال کر کے اپنی نا پسند یدہ حکومت ہی کو برطرف کرواتا ہے۔
”ریاست “کے نام پہ اپنا مکمل جارہ قائم کرنے والے اس ادارے کو خوب تجربہ ہوا ہے کہ کس مرحلے کی مداخلت کرنی ہے ۔ چنانچہ کوئی الیکشن ایسا نہیں گزرا جس میں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔ اور اب تو اس دھاندلی کو چھپانے یا اس پہ آئین و قانون کا پردہ ڈالنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ دن دھاڑے ظاہر ظہور نہ صرف دھاندلی ہوتی ہے بلکہ جس کو جتوانا ہوتا ہے اس سے کروڑ وں روپوں کی رشوت لی جاتی ہے، اعلانیہ ۔ عوامی مینڈیٹ جائے بھاڑ میں۔سرمایہ دارانہ جمہوریت جائے جہنم میں ۔ ملکی اور غیر ملکی مبصرین کی ساری رائے مسترد ۔کسی مغربی ملک نے اعتراض اٹھایا تو اسے منہ توڑ جواب دیا ۔
چنانچہ جب بھی پاکستان میں ہونے والے الیکشنوں کی بات ہو تو ان کا مطلب الیکشن نہیں ،”الیکشن فراڈ “ہوتا ہے ۔ نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ ایسا ہوا، عوامی لیگ کے ساتھ ایسا ہوا، پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ 1958میں تو الیکشن ہاتھ سے جاتا ہوا دیکھ کر ایوب خان کا مارشل لانافذ کیا گیا تھا۔ اگلے الیکشن میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب کو جتوادیا گیا۔اگلے الیکشن ہاتھ سے نکلے تو ملک ہی توڑ دیا گیا ( بنگلہ دیش) ۔ بقیہ پاکستان میں دو صوبوں میں جیتی ہوئی نیشنل عوامی پارٹی کو غدار قرار دے کر، اس کی حکومت توڑ دی گئی اور پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ 1977کے الیکشن ہاتھ سے نکلے تو ضیا کا مارشل لا لگا دیا گیا اور بھٹو کو قتل کیا گیا ۔پھر الیکشن ہوئے اور جب مطلوبہ نتائج نہ آئے تو ایوانِ صدر سول حکمرانی کے خلاف سازشوں کا مرکز بنارہا ۔ 1990کی دہائی میں بار بار وزیراعظم برطرف کیے گئے ۔ پھر بھی منصوبہ پورا نہ ہوا تو مشرف کا مارشل لا لگا۔
اور اب 2024کے الیکشنز میں جب اس ادارے حق میں مثبت نتیجہ نہیں آنے لگا تو اس نے رات بھر ”محنت “ کر کے نتائج بدل ڈالے ۔
مسلح ادارے کی اپنی مکمل حکمرانی مسلط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیٹوں کی واضح اکثریت کسی ایک پارٹی کو نہ دی جائے۔اس ادارے کو ”ہنگ پارلیمنٹ “سب سے اچھی لگتی ہے ۔ صرف اسی صورت میں اُسے مکمل طور پر حکمرانی ملتی ہے ۔ چنانچہ اس بار بھی بڑی ہشیاری اور محنت سے سیٹوں کی ایسی تقسیم کی گئی کہ کوئی جماعت اکیلے حکومت نہ بنا سکے اور مخلوط حکومت کا ہرحصہ ہمہ وقت اُن کی محتاج رہے ۔
ایک بڑا سیٹ بیک یہ دیا گیا کہ بلوچستان میں نیشنلسٹ سیاسی پارٹیوں سے مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ جمہوریت پہ ایک نیا اور مہلک ڈنڈا مارا گیا ہے ۔ مجبور کیا جا رہا ہے کہ بلوچ نوجوان شہری سیاست ہی ترک کردیں ۔ان پہ قرار داد، اجتماع ، تنظیم، اور تحریر و تقریر کا راستہ بندہو۔ بلوچستان کے حالیہ ماحول میں شہری سیاست کو دھاندلی سے آﺅٹ کرنے کا مقصد ابھرتی مڈل کلاس کی آواز بند کرنا ہے۔ سازش یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کو ہانک کر اپنی مرضی کے جنگی میدان میں دھکیل دیا جائے اور پھر انہیں خوب ماراجائے، اٹھا لیا جائے، کچلا جائے، مسخ کیا جائے۔
2024کے الیکشنوں کے ”نتیجے “ میںدو تین ماہ تک جیت کا دعویٰ کرنے والے بھی غضب ناک رہیں گے اور ہارنے والے بھی سڑکوں پردھاندلی دھاندلی پکارتے رہیں گے ۔ اس درمیان طبقاتی تفریق ، برباد کردینے والی مہنگائی ، اور ناقابلِ تصور بے روزگاری بھلا دی جائے گی۔
کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ جمہوریت پسندوں کی جدوجہد سترسال سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی ہے۔ وہ انجینئرنگ یا دھاندلی کی ایک سوراخ بند کرنے لگ جاتے ہیں تو چھت میں دس نئی سوراخیں کھود لی جاتی ہیں۔
مگر ، یہاں ایک بار پھر رک کر سنجیدگی سے سیاست کو دیکھنا ہوگا۔ ۔ فَٹ سے یہ نتیجہ نکالنا سنگین غلطی ہوگی کہ فوری طور پر نام نہاد ہی سہی اپنے اس بنیادی جمہوری مورچہ کو ہی چھوڑ دیا جائے ۔ اور سرکار کی عین منشا کے مطابق ہم ووٹ والی اپنی جدوجہد کا دروازہ بند کردیں۔
ووٹ رعایت نہیں ایک حق ہے ۔ووٹ کا حق لینے اور اس کا تقدس منوانے کے لیے بنی نوع انسان نے لازوال جدوجہدیں کیں۔بادشاہت کے خاتمے اور ون مین ون ووٹ کی خاطر ایک طویل خونی جدوجہد انسان کی ترقی کی شاہراہ کی سنگِ میل کے بطور موجود ہے ۔ انسانیت نے لب نخت اور روز الگزمبرگ کے علاوہ ہزاروں سر قربان کیے ۔ خود اس ملک میں شاہی قلعے اور کُلی کیمپ انہی جہداں عظیم لوگوں کے ٹی بی زدہ جسموں کے مسکن رہے۔ تو کیا ہتھیار پھینک کر عوام کے ووٹ کے حق سے دستبردار ہواجائے ؟۔ رجعتی ریاست غیر پیداواری اخراجات میں کمی نہیں کرتی، ہمسایہ ممالک سے دوستی نہیں کرتی، جاگیرداری کا خاتمہ نہیں کرتی اور قوموں کے حقِ خود اختیاری کے مطالبہ پہ لاٹھی گولی مارتی ہے تو کوئی کمزور سی مزاحمت بھی نہ کی جائے ؟۔ اسٹیبلشمنٹ نامی غیر جمہوری قوت تعلیمی اداروں میں یونین سازی بین کر چکی ہے ۔ تو کیا طلبا کو کیا کہا جائے کہ وہ اس کے خلاف جدوجہد نہ کریں ؟ ۔ٹریڈ یونین کی حالت اُس نے جان بلب کردی ہے تو کیا مزدور اپنے روز مرہ مطالبات سے دستبردار ہوںگے ؟۔ ریاست بالا دست طبقات کی طرفدار ہے تو کیامعدنی مزدور ،ماہی گیر اور کسان اپنی معاشی آزادی کی جدوجہد چھوڑ دیں گے ؟ ۔ صحافت کو مکمل طور پر زرد بنادیا گیا ہے ، تو کیا صحافی خاموش رہیں گے ؟۔ عورتوں کی زبردست تنظیمیں ہوا کرتی تھیں ، انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔ کسانوں کی تحریک برباد کردی گئی ۔ تو کیا ہر عوامی مورچہ خالی کیا جائے ؟ ۔
اور اگر دانشور، اور سیاسی ورکر خاموش بھی رہے تو کیا عام انسان خود پہ ظلم و لُوٹ کے نظام کے خلاف ردعمل نہیں دیں گے؟۔
انسانی وقار خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ ہزاروں بلوچ لاپتہ کیے گئے ہیں۔ مسلح ، غیر مسلح الغرض ہر طرح کی تحریک ابھی تک ناکام رہی ہے۔ تو کیاخیال ہے کہ عوام الناس حرکت، جُہد ، اور ہِل جل کو چھوڑ دیں گے ؟۔ہمارا بچہ بچہ قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔مذہبی اقلیتیں جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ عوام یہ سب کچھ دیکھ کر جلسہ جلوس نہیں کریں گے؟۔
واضح رہنا چاہیے کہ انقلابی لوگ بے شمار محاذوں پہ کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے لیے کسی محاذ کا دروازہ بند کرنے کی حماقت نہیں کرتے۔
یہ بھی نوٹ کر لیں کہ پارلیمانی سیاست ، شہری سیاست ، ماس فرنٹس کی سیاست یا پھر مسلح لڑائی بذاتِ خود منزل نہیں ہیں، یہ محض منزل تک پہنچنے کے راستے ہیں۔ منزل تو انصاف پہ مبنی سماجی نظام کا قیام ہے ۔ کون منزل تک پہنچنے کی اپنی راہوں کو بند کرنے کی غلطی کر سکے گا؟۔
چنانچہ ہم ایک روشن مستقبل کے خواب دیکھنا بند نہیں کریں گے، ہم اس خواب کو پھیلانے اور دھندلا نہ رہنے دینے کے لیے اجلاس و اجتماع منعقد کیا کریں گے۔ اُس اجلاس و اجتماع میں قرار دادیں منظور کیا کریں گے ۔ ایک اجلاس کی تعداد بڑھا کر سو اجلاس تک جائیں گے ۔ عوام کو منظم کرتے رہیں گے ۔ ریاست کی طرف سے پابندیوں کے باوجود، اس کی طرف سے ہم میں دھڑے بندیاں پیدا کرنے کے باوجود، الیکشنوں میں دھاندلیاں کرتے رہنے کے باوجود ،ہمیں ناامید کرتے رہنے کے باوجود، ہمیں غصہ دلاتے رہنے کے باوجود ، ہم جدوجہد کی اپنی راہیں بند نہیں کریں گے۔
بہر حال اس الیکشن میں گدھوں کی گردن میں طوقِ زریں ڈال دیا گیا ہے ۔یہاں سارے ڈون اور دھندا کرنے والوں کو اُن کے آقا نے باہم ملادیا ہے ۔ اور اُن کے بیچ ہم پر حکمرانی کی ایڈجسٹمنٹ کروادی ہے۔چنانچہ اب حکمران طبقات کی حکمرانی برقرار ہے اور ہم عام عوام اگلے تین چار سال تک اس نئی ایڈجسٹمنٹ کی رعایا بنے رہیں گے ۔ اگر ہم اپنی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور سنجیدگی نہیں لائیں گے اور سماجی انقلاب تک پہنچنے کی راہوں سے متعلق کنفیوز رہیں گے تو اگلے پانچ سال، مزید اگلے پانچ سال ،ہم پہ اسی بدقماش طبقے کی حکمرانی رہے گی ۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*